شہباز گل کو جیل میں برہنہ کر کے مارا گیا عمران خان کا انکشاف، جیل میں بے رحمانہ تشدد کرنے کا بھی الزام

85

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بتایا ہے کہ اُن کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو جیل میں ننگا کر کے مارا گیا ہے واضع رہے کہ پولیس نے شہباز گل کو گزشتہ دنوں اسلام آباد سے گرفتار کیا اور ان پر تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اگلے ہی روز اسلام آباد کی ایک عدالت نے انھیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔اب بھی وہ جیل میں ہیں اور تادم تحریر اُن کی ضمانت نہیں ہو سکی ہے – شہباز گل کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق ان پر ’بغاوت، ریاست کے خلاف محاذ آرائی، فوج میں بغاوت یا فوجی جوانوں کو بغاوت پر اکسانے اور عوام میں انتشار پھیلانے‘ جیسے الزامات شامل ہیں۔
ان الزامات کی وجہ شہباز گل کا وہ آڈیو بیان بنا جو انھوں نے ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائے پر ایک پروگرام کے دوران دیا۔ اے آر وائے کی انتظامیہ اور چند اینکرز پر بھی ایسے ہی الزامات کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا کہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل اور اے آر وائے کی انتظامیہ نے ’ملی بھگت کے ساتھ ایک سازش تیار کی اور شہباز گل نے اسی کے تحت ایک سکرپٹڈ بیان ٹی وی پر فون کال کے دوران دہرایا۔‘
پولیس نے بدھ کے روز عدالت میں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے انہی الزامات کو بنیاد بنایا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ’شہباز گل سے مبینہ سازش کے حوالے سے شواہد حاصل کرنا درکار ہے۔‘
شہباز گل نے عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے ’اداروں کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ میں نے جو بھی بات کی وہ فوج کی محبت میں کی ہے۔‘
شہباز گل منتخب عوامی نمائندے نہیں ہیں اور نہ ہی انھوں نے تاحال انتخابی سیاست میں براہِ راست حصہ لیا ہے تاہم وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر رہ چکے ہیں۔
شہباز گل پاکستان کی پہلی سیاسی شخصیت نہیں ہیں جن کے خلاف بغاوت’ کے مقدمات درج کیے گئے ہوں۔ چند ایک شخصیات کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف پولیس نے سنہ 2020 میں ’بغاوت‘ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
نواز شریف اور ان کی جماعت کے درجن بھر رہنماؤں کے خلاف درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں فوجی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ’نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی تقاریر میں کُھلے عام عوام کو فوج کے خلاف بغاوت کی ترغیب دی تھی۔‘ نواز شریف لندن میں مقیم ہیں تاہم ان کی صاحبزادی مریم نواز پاکستان میں موجود ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی جاوید لطیف کے خلاف گذشتہ برس ’اداروں کو بُرا بھلا کہنے‘ اور ’نفرت پر مبنی بیانات دینے‘ کے الزام پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔
ان کے خلاف کیس میں بھی زیادہ تر وہی دفعات ایف آئی آر میں شامل کی گئی تھیں جو سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں شامل ہیں۔
شہباز گل کی طرح جاوید لطیف کے خلاف بھی مقدمہ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ لاہور کی ایک عدالت کی جانب سے ان کی قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر پولیس نے انھیں عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔
تاہم چند ماہ جیل میں رہنے کے بعد لاہور ہی کی ایک عدالت نے جاوید لطیف کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ اس وقت وفاق اور صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔
پاکستان کے سینیئر سیاستدان اور سابق ممبر قومی اسمبلی جاوید ہاشمی بھی سنہ 2003 میں اسی طرح خبروں کا مرکز بنے تھے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک خط پڑھا اور صحافیوں میں تقسیم کیا تھا۔
اس خط کا عنوان تھا ’قومی قیادت کے نام‘ اور یہ مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا جو مبینہ طور پر چند نامعلوم فوجی افسران کی جانب سے لکھا گیا تھا۔
اس وقت جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ جاوید ہاشمی کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف ’بغاوت اور فوج کو بغاوت پر اکسانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ان کے خلاف مقدمہ چلا جس کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے انھیں 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
لگ بھگ چار برس جیل میں رہنے کے بعد سنہ 2007 میں سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ جاوید ہاشمی اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر تھے اور نواز شریف نے جاوید ہاشمی کی کوئی مدد نہیں کی –
ماضی کے دیگر مقدمات: راولپنڈی، اگرتلہ سے اٹک سازش کیس تک کی تفصیل بھی آپ کو بتاتے ہیں
پاکستان میں ریاست سے بغاوت کے مقدمات کی فہرست طویل ہے تاہم راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس، حیدرآباد ٹریبیونل اور اٹک سازش کیس ان میں نمایاں ہیں۔
فروری 1951 میں 13 فوجی افسروں اور چار سویلین افراد کو، جن میں میجر جنرل اکبر خان، شاعر فیض احمد فیض اور کمیونسٹ رہنما میجر اسحاق نمایاں تھے، ریاست کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جو بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا۔
15 جون 1951 کو اس مقدمہ کی سماعت حیدر آباد سینٹرل جیل میں شروع ہوئی جو ڈھائی سال تک جاری رہی۔ جسٹس محمد شریف نے اس سازش کے مرکزی کردار میجر جنرل اکبر خان کو 12سال قید کی سزا سُنائی۔ دوسرے تمام فوجی افسروں کو بھی سزا سُنائی گئی۔
سنہ 1955 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپیل میں انھیں بری کر دیا تو چند گھنٹوں بعد انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
اگرتلہ سازش کیس پاکستان کی تاریخ کاسب سے اہم بغاوت کا مقدمہ کہا جا سکتا ہے۔
اس کی کڑیاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام سے ملتی ہیں۔ چھ جنوری 1968 کو حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے 28 افراد کو گرفتار کیا ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان میں فوجی افسر جیسے لیفٹیننٹ کمانڈر معظم حسین اور دوسرے سویلین افراد شامل تھے۔
18 اپریل 1968 کو عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن کو جنرل ایوب خان کے حکم پر گرفتار کیا گیا اور جلد ہی رہا کر دیا گیا لیکن 9 مئی کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔ جون میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی اور 35 افراد پر مسلح بغاوت سے پاکستان کو اس کے ایک حصہ سے محروم کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا۔ سب نے صحت جرم سے انکار کیا۔
تین اگست 1971 کو شیخ مجیب الرحمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا اور فیصل آباد (اس وقت لائل پور) کی ایک جیل میں ججوں کے ایک پینل نے مجیب الرحمن مقدمہ کی سماعت شروع کی جس کا مجیب الرحمان نے بائیکاٹ کیا اور ججوں نے (ایک کے سوا) انھیں مجرم قرار دیا۔ شیخ مجیب الرحمان کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا۔
16 دسبر 1971 کو پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مجیب الرحمن کو پاکستان سے رہا کیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کے پہلے سربراہ حکومت بنے۔
ایک اور اٹک سازش کیس صدر جنرل ضیا الحق کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے جب جنوری 1984 میں 14 فوجی افسروں اور تین سویلینز پر، جن میں وکیل رضا کاظم نمایاں تھے، حکومت کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا اور انھیں اٹک قلعہ میں قید کیا گیا۔ الزام تھا کہ انھیں انڈیا سے سمگل شدہ اسلحہ مہیا کیا گیا تھا۔
14 جولائی 1985 کو 12 ملزموں کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا جبکہ تین ملزموں کو سزا سُنائی گئی اور وہ 1988 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے پر رہا کیے گئے۔
کیا شہباز گل کا مقدمہ مختلف ہے؟
سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں بھی زیادہ تر وہ دفعات موجود ہیں جو اس سے قبل کئی سیاسی شخصیات کے خلاف درج بغاوت’ کے مقدمات میں شامل کی جاتی رہی ہیں۔
تاہم صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ شہباز گل نے جس قسم کے بیانات دیے ہیں اس نوعیت کے براہِ راست بیانات اس سے قبل کسی سیاستدان نے نہیں دیے۔
’اس سے پہلے بھی کئی سیاستدان فوج کے سیاست میں کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن اس طرح کھلے عام فوج میں بغاوت کی بات کرنا یہ شہباز گل سے پہلے کسی سیاستدان نے نہیں کیا۔‘
سلمان غنی کا کہنا تھا کہ یہی وجہ تھی کہ اس سے قبل جتنے سیاستدانوں پر مبینہ ’بغاوت‘ وغیرہ کے الزامت لگے، ان میں انھیں رہائی بھی مل گئی۔ تاہم ان کے خیال میں شہباز گل کے مقدمے میں ’معاملہ زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔‘
سلمان غنی کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ خود شہباز گل کی جماعت میں کئی رہنما ان کے بیانات سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں جبکہ ان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی ان کی جماعت کا کوئی رہنما موجود نہیں تھا۔
کیا شہباز گل کو بھی عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور قانونی ماہر حافظ احسن کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں سیاست دانوں کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات درج ہونے کا معاملہ شہباز گل کے معاملے سے قدرے مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی کے برعکس شہباز گل کے خلاف مقدمہ ایک سرکاری آفیسر یعنی مجسٹریٹ کی شکایت پر درج کیا گیا ہے جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 34، 109، 120، 121، 124 اے، 131، 153 اور 506 کو شامل کیا گیا ہے۔‘ماضی میں سیاست دانوں کے خلاف اس نوعیت کے زیادہ تر مقدمات عام شہریوں کی درخواست پر درج ہوتے رہے ہیں۔ حافظ احسن کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے کہ صرف وفاقی یا صوبائی حکومتیں ہی ’بغاوت‘ کے قوانین کا نفاذ کر سکتی ہیں۔ ’اور مذکورہ مقدمے میں یہ شرط پوری کی گئی ہے۔‘قانونی ماہر حافظ احسن کھوکھر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے خلاف جن 10 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ’وہ تمام سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور اگر استغاثہ عدالت میں ان کو ثابت کر لیتا ہے تو اس کے کافی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘تاہم احسن کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’استغاثہ کے لیے یہ ایک ٹیسٹ ہو گا کہ وہ عدالت میں ان تمام دفعات کے تحت لگائے گئے سنجیدہ الزامات کی سچائی کو ثابت کر پائیں خاص طور پر جب مقدمہ میڈیا میں دیے گئے ایک بیان پر قائم ہوا ہے۔‘