میرا پیارا پاکستان!!

109

ساری قوم کو 75واں یومِ آزادی مبارک، مگر ٹھہریں قوم کہاںہے؟ قوم کی تعریف ذرا گوگل کر لیں، ہم قوم کی تعریف پر پورے نہیں اترتے، یہ جو میڈیا ہے نہ جہل کا پلندا، یہ بھی ہمیں قوم کہتا ہے، یہ تو امہ کا لفظ بھی استعمال کرتا ہے اس کو خبر ہی نہیں کہ امہ کا انتقال پُرملال ہو چکا بلکہ ہلاکت ہوئی، NATIONALISMتو امہ کو ایک صدی پہلے کھا چکا، اہل قلم کو ان حادثوں کی خبر ہی نہیں ہوتی، اب رہی بات قوم کی تو اٹھارویں ترمیم نے قومیتوں کے درمیان کچھ دھاگے سے بندھی آس بھی ختم کر دی، ہم امریکہ میں رہتے ہیں ہم یہاں سٹی گورنمنٹ کے نظام سے واقف ہیں اس کو سراہتے بھی ہیں ایسا نظام پاکستان میں ہوتا تو فکر کی کوئی بات نہ تھی فرد کی خبر گیری ہورہی ہوتی، اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو بے تحاشا اختیارات دے دئیے، وفاق کمزور ہو گیا اب پنجاب وفاق کو آنکھیں دکھارہا ہے، ہم نے وہ منظر بھی دیکھا تھا کہ بے نظیر کی حکومت تھی اور نواز شریف جو پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تب بھی وفاق اور صوبے میں ٹھنی ہوئی تھی پنجاب وزیراعظم کا استقبال نہ کرتا تھا، یہ ساری شرارتیں فوج کی تھیں مگر جب اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی تو ہم نے لکھا تھا کہ اب پاکستان میں چار پاکستان ہیں اب یہ چار پاکستان سب کو نظر آرہے ہیں، تو قوم تو ہم تھے ہی نہیں پھر وفاق بھی گیا، جو اب اسلام آباد تک محدود ہے۔ زرداری نے یہ اچھا نہیں کیا، پھر یہ بھی ہوا کہ جوتے کے زور پر انیسویں ترمیم بھی پاس کروائی گئی جس پر اب بلاول کو افسوس ہے، جب میثاق جمہوریت ہوا تب بھی کہا تھا کہ پاکستان میں TWO PARTY SYSTEMمتعارف کرا دیا گیا ہے گراس روٹ کی قیادت 1970ء کے بعد سے اس ملک کو میسر ہی نہیں آئی، گراس روٹ قیادت بلدیاتی انتخابات سے آتی ہے یہ انتخابات ایوب خان کے بعد ہوئے ہی نہیں، ہوئے تو وہ سراسر دکھاوا تھے عجب تماشہ ہے کہ جب وحدانی نظام حکومت تھا تو صدر پاکستان کو کلی اختیار تھا جو چاہے کرے اور اب صوبے اتنے بااختیار کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائیں یا نہ کرائیں، صوبے بلدیات کو ان کے اختیارات دینا نہیں چاہتے تو نچلی سطح پر قیادت بھی ابھر نہیں پاتی، سو سندھ اور پنجاب پر دو خاندانوں کا قبضہ ہے۔
یہ سچ ہے کہ قائد کے فرمودات کے مطابق اگر پاکستان چلایا جاتا تو پاکستان کو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا، مگر قائد کے قتل کے بعد حکمرانوں کی نیت کااندازہ ہو گیا، اس بات میں تعجب کی کیا بات ہے کہ قائد سڑک پر طبی امداد کو ترستے رہے محترمہ ان کے چہرے سے مکھیاں اڑاتی رہیں اور ایمبولینس خراب ہو گئی اور قائد نے سڑک پر ہی دم توڑ دیا، محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قائد اور لیاقت علی خان کے درمیان اختلافات تھے اور جب لیاقت علی خان زیارت میں ان کی عیادت کو گئے تو قائد نے محترمہ سے کہا کہ لیاقت یہ دیکھنے آیا ہے کہ میں زندہ ہوں یا نہیں، لیاقت علی خان نے ایک طرف روس کو نظر انداز کر کے امریکہ میں گود میں بیٹھنا پسند کیا تو دوسری طرف قرارداد مقاصد منظور کرا کے ملک کو بنیاد پرستی کے حوالے کر دیا، فوج کا عمل دخل بڑھ گیا اور فوج نے پاکستان کو مکمل طور پر سکیورٹی اسٹیٹ بنا دیا، روزگار، تعلیم، صحت، سماجی بہبود سب ختم بس کشمیر زندہ رہا، وہ بھی فوج کے ہاتھ سے تین بار گرا، کشمیر کا نام لے کر بھارت سے ڈرایا جاتا رہا اور لکھا جاتا رہا کہ ملک کا 80فیصد بجٹ فوج لے جاتی ہے، فوج نے سیاست کو گندا کرنے کے لئے نہ صرف دہشت گرد گروپس کی تشکیل کی بلکہ ان کی حفاظت بھی کی اور ان کو سیاسی حکومتوں کو گرانے کے لئے استعمال بھی کیا، کنونشن مسلم لیگ، نواز لیگ، جونیجو لیگ، ق لیگ، ایم کیو ایم، پی ایس پی، جمعیت علمائے پاکستان، لبیک، تحریک استقلال، تحریک انصاف، باپ ، اور کئی اور سیاسی جماعتیں فوج نے ہی بنائیں اور سرپرستی کی، فوج پر ان کی فنڈنگ کا الزام بھی لگایا گیا اورملک میں چار بار مارشل لاء لگایا گیا، اب ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سنبھالا نہیں جارہا، عجیب بات ہے فوج یہ مسائل پیدا کرتی ہے اور مسائل بگڑ جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو نیوٹرل ہیں ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینانہیں، دس سال سے یہ فوج اپنے ہی پالے ہوئے دہشت گرد مارہی ہے اور مقابلے میں ہمارے جوان بھی مارے جاتے ہیں، فوج ان کے خون پر بھی سیاست کرتی ہے حد یہ ہے کہ اب TTPجو کالعدم دہشت گرد گروپ ہے اس سے فوج خفیہ مذاکرات کرررہی ہے۔ زرداری نے کہا ہے ان کی تفصیل پارلیمنٹ میں لائی جائے تو ان کیمرہ اجلاس بلایا گیا۔ یہ وہ دہشت گرد ہیں جو ہمارے بچوں کے قتل میں ملوث ہیں فوج نے ان کے سرغنہ احسان اللہ احسان کو گرفتار کیااور وہ فوج کی قید سے بھاگ گیا۔
فوج نے عمران کی بے پناہ مدد کی، عالمی رائے عامہ کو بگڑتے دیکھا تو تحریک عدم اعتماد کو کامیاب ہونے دیا اور اس کے برعکس فوجیوں کے ایک سماجی بہبود کے ادارے کو عمران کی حمایت کے لئے آمادہ کر دیا، ان کی قیادت سابق جنرل علی قلی خان کررہے ہیں ان میں اکثر سابق جنرلز بھی موجود ہیں جو عمران کی حمایت کرتے ہیں کچھ حاضر ڈیوٹی جنرلز بھی عمران کے حامی، وہ کہتے ہیں کہ عمران کو دوسرا چانس دیا جانا چاہیے ان میں ایک سابق فوجی کمانڈر حیدر مہدی ہیں جو سوشل میڈیا ACTIVISTبن گئے ہیںوہ عمران کی سپورٹ میں بہت تندہی سے کام کررہے ہیں، آج ان کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا یہ مبینہ طور پر ایک بوٹ چینل معلوم ہوتا ہے ARYپر چلنے والے پروگرام THE REPORTERSکے پروڈیوسر ذیشان اس کو MANAGEکرتے ہیں، لطف کی بات یہ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے چند سابق سفیر بھی تالیاں بجانے میں ان سابق جنرلز کے ہم نوا ہیں، کیاآپ کو کسی ایسے سفیر با تدبر کا نام یاد ہے جس نے پاکستان کے لئے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو، جس طرح ملک کے چار(ر) آرمی چیف ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے کاروبار کے مالک ہیں اسی طرح جج اور سفیر بھی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ یہ عمران کے KEYBOARD WARRIORSہیں جو میڈیا مہم چلاتے ہیں اور گمراہی پھیلاتے ہیں، فوج نے آدھا ملک گنوایا نوے ہزار قیدی بنے تاریخ مسخ ہوئی مگر ایف اے پاس جنرلز کو اس کی پرواہ ہرگز نہیں یہ طاقت کے نشہ میں چور ہیں،ایک ویڈیو میں جنرل باجوہ کی نواز شریف سے ملاقات کی خبر بنائی گئی ہے اور مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ اگلے ممکنہ آرمی چیف اور جوائنٹ کمانڈر چیف کے امیدوار جنرل باجوہ کے ساتھ ہیں یہ ایک FABRICATED STORYہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ فوج کو تنخواہوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور جیسے ہی IMFسے پیسے مل جائینگے فوج اپنے دانت دکھائے گی، پاکستان میں فوج، اشرافیہ مولوی کو پیٹ بھر کر روٹی ملتی ہے، دو کروڑ فاقوں سے مررہے ہیں آدھا ملک سیلاب میں ڈوب گیا مگر جنرلز کے گھر میں نہ بجلی جاتی ہے نہ گیس بند ہوتی ہے، مولوی ان کی سرپرستی میں کام کئے بغیر روٹی توڑتا ہے اقتدار کے لئے اشرافیہ لڑرہی ہے جنرلز جس کو چاہیں گے تاج پہنا دینگے میڈیاڈھول بجائے گا۔