دنیا کے احمق ترین حکمران

291

ویسے تو دنیا بھر میں سیاسی قیادت کا فقدان پایا جارہا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا ہیجان کا شکار ہو چکی ہے مگر موجودہ دنیا میں مشہور تین احمق ترین حکمران پائے جارہے ہیں جس میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان قابل ذکر ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد پایا جارہا ہے جو دن کو کچھ اور رات کو کچھ بکتے نظر آتے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے الٹے سیدھے نفرتوں اور حقارتوں پر مبنی نعروں،بیانوں اور دعوئوں سے اپنی اپنی عوام کو بے وقوف بنارکھا ہے جس سے پوری دنیا میں تینوں کی رسوائی ہورہی ہے، تینوں کی سیاسی، معاشی اور اخلاقی بے قاعدگیوں سے عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے، تینوں میں فاشزم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، تینوں کا تعصبات کا ایجنڈا ہے جس سے مجوزہ ملکوں میں خانہ جنگی کے آثار پید اہو چکے ہیںجن میں امریکی صدر ٹرمپ نے 2016ء میں اپنی آغاز سیاست میں نسل پرستی کا سہارا لیا جو اب رنگ لارہی ہے کہ سیاہ فاموں اور سفید فاموں میں دوریاں پیدا ہو چکی ہیں حالانکہ اسی ریپبلکن پارٹی کے منتخب صدر ابراہم لنکن نے سیاہ فاموں کی غلامی ختم کر کے آزادی دی تھی، سیاہ فاموں کے خلاف سول وار اور جنگ لڑ کر کے ملک کو متحد کیا تھا، آج اسی پارٹی کا صدر ٹرمپ پورے امریکہ کو سفید فاموں ،سیاہ فاموں اور رنگداروں میں تقسیم کر چکا ہے جس کی بنا ء پر وہ دوبارہ دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب کا امیدوار بن چکا ہے جس سے امریکہ کو بہت زیادہ سیاسی، معاشی اور اخلاقی نقصانات ہونگے۔
وہ ٹرمپ جن کے دادا اور دادی امریکہ میں پناہ گزین ہوئے تھے جو پیشے کے لحاظ سے حجام تھے جن کے بیٹے ٹرمپ کے والد نے رئیل سٹیٹ کا کاروبار کیا جس میں وہ امیر بن گیا، جن کی جائیداد ٹرمپ کو ورثے میں ملی ،آج ٹرمپ دنیا بھر کے جوئوں خانوں، شراب خانوں، عمارتوں، کلبوں اور گالف گرائونڈوں کا مالک ہے جو آج امریکہ میں نئے آباد کاروں کا دشمن بن چکا ہے جو کبھی دیواروں سے دوریاں پیدا کررہا ہے کبھی آئے دنوں ایگزیکٹو آرڈروں سے امیگرینٹس کو خوف زدہ کئے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ نے کورونا جنگ میں لاک ڈائون کی مخالفت کی ہے جس سے آج ان کے پیروکاروں میں وباء پھیل چکی ہے جس میں فلوریڈا، کرولینا، ٹیکساس، ایری زونا سرفہرست ہیں، جس کے باوجود موصوف اپنے انتخابی جلسے اور جلوس نکال رہا ہے جبکہ سرکاری میڈیکل ادارے کرونا وباء کے پھیلنے کا عندیہ دے رہے ہیں لیکن ٹرمپ اور ان کے نسل پرست پیروکار ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی وارننگ پر دھیان نہیں دے رہے جس کی وجہ سے نیویارک کے گورنر کومو نے مجوزہ ریاستوں کے رہائشیوں کو نیویارک داخل ہونے پر قرنطینہ کی پابندیاں عائد کر دی ہے لیکن ٹرمپ لاک ڈائون کا مسلسل مخالف ہے جس سے آج یورپ میں امریکی شہریوں کے داخلے پر پابندیاں عائد ہو چکی ہیں۔
دوسرا بڑا احمق ترین پاکستانی حکمران عمران خان جو ٹرمپ کے نقش قدم پر چل کر جھوٹ بہتان کے حربے استعمال کرتا چلا آرہا ہے جو پہلے دن سے لاک ڈائون کا مخالف ہے جس سے آج پاکستان پہلے بھوک، ننگ، مہنگائی، بیروزگاری کا شکار ہوا بعدازاں عوام کو کرونا کی وباء میں مبتلا کر دیا، آج کسانوں، ہاریوں، مزارعوں کی فصلوں پر ٹڈی دل نے حملہ کر دیا ہے جس سے پورا ملک زمین بوس ہو چکا ہے جن کا فلسفہ عمرانی یہ ہے کہ کورونا میں لوگ گھروںمیں رہ کر بھوکے مر جائیں گے لہٰذا لاک ڈائون جو عین سنت رسول ﷺ ہے کی پروانہ کی جائے حالانکہ ایسے موقعوں پر رسول مقبول ﷺ اور حضرت یوسف ؑ کی حکمت عملی پر کام کر کے عوم کو بھوک اور ننگ سے بچایا جا سکتا ہے جس میں وہ دولت جو اللہ تعالیٰ نے بطور امانت امراء کو دے رکھی ہے اسے لے کر عوام پر خرچ کر دینا چاہیے، عوام کے لیے اشیائے خورونوش مفت بانٹنا چاہئیں، دفاعی بجٹ میں کھربوں روپے دینے کی بجائے فی الحال عوام پر خرچ کرنا چاہیے کیونکہ عوام زندہ ہیں تو پاکستان باقی ہے، عوام صحت مند ہیں تو مضبوط فوج بنے گی، اگر عوام باقی نہ رہے یا بے بس اور لاچار رہے تو فوج بھی کمزور ہو گی، اس لئے آج تمام امیروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور رسہ گیروں سے جائیدادئیں جاگیریں چھین کر غریبوں، بے کسوں، ہاروں اور کسانوں میں تقسیم کر دو جس میں عمران خان کی اربوں، کھربوں کی بنی گالہ، زمان پارک اور زرعی زمینوں کی مالیت بھی شامل ہو جس طرح مدینہ ریاست کے خلفاء راشدین نے کیا تھا کہ جن کے آج تک کوئی محل اور جاگیریں نظر نہیں آتی ہیں، دنیا کا تیسرا بڑا احمق ترین حکمران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہے جس کا نہایت غریب گھرانے سے تعلق ہے جو خود چائے بیچا کرتا تھا جس کو غربت کااحساس ہے مگر انہوں نے اپنی سیاست کی بنیاد نسل پرستی اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر رکھی جس سے آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوری اور سیکولر ریاست بھارت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے یہاں آج اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا جینا حرام ہو چکا ہے جس سے بھارت دنیا بھر میں ایک نسل پرست اور مذہبی ریاست بن کر سامنے آیا ہے جہاں کشمیری عوام کو عقیدے کی بنا پر تسلیم کر رکھا ہے کشمیریوں کی ریاستی آزادی سلب ہو چکی ہے جس سے بھارت سیاسی، معاشی اور اخلاقی طور پر انحطاط کا شکار ہو چکا ہے، بہرحال مذکورہ بالاا حمقوں سے عوام تنگ آچکے ہیں جس میں امریکی اور بھارت عوام شاید اپنے انتخاب میں ان احمقوں سے نجات پا لیں گے مگر پاکستانی عوام پر مسلط حکمران سے نجات بہت مشکل ہے جن کو فوج کی پشت پناہی حاصل ہے جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے۔
رمضان رانا