عوام،75سال کی کرپشن کاحساب مانگتے ہیں!

103

پاکستانیوں! خدا نہ کرے،میرے منہ میں خاک۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب لوگ روٹی، دال، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، ملازمتوں، سکول، قابل استعمال سڑکوں، ہسپتالوں اور کلینیک،پینشن، تنخواہ، جیسی ضروریات زندگی کو ترسیں گے۔ ریاست کے تینوں شعبے یعنی انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ، اور سب سے بڑے قومی ادارں پر کرپٹ حضرات کا قبضہ ہو گا۔ کسانوں کو پانی نہیں ملے گا اور نہ کھاد اور نہ بیج یا ان کے پاس انکو خریدنے کی سکت ہو گی۔ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی نا خواندہ ہو گی یا سکول میں تین جماعتوں سے زیادہ نہیں پڑھی ہو گی۔کچھ نو جوان جو ہنر یافتہ ہوںگے، وہ ملک سے باہر جانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کی جستجو میں ہو نگے۔
پاکستان بیرونی دنیا میں اپنی ساکھ کھو چکا ہو گا۔پاکستان کو اس حال پر پہنچانے میں قصور کس کا ہے؟
زیادہ قصور عوام کا ہے یا حکمرانوں کا؟ذرا غور کیجیئے۔جب پاکستان عالم وجود میں آیا، تو اس نو زائیدہ ریاست کو بے پناہ مسائل کا سامنا تھا۔ ان میں سب سے اول ان لاکھوں مہاجرین کو بسانے کا مسئلہ تھاجو لُٹ پٹ کر ہندوستان سے آئے تھے۔ اس نیک کام میں حکومتی ارکان نے بہت پیش رفت کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں ارکان نے اوپر کی آمدن کے بے شمار مواقع بھی ڈھونڈ لیے۔ نئی حکومتوں کے سامنے مسائل کے انبار تھے تو انہوں نے رشوت کے بڑھتے ہوئے رحجان کو ایک ایسی لعنت سمجھا جس کو کبھی بھی قابو میں لایا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں آبادی کی افزائش نے معاشرتی ضروریات کے پہاڑ کھڑے کر دیئے۔ سب سے بڑی ضرورت فوری طور پر سکولوں کی تھی جو نا کافی تھے۔ پھر صحت کے مراکز کی جو نہ ہونے کے برابر تھے۔ سڑکیںیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں یا سرے سے ہی نہیں تھیں۔بہت سے خاندان بے گھر تھے۔ نو جوان بے کار اور سرکاری دفاتر میں سٹیشنری تک نہیں تھی۔ سب سے بڑی بات کہ سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ کی رقم نہیں تھی۔چھ مہینے تک کسی کوتنخواہ نہیں ملی۔ اس اثنا میں نظام حیدر آباد نے ایک بڑی امداد بھیجی جس سے حکومتی کاروبار چل پڑا۔لیکن جس طرف نظر دوڑاتے، چیلنج ہی چیلنج نظر آتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سول سروس نے پاکستان کی انتظامیہ کو سنبھالہ دیا اور نظم و نسق کو چلائے رکھا۔ لیکن چونکہ سارا ملک مسائل کے طوفان سے نبرد آزما تھا، اس لیے رشوت کی لعنت جو پولیس، آبادکاری، کسٹم وغیرہ میں سرایت کر چکی تھی، اس کو نظر انداز کرنے ہی میں عافیت سمجھی گئی۔ جس کی ایک بڑی وجہ سرکاری خزانہ میں آمدنی کی کمی تھی، جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور اخراجات میں کوئی تناسب نہیں تھا۔اور سرکاری ملازمین اپنی تنخواہ کی کمی کو اوپر کی آمدنی سے پورا کرتے تھے۔عوام کی ضروریات بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر تیزی سے بڑھ رہی تھیں اور حکومتی وسائل ان ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر تھے۔اور جتنے پانچسالہ ترقیاتی منصوبے بنائے جاتے ان کا عشر عشیر بھی مکمل نہ ہونے پاتا۔
پاکستان کے بنتے ہی کشمیر پر جنگ ہو گئی۔ اس جنگ کا سب سے دیر پا اور نقصان دہ پہلو تھا کہ پاکستان کی مختصر سی فوج کو بڑھانا پڑا۔ اور سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاعی ضروریات کی نذر ہونے لگا۔زیادہ لوگ غریب تھے۔ ان کی آمدنی یا بہت کم تھی یا غیر رسمی ذرائع سے آتی تھی،جس پر ٹیکس لگانا مشکل تھا۔ چونکہ رشوت کا مرض اب محکمہ مالیہ میں بھی آ چکا تھا، جو حکام ٹیکس اکٹھا کرنے پر مامور تھے، انہوں نے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے اس میں کٹوتی کرنی شروع کر دی یعنی جتنا ٹیکس بنتا تھا اس کو کچھ بھتہ لیکر کم کر دیتے تھے جس سے سرکاری خزانے میں کم رقم جمع ہوتی تھی۔دفاعی اخراجات اور سول سروس کی تنخواہوں اور حکومتی محکموں کو چلانے کے لیے جتنی رقم ضروری ہوتی تھی ، وہ بمشکل اکٹھی ہوتی تھی، اور ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت اندرون ملک سے اور بیرونی اداروں سے قرض لیتی تھی۔ان قرضوں میں سے بھی کچھ بدانتظامی کی وجہ سے اور کچھ بد عنوانیت کیوجہ سے کم ہو جاتا تھا اور تسلی بخش کام نہیں ہوتا تھا۔ سب سے بڑی ضرورت اس بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کا بند و بست کرنا تھا جس کے لیے پانی کی فراہمی ، اور زراعت کا فروغ تھا۔ اسی سے متعلق شعبے حیوانات، اور دودھ کی پیداوار بڑھانا بھی تھے۔ان ساری ترجیحات میں بچوں کی تعلیم اور صحت کہیں پیچھے رہ جاتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان پر اب تک صرف بیرونی قرضہ ۷۰ بلین ڈالر ہو چکا ہے اور اندرونی قرضہ اس سے کہیں زیادہ۔
پاکستان کے عوام نے جو آبادی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے وہ ہمسایہ ملکوں سے مختلف رہا ہے۔ 1951 میں پاکستان کی آبادی (مغربی پاکستان) 33.7 ملین تھی، جو 1972 تک65.3 ملین یعنی تقریباً دو گنی ہو چکی تھی۔ جب 1998 کی مردم شماری ہوئی تو آبادی 132.3 ملین یعنی چار گنا ہ چکی تھی۔ 2017 کی مردم شماری میں یہ آبادی 207.8 ملین ہو چکی تھی یعنی چھ گنا۔ اس اثنا میں ماہرین کا کہنا تھاکہ آبادی 2.4 فیصد کی رفتار سے بڑھی۔ سادہ الفاظ میں ، 1972 میںہر سال تقریباً پندرہ لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا تھا۔ اور 1998 میں یہ اضافہ 32 لاکھ سالانہ پر پہنچ چکا تھا۔ ابھی اگرچہ اس رفتار میں کچھ کمی ہوئی ہے لیکن پھر بھی ہر سال 43.8 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔تازہ ترین تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی آبادی 229.8ملین ہو چکی ہے۔انتہائی شرم کی بات ہے کہ پاکستان کی حکومتوں نے کئی دہائیوں بیرونی امداد خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے لی لیکن اس امداد کو اس کے لیے استعمال نہیں کیا۔
پاکستان نے دوسری اجناس اور اشیائے خورد و نوش میں اتنی ترقی کی ہو یا نہیں لیکن گندم کی کاشت میں پوری توجہ دی۔ 1972 میں 1951 کے مقابلے میں گندم کی پیداوار پونے دو گنا بڑھائی لیکن آبادی دو گنا بڑھی۔اور اس سال پھر گندم کی پیداوار میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے نہ صرف مہنگائی بڑھے گی، اس لیے حکومت کو گندم درآمد کروانی پڑے گی ۔یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ جب کھانے والے منہ ایک رفتار سے بڑھیں اور خوراک اس سے کم تیزی سے تو اس کا نتیجہ مہنگائی ہو گا، یہ تو اصول کی بات ہے۔
مہنگائی کی وجوہات اور بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً بڑے تاجر مال چھپا لیتے ہیں کہ جب قیمتیں بڑھیں تو پھر نکالیں۔ ایسی اشیاء خورد و نوش جو سٹور کرنے سے خراب نہیں ہوتیں۔جو سبزیاں اور پھل سٹوریج میں بھی خراب ہو جاتے ہیں ان کی قیمتیں زیادہ نہیں چڑھائی جا سکتیں۔اس لیے دانشور کہتے ہیں کہ پھلوں اور سبزیوں کی خریداری میں وقفہ ڈال دینے سے قیمتیں کم کروائی جا سکتی ہیں۔حکومتوں کی حکمت عملی بھی اس حالت کی کسی حد تک ذمہ وار ہو تی ہے۔ مثلاً ایسے حالات پیدا کرنا جن میں اشیائے خورد و نوش کی پیداوار بڑھائی جا سکے، ان کی ترسیل اور تقسیم میں آسانیاں پیدا کرنا، بھی حکومت پر منحصر ہے۔اگر متعلقہ ادارے منصوبہ بندی سے عاری ہوںا ور صرف مال بنانے کی فکر میں ہوں تو حکومت کا کام کیسے چلے گا؟
ہماری بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے ماہرین اقتصادیات، عمرانی علوم اور معاشرتی علوم کے موضوعات پر تحقیق نہیں کرتے یا اپنی تحقیق کے نتائج عوام الناس تک نہیں پہنچاتے، جن سے ان کے علم میںاضافہ ہو۔ غالباًاس برتائو میں حکومتی حکمت عملی کا بھی عمل دخل ہے۔ حکومت عوام کو بری خبر نہیں دینا چاہتی۔ خواہ وہ کتنی بھی سچ ہو۔ حکومت عوام کو خواب غفلت سے بیدار نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اگر وہ جاگ گئے تو حکام کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔سب سے ضروری بات کہ جب حکومتی ادارے اور افسران بالا اپنے فیصلے تحقیق اوراعدا د و شمار کے تجزیہ پر نہیں، بلکہ سیاسی اثر و دبائو کے تحت کریںتو ان سے اچھے نتائج تو برامد ہو بھی نہیں سکتے۔
پاکستان کے حکمرانوں کے سر یہ سہرا جاتا ہے کہ پون صدی بیت گئی اور انہوں نے پاکستانیوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے۔ ان میں جمہوری حکمرانوں اور عسکری حکمرانوں کی کوئی تمیز نہیں۔ ان مسائل کی فہرست طویل ہے۔ لیکن چیدہ چیدہ مندرجہ ذیل ہیں:
۔ پاکستانیوں کی برقی ضروریات کا کوئی مناسب حل نہیں ڈھونڈا گیا۔ اور یہ جانتے ہوئے کہ دنیا معدنی ایندھن سے ہٹ کر بجلی کے قدرتی ذرائع کی طرف جا رہی ہے ہم نے اپنے کمیشن بنانے کے لیے ان ذرائع کو نظر انداز کیا۔افسوس کہ آبی بجلی بنانے کے منصوبے بھی کاغذی فائلوں میں پڑے سڑتے رہے، کیونکہ ان میں کمیشن بنانے کے چانسز کم تھے۔
۔ بچوں کی تعلیم کے لیے، سکول نہیں بنائے، اور ان میں اساتذہ کی بھرتی، تربیت، اور سکول کی عمارت کی خامیوں کو کم کرنے کے لیے وسائل نہیں دیے گئے۔اس کا نتیجہ ہے کہ آج بھی کڑوڑوں بچے سکول نہیں جا سکتے۔ اور خصوصاً لڑکیاں جن میں تعلیم کی شدید کمی ہے۔جو بڑی بیرونی امداد تعلیم کے لیے آئی وہ بھی سیاستدان کھا پی گئے۔
۔ آج بھی پاکستان میں وہ بیماریاں پائی جاتی ہیں جنہیں دنیا میں ختم ہوئے کئی برس ہو گئے۔ ان میں پولیو کا نام سر فہرست ہے۔ پھر ڈینگی، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں۔ اس سلسلہ میں جو بیرونی امداد ملی اس کو بھی اپنی جیبوں میںڈال لیا گیا۔
۔پاکستان کے شہروں میں آج تک بارش کا پانی گلی ، کوچوں، بازاروں میں سیلاب کی کیفیت بنا دیتا ہے اور کراچی کا حال اس میں سب سے برا ہے۔اس میں قصور عوام کا بھی اتنا ہے جتنا حکام کا۔
۔ باوجود اس کے کہ پاکستان مستقبل میں پانی کی شدید کم سے دو چار ہونے والا ہے، ان حاکموں نے نہ سیلابوں سے کچھ فائدہ اٹھایا ہے اور نہ بارشوں سے۔
۔ پاکستانی آج گھریلو گیس میں کم کا شکار ہیں۔ حکومتوں کی نا اہلیوں اور لالچ نے پاکستان کو اس اہم ضرورت سے نپٹنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا ہے۔
۔ پاکستانی حکمرانوں نے ملک کے قیمتی اثاثوں سے اس قدر ذاتی فائدے اٹھائے ہیں کہ ان کا بیڑہ غرق ہی کر دیا ہے۔ ان میں پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل ، سر فہرست ہیں۔ان قومی اثاثوں کو سیاسی بھرتیاں کر کر کے اور ان سے نا جائز فائدے اٹھا اٹھا کر انتظامیہ نے انہیںکھوکھلاکر دیا ہے۔
۔ نوجوانوں کے لیے تربیت، اوربا عزت روزگار کے مواقع نہ دے کر اپنے مستقبل کو تاریک بنا لیا ہے۔ اورڈیموگرافک ونڈو سے جو بے بہا فائدہ ہونا تھا وہ موقع بھی گنوا دیا ہے۔
۔ملک میں ایسے حالات نہیں پیدا کیے جن میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر سکتیں۔ اس طرح ملک کی اقتصادی ترقی کو لولا لنگڑا بنا دیا ہے۔
ان سب مسائل پر اعداد و شمار موجود ہیں ، ان کو شامل نہ کر کے اس بیانیہ کو سادہ رکھنا منظور تھا۔ ورنہ یہ سب الزام حقائق سے ثابت کیے جا سکتے ہیں۔ مگرکیا کوئی جواب دے گا؟