ٹرمپ ایک دوراہے پر!!

434

پیر آٹھ اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پام بیچ فلوریڈا میں رہائش گاہ Mar -A- Lago پر ایف بی آئی کا چھاپہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا اس سے پہلے کبھی کسی سابقہ صدر کے گھر کی تلاشی نہیں لی گئی یہ کاروائی ایک فیڈرل جج کے جاری کردہ سرچ وارنٹ کی بنیاد پر کی گئی اور اسکا مقصد ایسے ٹاپ سیکرٹ کاغذات کے ڈبے سابقہ صدر سے واپس لینا تھا جنہیں وہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے انکا یہ اقدام قانون کی صریحاًخلاف ورزی تھی‘ ایف بی آئی اس سے پہلے جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ سے حساس نوعیت کے کاغذات کے پندرہ ڈبے واپس لے چکی تھی اور اسکے بعد سات ماہ تک سابقہ صدر کے وکیل سے مزید دستاویزات کی واپسی پر مذاکرات ہوتے رہے تھے اس بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کی اجازت سے ایف بی آئی نے چھاپہ مار کر کلاسیفائیڈڈاکومنٹس کے دو درجن سے زیادہ ڈبے اپنے تحویل میں لے لئے اس کاروائی کے بعد ریپبلیکن پارٹی کے غصے اور نفرت میں مزید اضافہ ہو گیا یہ تلخی اورکشیدگی اتنی زیادہ تھی کہ چند دن پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سپورٹر نے اوہائیو میں ا یف بی آئی کے دفتر پر فائرنگ کر کے اسکی عمارت کو نْقصان پہنچایا بعد ازاں اس مسلح شخص کو جسکا نام Ricky Walter بتایا گیا ہے پولیس نے جوابی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے بڑھتے ہوے تشدد کا اندازہ اس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ جس جج نے سابقہ صدر کے گھر پر چھاپے کے وارنٹ جاری کئے تھے اسے بیسیوں دھمکیاں دی جا چکی ہیں دائیں بازو کی ایک ویب سائٹ پر کسی نے اس جج کے بارے میں لکھا ہے I see A rope around his neck ٹرمپ کے حامیوںمیں ریاستی اداروں کے خلاف بڑھتے ہوے اس تشدد میں گذشتہ سال چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
امریکہ میں سیاسی صحافت کی مشہور کمپنی Politico نے انکشاف کیا ہے کہ چند روز پہلے تک ریپبلیکن پارٹی کے نصف سے زیادہ ووٹرز دونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے دستبردار ہونے پر تیار تھے مگر اس چھاپے کے بعد سابقہ صدر کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے Politicoکے ایک حالیہ سروے کے مطابق ریپبلیکن پارٹی کے 83فیصد ووٹرز یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آٹھ نومبر کو ہونیوالے وسط مدتی الیکشن میں ضرور ووٹ ڈالیں گے ان میں سے 75 فیصد کا کہنا ہے کہ اس تلاشی کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کے دشمنوں کا ہاتھ ہے ریپبلیکن پارٹی میں 2024 کے دیگر صدارتی امیدوار یہ کہہ رہے ہیں کہ اس چھاپے نے ٹرمپ کی سیاست کو ایک نئی زندگی دے دی ہےa lifeline This search has completely handed him اس طبقۂ فکر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ میں ایک Victim Card آگیا ہے ایک حالیہ سروے کے مطابق ابVictimhood کا بیانیہ انڈی پینڈنٹ ووٹرز میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے
پاکستان میں عمران خان کی حکومت مارچ کے مہینے میں اپنی بری گورننس: مہنگائی اور ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے خاصی غیر مقبول ہو چکی تھی مگر اپریل میں جب ایک عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے انکی حکومت کو معزول کیا گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے انکی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ان دنوں انہوں نے امریکہ اور پی ڈی ایم کی ملی بھگت کو اپنی حکومت کی معزولی کی وجہ قرار دیکر درجن سے زیادہ جلسے کر ڈالے اب اس ہنگامہ آرائی کے دو مہینے بعد وہ امریکہ سے دوستی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس نئے یو ٹرن کے باوجود وہ وکٹم کارڈ کوبھی مسلسل استعمال کر رہے ہیں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے گھر کی تلاشی کے موقع پر کہا تھا My beautiful home is under siege, raided and occupied. ہم جانتے ہیں کہ ٹرمپ کہانیاں سنانے کا ماہر ہے اسکی مشہور ترین کہانی یہ ہے کہ ساحلی شہروں میں رہنے والی کرپٹ اشرافیہ اور انکی حمایتی اقلیتیںنہایت خود غرض‘ مغرور اور اخلاق باختہ ہیں ٹرمپ اس اشرافیہ کے علاوہ ریاستی اداروں کو بھی نشانے کی زد پر رکھتے ہیں اپنی صدارت کے دنوں میں بھی وہ سی آئی اے‘ ایف بی آئی اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی مخالفت کرتے رہتے تھے ڈیوڈ بروکس نے نیو یارک ٹائمز میں چودہ اگست کے کالم میں لکھا ہے Trump’s political career has been kept afloat by elite scorn یعنی ٹرمپ کا سیاسی کیریئر اشرافیہ سے نفرت کی وجہ سے آگے بڑھا ہے اس نفرت انگیز بیانیے سے متاثر ہو کر اب ٹرمپ کے حمایتی یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ہی وہ طاقتور شخص ہے جو ملک دشمنوں کے خلاف کھڑا ہے اور یہ غدار اب اسکے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے کہ ایک نارمل معاشرے میں جب سیاستدانوں کی تحقیقات ہوتی ہے تو اسکا انہیں سیاسی طور پر نقصان ہوتا ہے مگر ابنارمل معاشرے میں اس قسم کی تحقیقات کے بعد سیاسی اور عدالتی نظام آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اس صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک دشمن تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک ’’ مسیحا‘‘ کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں ڈیوڈ بروکس نے پوچھا ہے کہ اسوقت کیا ہو گا جب عدالتی نظام یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل جانا چاہیئے اور سیاسی نظام یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے وائٹ ہائوس جانا چاہیئے کالم نگار کی رائے میں یہ ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے تو ایک دوراہا ہوگا مگر یہ صورتحال ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوگی جو امریکہ کے جمہوری نظام کو تلپٹ کر دے گا ڈیوڈ بروکس نے کالم کا اختتام ان الفاظ سے کیا ہے کہ انہیں اس طوفان سے بچنے کا کوئی عزت مندانہ راستہ نظر نہیں آ رہا!!