جعلی اسناد پورے ملک کا مسئلہ ہے!

290

اسے کہتے ہیںگھر کی گندی لانڈری پبلک میں دھونا۔ جس کسی نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایر مارشل ارشد ملک کی چٹھی جو انہوں سول ایوی ایشن کو جعلی پائیلٹس کی نشاندہی کے لیے لکھی، وہ میڈیا کو پکڑا دی، اس نے کمال ہی کردیا۔ پی آئی اے کی رہی سہی ساکھ تو مٹی میں مل ہی گئی اور دنیا میں اس قومی اثاثے کی جو درگت بنی وہ علیحدہ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی اداروں کے وقار پر بھی کئی سوالیہ نشان لگ گئے۔اور یہ کب ہوا ؟ جب عمران خان قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کر رہے تھے اور بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ دنیا میں کس طرح پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اور اب پاکستان پر امریکہ وغیرہ میں کوئی انگلیاں نہیں اٹھاتا۔سی این این کے مبصر نے کہا کہ یہ دنیا کی پہلی مثال ہے!
ممکن ہے کہ ارشد ملک صاحب نے اپنی طرف سے شفافیت کا اظہار کرنے کے لیے اس چٹھی کی مشہوری صحیح سمجھی ہو، اور سوچا ہو کہ بڑی واہ واہ ہو گی کے پی آئی اے کس طرح اس گھنائونے جرم سے پردہ اٹھاتا ہے لیکن اس کے سیاق و سباق اور اس کے مشتہر ہونے سے پیدا ہونے والے اثرات کا پوری طرح ادراک نہیں کیا۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ان کی کمپنی ایک بین الاقوامی کمپنی ہے جس کی نیک نامی ہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ یہ کہانی سن کر کتنے بیرونی دنیا کے مسافر اس جہاز میں سفر کرنا پسند کریں گے؟ گر ملک صاحب ذرا تدبر سے کام لیتے اور ساری کاروئی بغیر میڈیا کی شمولیت کے کر لیتے تا کہ جگ ہنسائی تو نہ ہوتی، اور پی آئی اے جسے اس وقت اپنی ساکھ بحال کرنے کی سخت ضرورت ہے، اس دھچکے سے تو بچ جاتی؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ سب کچھ کراچی میں ہونے والے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کے آنے کے بعد ہوا، لیکن اگر اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر بھی ہو تو ضروری نہیں اس کو میڈیا پر نشر عام کیا جاتا۔
اعدادو شمار نہایت شرمناک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، کُل 860 پائیلٹس میں سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ 262 کے لائسنس جعلی ہیں جو تیس فیصد بنتے ہیں۔ جب ۲۸ پائیلٹس کو جوابدہی کا نوٹس دیا گیا تو ۹ نے اعتراف کر لیا۔سوال یہ ہے کہ یہ ہوا کیسے؟ ہوا میں جو خبریں ایک عرصے سے گردش کر رہی ہیں کہ گذشتہ حکومتوں نے خصوصاً پی پی پی نے پی آئی اے میں سفارشی بھرتیاں کروائیں جن میں میرٹ کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا۔ جس نے بھی سفارش کا انتظام کر لیا، اس نے جعلی لائسنس کا انتظام بھی کیا ہو گا تو اسے نوکری مل گئی۔ پی آئی اے نے اپنی طرف سے بھی تربیت دلوائی ہو گی تو وہ جہاز اڑانے کے قابل ہوئے ہوںگے۔ مسئلہ جہاز اڑانے کی اہلیت کا ہی نہیں ہے، لائسنس کا بھی ہے۔ جیسے پاکستان کی سڑکوں پر کتنے ہی کار، بس اور موٹر سایئکل ڈرائیور ہیں جو بغیر لائسنس کے ڈرائیو کرتے ہیں؟ مسئلہ قانونی تقاضے پورے کرنے کا ہے کیوں کہ ایک بین الاقوامی ایر لائین چلانے کے لیے بین الاقوامی قوائد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے۔ اس کا تعلق جہاز کی انشورنس سے بھی ہے اور ان ملکوں کے ضوابط سے جن کے اوپر سے یہ جہاز گزرتے ہیں۔اور پھر ان مسافروں سے جو ایسے جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔اور وہ ملک جہاں یہ جہاز جا کر اترتے ہیں اور وہاں سے دوبارہ پرواز کر تے ہیں۔ان سب ممالک کو جہاز کے کپتان اور اس کے عملہ پر بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ سب تربیت یافتہ ہیں، اور پوری طرح سرٹیفائیڈ ہیں اور لائسنس رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں قومیں اس جہاز کی کمپنی پر بھروسہ کرتی ہیں اور اس ملک پر جس کا وہ جہاز ہوتا ہے۔اب جب ان ملکوں کو پتہ چلے گا کہ پی آئی اے کے تیس فیصد کپتانوں کے پاس جعلی لائسنس ہیں تو کیا وہ پی آئی ا ے کو اپنے ملک کی فضائی حدود میں پرواز کرنے کی اجازت دیں گے؟ ہمیں تو شک ہے کہ پی آئی اے کو بہت سے اعتراضات سننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔عین ممکن ہے کہ جن ممالک میں پی آئی اے جاتا ہے وہ اس خبر کے بعد، کمپنی پر کوئی اضافی شرائط عاید کر دیں؟
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ پاکستان کے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے سر تا پا کرپشن کا شکار ہیں۔ ان میں جو بھرتیاں ہوتی ہیں ان میں اونچے درجے کی سفارش نہ ہو تو رشوت ضرور چلتی ہے۔ مطلوبہ تعلیمی اور تربیتی شرائط محض ایک رسمی کاروائی ہوتی ہے جس کے لیے امیدوار کے پاس سرٹیفیکیٹ ہونا چاہیے۔ تھوڑے پیسے زیادہ دینے سے اس کو یہ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ سرٹیفیکیٹ اصلی ہے کہ نقلی۔ غالباً صرف پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ نوکری لینے والوں کو اس مرحلہ سے گذرنا پڑتا ہو گا؟ ابھی زیادہ دیر کی بات نہیں ہے جب حکومت پاکستان نے ارکان اسمبلی کی بی اے کی ڈگری کا تصدیق کروانا ضروری سمجھی تھی اور کتنے ہی ایم این اے جعلی ڈگری کے حامل نکلے تھے۔
یہ چند برسوں کی بات ہے کہ سندھ میں حکومتی عہدوں پر سندھیوں کی تعداد کم ہوتی تھی اور زیادہ تر اردو دان سرکاری سیٹوں پر بیٹھے نظر آتے تھے۔ مسئلہ پڑھائی کا تھا ۔ سندھیوں میں تعلیم یافتہ افراد کی کمی تھی جو سرکاری نوکری حاصل کر سکتے۔پی پی پی نے اس کا جو حل نکالا وہ انوکھا تھا۔ حل یہ تھا کہ بچوں کو کم از میٹرک تک پڑھائی میں کمزوری کی وجہ سے فیل نہ کیا جائے۔ اگر وہ نقل مار کر امتحان پاس کرلیں تو کوئی بات نہیں۔ اگر استادوں کو ڈرا دھمکا کر امتحان پاس کریں تو آنکھیں پھیر لو۔ اگر وہ نقلی سرٹیفیکیٹ لے آئیں تو کچھ نہ کہو۔ یہ سب اس لیے کہ صرف یہ وہ ایک طریقہ تھا جس سے سندھیوں کو حکومت میں مناسب نمائندگی ملے گی۔اس پالیسی سے سندھی تو حکومت میں خوب بھرتی ہوئے لیکن کام کرنے والوں کی قابلیت اور اہلیت پر سوال اٹھنے لگے۔جعلی سرٹیفیکیٹوں کی وباء سارے ملک میں پھیلی۔ لوگ چند ہزار روپے دیکر ہر قسم کی ڈگری خریدنے لگے۔اب اگر پی آئی اے میں جعلی لائسنس والے پائلٹس پکڑے گئے ہیں تو یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں۔ آپ کسی بھی سرکاری شعبہ میں جا کر دیکھ لیں تو وہاں بھی بیس سے چالیس فیصد جعلی ڈگریاں اور لائسنس اور سرٹیفیکیٹ ملیں گے۔
راقم کو یاد ہے کہ گجرات یونیورسٹی میں، جب وہاں کام کر رہا تھا، ایک صاحب فزکس کے پروفیسر بن کر آگئے۔ کہتے تھے کہ انہوں نے انگلینڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی تھی۔ ان کی چال ڈھال، لباس اور بات چیت سے کوئی شبہ نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ جب یونیورسٹی نے قاعدے کے مطابق ان کی اسناد کی تصدیق کروائی تو انہیں بھاگتے ہی بنی۔ ان کے پاس کوئی حقیقی ڈگری نہیں تھی۔اس لیے کہ اگر وائس چانسلر صاحب اور رجسٹرار اوپر کی آمدنی سے شوق رکھتے تو ان کی نوکری پکی تھی۔
مسئلہ یہ ہے کہ سارا ملک ان جعلی ڈگری اورسند یافتہ سے بھرا ہوا ہے۔ جس سرکاری محکمہ کے افسران کا محاسبہ کر کے دیکھ لیں بیس، تیس، چالیس فیصد ملازمین جعلی سند یافتہ نکل آئیں گے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کرپشن کا یہ ثمر ملک میں فراواں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے نمٹا کیسے جائے؟ ہمیں یقین ہے کہ جہاں چاہ وہاں راہ۔ کئی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، مثلاً جعلی سندوں والوں کو موقع دیا جائے کہ وہ خود ملازمت چھوڑ دیں ۔ ورنہ اگر حکومت کی چھان بین کے بعد اگر کوئی پکڑا گیا تو اس کو جیل کی سزا ملے گی۔ لیکن اور ضروری امر یہ ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے ان افراد کی چھان بین کی جائے جن کی جعلی سند یا لائسنس سے کئی لوگوں کی جان خطرہ میں ہے۔ پی آئی اے کے پائیلٹس کے علاوہ اور لوگ بھی جن کی غفلت سے جہاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جیسے گرائونڈ انجینئر جو جہاز کی اڑنے کی صلاحیت کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں۔ وہ سینکڑوں ملازمین جن کی ذرا سی غفلت اور لا پرواہی سے کوئی بھی جہاز اڑان کے وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔ سینکڑوں جانیں ان کی وجہ سے خطرہ میں پڑ سکتی ہیں۔
زمینی ٹرانسپورٹ میں ہر وہ ڈرایئورجو بس، ٹرک، ٹیکسی، اور کوئی بھی ا ٓٹو چلاتا ہے جس میں سواریاں بیٹھتی ہیں، ان سب کے لائسنس کی تصدیق کی جانی چاہیے۔ حالانکہ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنا ڈرائیونگ لائسنس بغیر ٹیسٹ دیئے ، کچھ دے دلا کر حاصل کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں ان کی اہلیت کا اندازہ کسی اور طریقے سے بھی لگانا چاہیئے۔اور وہ کاریگر جو بس، ٹرک یا کار کی درستگی کی ضمانت دیتے ہیں۔ در حقیقت، پا کستان میں ابھی تک بسوں اور ٹرکوں کی سالانہ انسپکشن کا انتظام نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال کتنی جانیں ایسی گاڑیوں کی بریک خراب ہونے سے ضائع ہو جاتی ہیں۔اسی طرح جو لوگ کشتی را نی کرتے ہیں جن کی کشتیوں میں بہت سی سواریاں ہوتی ہیں، ان کی مہارت کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیے۔
تمام وزیروں، مشیروں اور اور انکے اہلکار جو پبلک سروس کمیشن سے نہیں بھرتی ہوئے، انکی اسناد کی تصدیق ہونی چاہیے۔ میڈیکل اور ہیلتھ شعبہ کے کارکن جن میں ڈاکٹروں کے علاوہ، فارماسسٹ، نرسیں، اور ٹیکنیشینز کی اسناد کی تصدیق کی جائے۔ خصوصی طور پر جو پرایئویٹ پریکٹس میں مشغول ہیں۔ بلڈنگ انسپکٹرز کی اہلیت کی اسناد کی تصدیق کر نے سے ہر دوسرے دن عمارتوں کے گرنے کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔یہ لسٹ سرسری ہے۔ محکمہ محنت زیادہ بہتر لسٹ بنا سکتا ہے اگر وہاں بھی جعلی ڈگریوں والے افسر نہ بیٹھے ہوں۔
یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس ملک میں ہزاروں، لاکھوں یونیورسٹی کے مستند گریجویٹ بے کار پھر رہے ہوں وہاں ان کی جگہ جعلی ڈگریوں والے عیش کر رہے ہیں۔ حکومت کو فرصت ملے تو ان سب جعلی سندوں والوں کو فارغ کر کے واقعی تعلیم یافتہ نو جوانوں کو کام پر لگایا جائے۔
در اصل پاکستان میں یا تو مختلف مہارتوں کے سٹینڈرڈز نہیں ہیں یا ان پر عمل نہیں کروایا جاتا اور ان سے صرف رشوت لینے کی آسانی ہوتی ہے۔جیسے نا جائز تجاوزات۔ سب اہل کار جانتے ہیں کہ تعمیر ناجائز جگہ پر ہو رہی ہے۔ لیکن دے دلا کر قانونی کاروائی پوری کر دی جاتی ہے اور جو ناجائز رقم ملتی ہے وہ سب متعلقہ اہل کاروں کو بانٹی جاتی ہے تا کہ کوئی نہ بول سکے۔خریدار کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ نا جائز تعمیر کبھی بھی ان سے چھینی جا سکتی ہے اور گرائی جا سکتی ہے۔صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں مفاد عامہ سے متعلق ہر شعبہ میں سٹینڈرڈز بنائے جاتے ہیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔ ان میں بلڈنگ کوڈ سے لیکربجلی سے بننے والی اشیاء پر، پلمبنگ، کارپینٹری، پانی کی فراہمی، عمارتوں میں آگ سے بچنے کے انتظامات، خوراک میں ملاوٹ اور اس کے نقصان سے پاک ہونے کی ضمانت، پینے کے پانی کو جراثیم سے پاک ہونے کی ضمانت، غرضیکہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز جس کا عوام کی فلاح اور بہبود سے تعلق ہے، اس پر سٹینڈرز بنائے گئے ہیں۔پاکستان میں اول تو سب سٹینڈرڈز ہیں ہی نہیں اور جو ہیں ان پررضا کارانہ ہی کوئی عمل کرے تو کر لے ورنہ حکومتی مشینری تو صرف اوپر کی آمدنی میں دلچسپی لیتی ہے۔ صدر ایوب کے بھائی سردار بہادر خان نے قومی اسمبلی میںکیا خوب شعر پڑھا تھا جو آج بھی صادق آتا ہے: ہر شاخ پہ الوبیٹھا ہے۔ انجام گلستان کیا ہو گا؟
جاوید سجاد احمد