یہ آزادی ہے؟

125

پچھتر برس ہوگئے پاکستان کو آزاد ہوئے، یہ وہ بیانیہ ہے جو حکومتِ وقت سے لیکر ایک عام پاکستانی کا بھی ہے۔
بلاشبہ یہ ایک بہت ہی اہم سنگِ میل ہے۔ پچھتر برس کی زندگی، فرد کی سطح پر، تو دنیا کی آبادی میں سے دس فیصد سے زیادہ انسانوں کو نہیں ملتی۔ سو خوش نصیب ہیں وہ جو انسانوں کی اس اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور طویل عمر پاتے ہیں اور اس کی بدولت اپنی زندگی کے سفر میں ان گنت ایسے سنگِ میلوں سے گذرتے ہیں جو تاریخ ساز ہوتے ہیں۔
میں بھی ان خوش نصیبوں میں ہوں جنہیں مبدائیِ فیض نے طول عمری کی نعمت سے مالا مال کیا۔ سو، اسی خوش بختی کا اعجاز ہے کہ آج، 14 اگست، 2022، کو جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو پاکستان کے پچھتر سال پورے ہونے پر اپنے قلم سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرنے کی سعادت بھی حاصل کررہا ہوں۔
میرے جیسے خوش نصیب اب پاکستان کی بائیس کڑوڑ سے زائد آبادی میں کم کم ہی بچے ہیں جنہوں نے پاکستان کو بنتے، ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آتے دیکھا تھا اور آج اسے پچھتر برس کا سنگِ میل پار کرتے ہوئے بھی دیکھ رہے ہیں۔ میں چھہ برس کا تھا جب اپنے ابا اور اپنی اماں کی انگلی پکڑے میں نے دلی میں اپنے آبائی گھر کو خیرباد کہا تھا اور ایک آزاد پاکستان کی طرف ہجرت کا سفر کیا تھا۔ چھہ برس کے بچے کو عام طور پہ اس کچی عمر کی باتیں زیادہ یاد نہیں رہتیں، ان کے نقوش وقت کے ساتھ دھندلے پڑجاتے ہیں یا معدوم ہوجاتے ہیں لیکن تقسیمِ ہند اور اس تقسیم کے نتیجہ میں ہونے والی ہجرت کے واقعات ایسے غیر معمولی اور تاریخی تھے کہ ان کے نقوش آج بھی، پچھتر برس کی طویل مدت کے بعد بھی، میرے ذہن پر ایسے مرتسم ہیں جیسے وہ سب کچھ کل کی بات ہو۔
ہجرت کا عمل عام طور پہ، عام حالات میں ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، ہجرت ایک زحمت ہوتی ہے لیکن وہ ہجرت جو میں نے اپنی نو عمری میں اپنے کنبے کے ساتھ کی تھی اللہ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی، رحمت کی بات تھی اور شاید اسی لئے یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ پاکستان کی پچھترویں سالگرہ، یا جنم دن، منانے کا حق شاید ہمیں، ہماری نسل کو، ان نسلوں سے زیادہ ہے جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی اسلئے کہ جن صعوبتوں سے ہمیں گزرنا پڑا بعد کو آنے والی، پاکستان میں جنم لینے والی، نسلیں اس سے محفوظ رہیں۔
سو، آج، آزاد پاکستان کی بحیثیتِ قوم اپنی آزادی کے سفر میں ایک بہت اہم سنگِ میل پر پہنچتے ہوئے اور اسے پار کرتے ہوئے، میری نسل کے افراد کو یہ سوال پوچھنے کا حق دیگر پاکستانیوں سے زیادہ پہنچتا ہے کہ ہم نے اس آزادی کا کیا کیا؟ کتنا فیض پایا اس سے؟ کتنا شکر ادا کیا، اور کس طرح ادا کیا، اس مالکِ ازل کا جس نے ہمیں آزادی کی نعمت بخشی تھی اور یہ نہ بھولئے کہ تمام اور نعمتوں سے بڑھ کر آزادی کی نعمت سب سے بڑی، سب سے وقیع اور سب سے زیادہ بیش قیمت ہوتی ہے۔
اس دن، یعنی چودہ اگست، 1947، کو جب ہم نے ایک آزاد مملکت بن کر اپنا سبز ہلالی پرچم اس سرزمیں پر لہرایا جو خدا نے ہمیں عطا کی تھی تو وہ تاریخی دن ایک سنگِ میل تھا اس طویل سفرِ آزادی کا جس کی ابتدا دو صدی قبل بنگال میں پلاسی کی جنگ سے ہوئی تھی اور پلاسی کی جنگ 1757ء میں ہوئی تھی۔ یعنی، بہ الفاظِ دیگر، ہم نے ایک سو نوے برس کی صبر آزما جنگ اور جد و جہد کے بعد آزادی کا سورج ارضِ پاکستان پر طلوع ہوتے دیکھا تھا۔ اور اس ہمت آزما سفر میں کیسے کیسے عظیم لوگ تھے جو اس جنگ میں شریک رہے اور کام آئے۔
ان دنوں، ہمارے دور کی حالیہ تاریخ میں عمران خان کے خلاف جو مہم چلائی گئی اور جس کے نتیجہ میں ان کی منتخب حکومت کا تختہ ایک باقائدہ سازش کے تحت الٹا گیا تو پاکستان کے بچہ بچہ کو دو ملت فروشوں کے نام حفظ ہوگئے ہیں، ایک بنگال کا میر جعفر اور دوسرا سرنگا پٹنم یا میسور کا میر صادق۔ شیرِ سرنگا پٹنم، سلطان ٹیپو شہید کانام تو پھر بھی لوگوں کو معلوم ہے اور کچھ کو یاد بھی رہتا ہے لیکن پلاسی کی جنگ کے ہیرو، نواب سراج الدولہ، جن کا غدار اور ملت فروش سپہ سالار میر جعفر تھا، کا نام شاذ و نادر ہی لوگوں کو معلوم ہے یا یاد رہتا ہے۔ یاد رکھئے کہ ہماری دوصدیوں پر محیط جنگِ آزادی کا پہلا تیر چلانے والا سراج الدولہ تھا۔ اور سراج الدولہ کی نظیر کو چالیس برس بعد تازہ کرنے والا ٹیپو سلطان تھا۔ اگر ہم ملت فروشوں کو یاد رکھتے ہیں، اور یاد رکھنا بھی چاہئے، تو اس کے ساتھ ہی یہ لازم ہے کہ ان حریت کے متوالوں کو بھی یاد رکھیں جن کے خلاف ملت فروشوں نے سازشیں کیں اور وطن کی آزادی کا سودا وطن دشمنوں کے ساتھ کیا، جیسا ہم نے ابھی اپنی آنکھوں سے اس پاکستان میں ہوتے دیکھا جس کی آزادی کی آج ہم پچھترویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
تو ہم نے دو صدیوں کی طویل جد و جہد کے بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بےمثال قیادت میں آزادی کی جو نعمت پائی اس کیلئے ہم نے ایک بہت بھاری قیمت ادا کی تھی اور یہ قیمت ہند کے مسلمانوں کی کتنی ہی نسلوں نے ادا کی تھی، یہ بھی ہمیں نہیں بھولنا چاہئے۔
لیکن پھر اس نعمت کا ہم نے کیا کیا؟
پاکستان کے پچھتر برسوں کا اگرایک اجمالی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کل پندرہ سال ایسے بنتے ہیں جن میں جمہوریت کی بنیادی اقدار کا پاس رکھا گیا اور پاکستان کو جمہوری عمل کے ذریعہ چلایا گیا۔
ان پندرہ برسوں میں ابتدا کے چار سال تھے جو قائد اعظم اور ان کے جانشین قائدِ ملت لیاقت علی خان کی سربراہی میں گذرے۔ لیاقت علی خان کی شہادت، جس کے پیچھے سامراجی سازش تھی اور اس میں معاونت کرنے والے پاکستانی سہولت کار تھے، کے بعد سات برس جمہوریت کی گاڑی رک رک کر، گھسیٹ گھسیٹ کر، بمشکل چلتی رہی اور پھر آمریت کے ایک طویل، ساٹھ برس پر محیط، دور کے بعد عمران خان کی جمہوری قیادت پاکستان کو نصیب ہوئی جو بمشکل ساڑھے تین، پونے چار برس چلی اور پھر اس کی بساط بھی لپیٹ دی گئی۔ تو یہ سب ملاکر بمشکل پندرہ برس بنتے ہیں جن میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی چلتی یا گھسٹتی رہی ورنہ بقیہ ساٹھ برسوں میں سے آدھے عرصے، یعنی تیس برس، چار وردی پوش طالع آزما ملک پر براہِ راست مسلط رہے اور بقیہ تیس برس میں دو رسوائے زمانہ،چور اور خائن، خاندان اپنے سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان پر قابض رہے، اسے لوٹتے اور نوچتے رہے، اور سہولت کار باہر والے سامراجی بھی تھے اور ان کے حلیف وردی پوش بھی تھے جو ان دو خاندانوں کی ڈوریاں پسِ پردہ ہلاتے رہے اور اپنی مرضی کی راہ پر پاکستان کو چلاتے رہے۔
یہ ہے پاکستان کی آزاد مملکت کا خلاصہ جس سے یہ سوال قدرتی طور پہ ذہن میں آتا ہے کہ کیا ایسی ہی آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں بسائے ہمارے جری اور بلند ہمت اجداد نے آزادی کے حصول کی اتنی طویل جد و جہد کی تھی اور ہزاروں، بلکہ لاکھوں، جانوں کا نذرانہ آزادی کی دیوی کی نذر بھی کیا تھا؟
پاکستان کے حصول کی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑنے والے بابائے قوم نے تو ہمارے لئے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا جو نقشہ چھوڑا تھا وہ بہت واضح تھا، بہت روشن تھا، اس میں کوئی ابہام نہیں تھا، کوئی تاریک گوشہ نہیں تھا۔ قائدِ اعظم پاکستان کو اسلام کے بنیادی رہنما اصولوں کی روشنی میں ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن ہم نے پاکستان کو اپنے تاریک اور علم کی روشنی سے محروم ذہنوں کی پیداوار کے غلط دینی عقائد اور نظریات کی لیبارٹری یا تجربہ گاہ بنادیا۔
ہم نے تو قائد کے بنیادی تین رہنما اصولوں کو ہی مسخ کرکے رکھ دیا، ان کی ترتیب الٹ دی، ان کا مفہوم متنازعہ بنادیا۔ قائد نے کہا تھا کہ تم اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم سے اپنی ترقی کی راہ استوار کرو۔ قائد کی ترتیب بالکل درست تھی۔ اتحاد بنیادی ضرورت ہوتی ہے کسی بھی قوم کیلئے۔ پھر اگر وہ اپنی صفوں میں تنظیم پیدا کرلے تو اس میں یقین آجاتا ہے اور یقینِ محکم کے بغیر نہ کوئی سفرکٹتاہے نہ منزل ملتی ہے۔
لیکن ہم نے اپنی جہالت اور گمراہی میں تنظیم کو یقین کے بعد رکھ دیا۔اور اس کا خمیازہ بھگتا۔ یقین کیسے پیدا ہوسکتا ہے، کیسے مستحکم ہوسکتا ہے جب تک قوم میں تنظیم نہ ہو؟
اور ہم نے دیکھا کہ تنظیم سے عاری قوم کیسی ہوتی ہے۔ پاکستان کی سڑکوں پر جس طرح ٹریفک چلتا ہے وہ چلا چلا کر یہ اعلان کررہا ہوتا ہے کہ اس قوم میں تنظیم نام کی کسی شئے کا وجود ہے ہی نہیں۔
ہم نے اپنے عمل کے فقدان اور بد اعمالیوں سے اس نعمت کا کفران کیا جو دستِ قدرت سے ہمیں ملی تھی۔ ہم بھول گئے کہ کائنات کے پیدا کرنے والے کے اصول سرِ مو بھی نہیں بدلتے۔ قدرت کفرانِ نعمت کو معاف نہیں کرتی۔ نعمت کی بے قدری ہو تو وہ نعمت چھن جاتی ہے۔ ہمارے سیاسی طالع آزماؤں نے، چاہے وہ فوج کی وردی میں ہوں چاہے جمہوریت کی قبا میں، اس نعمت کا کفران کیا جو قدرت نے عطا کی تھی اور چوبیس برس میں، قوم کے شباب کے دور میں، ملک کا مشرقی بازو کٹ گیا، اورہم سے چھن گیا، ہم نے اپنی بد اعمالیوں سے اسے گنوا دیا۔ اور ہم یہ بھول گئے کہ آزادی کی طویل جد و جہد کا آغاز اسی مشرقی پاکستان سے، اسی بنگال سے ہوا تھا جو مغربی پاکستان کے طالع آزماؤں اور ان کے سہولت کاروں کی راہ کا کانٹا بن گیا تھا کیونکہ بنگالی ملک کی آبادی میں اکثریت میں تھے اور جمہوریت میں حکومت کرنے کا حق اکثریت کا ہوتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا کہ ہم نے آدھے پاکستان کو تو بنگلہ، یعنی بنگلہ دیش، بنادیا اور بقیہ پاکستان کو کنگال کردیا۔ کون ہے جو آج کے پاکستان کی حالتِ زار دیکھتے ہوئے اس قول کی صداقت سے انکار کرے۔ انکار کرنے والا پاکستان دشمن اور ملت فروش ہی ہوسکتا ہے۔
بہت طویل،طولانی بحث ہے یہ کہ ہمارے اپنے کرتوتوں نے اس نعمت کا کیا حلیہ بگاڑا ہے جو ہمارے اجداد کی قربانیوں کے صلہ میں ہمیں عطا ہوئی تھی۔ بہت دردناک تاریخ ہے ان سیاہ کاریوں کی جنہوں نے پاکستان کو وہاں پہنچا دیا ہے جہاں وہ آج دنیا کیلئے جگ ہنسائی کا سامان بن چکا ہے۔ ملک کی قیادت ان چوروں اور اٹھائی گیروں کے ہاتھ میں ہے جن کی اصل جگہ جیلوں میں ہونی چاہئے لیکن ان کے عسکری سہولت کاروں کی دیا سے وہ پاکستان کے قائد بنے بیٹھے ہیں اور قوم کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ فوج اور وہ فوجی قیادت جس کا پاکستان کی آزادی اور قیام میں رتی برابر بھی حصہ نہیں تھا آج ہی نہیں، بلکہ گذشتہ ساٹھ برس سے ملکی سیاست میں دخیل چلی آئی ہے۔ جمہوریت کی تباہی اور قوم کے فکری انتشار کی سب سے بڑی ذمہ دار یہ عسکری قیادت ہے جس کے ذہنوں کے اس خناس نے کہ اس سے بڑھ کر کوئی پاکستان کا وفادار نہیں، پاکستان کو دو لخت کروایا تھا اور یہی خناس آج ملک کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے۔
اس دردناک حقیقت کی تاریخ بہت طولانی ہے جس نے پاکستانی قوم سے آزادی کی نعمت کا کفران کروایا۔ سالگرہ منانے سے یہ حقیقت تو نہیں بدلتی کہ یہ وہ آزادی نہیں ہے جس کیلئے ہمارے اجداد نے بے مثل قربانیاں دی تھیں اور یہ وہ قوم نہیں ہے جس کا خواب آنکھوں میں بسائے میری اور میرے والدین کی نسل نے اپنے آبائی گھروں سے ایک نوزائیدہ مملکت کی طرف ہجرت کی تھی۔
بحث کو سمیٹنے کیلئے میں نے شاعری کا سہارا لیا ہے اسلئے کہ نظم کے ذریعہ کوزہ میں سمندر کو سمیٹنا ممکن ہوتا ہے۔ سو آزادی کا جشن مناتے ہوئے اس سبز ہلالی پرچم کی پکار بھی سن لیجئے جسے آج آپ اور ہم سلام کر رہے ہیں۔
پرچم کی فریاد یا بپتا
———————–
سبز جو یہ ہلالی پرچم ہے
جس کو آنکھوں سے تم لگاتے ہو
اور عقیدت سے پیار کرتے ہو
اس کو جھک کر سلام کرتے ہو
اس کا تم احترام کرتے ہو

ہاں، مگر، یہ بھی سوچتے ہو کبھی؟
اس کا جو گہرا سبز ظاہر ہے
اس کے باطن میں خون ہے ان کا
پیشرو تھے، جو جد ہمارے تھے
خون بھی ان شہید جانوں کا
جن سے آزادی نے خراج لیا
جن کو آزادی سے محبت تھی
عزم جن کا غلامی سے تھا نجات

سو، انہوں نے بصد خلوص و نیاز
اپنی جانوں کو کردیا قربان
اس تمنا میں کہ تمہارے لئے
صبحِ آزادی نور پھیلائے
اپنی مٹی ہو اور اپنا وطن
جس میں انسان سب برابر ہوں
جس میں ہو احترام انساں کا
جس میں قانون سب برابر ہوں

آج، جب اس ہلالی پرچم کو
تم ادب سے سلام کرلو تو
خود سے یہ پوچھنا نہ بھولنا تم
اپنے دل سے سوال یہ کرنا

کیا سبھی ہموطن برابر ہیں؟
کیا وہاں احترامِ انساں ہے؟
عدل کی حکمرانی ہے کیا وہاں؟
کیا ہے سلطانیء جمہور وہاں؟
کیا جہانگیری واں عوام کی ہے؟

اور اگر ہوں جواب منفی میں
تو پھر اس پرچمِ ہلالی سے
معذرت کرنا، سر جھکا دینا
اپنے اجداد کے لہو کے عوض
اشک دو چار تم بہا دینا!!
————————————————————————————————————