اغواء، مارکٹائی، رات گئے گھروں سے صحافیوں کو اٹھانا، فوج کررہی ہے یا امپورٹڈ حکومت؟

95

جب سے فوجی جرنیلوں کی پشت پناہی کے ساتھ یہ امپورٹڈ حکومت وجود میں آئی ہے پاکستان میں فسطائیت کا دور دورہ ہے۔ اے آر وائی کے صحافی کو ڈرایا دھمکایا گیا تو وہ کینیڈا جا کر بیٹھ گئے۔ آج  کےدن تک صابر شاکر پاکستان آنے سے معذرو ہے۔ ایک اور جرنلسٹ ارشد شریف کے خلاف ایف آئی آرز کٹوائی گئیں اور انہیں عدالتوں کے چکر لگانا پڑے۔ ایک اور سینئر صحافی ایاز میر نے فوج کے خلاف زبان کھولی تو نامعلوم افراد نے انہیں گاڑی سے گھسیٹ کر کُٹ لگا دی اور سڑک پر چھوڑ دیا۔ پھر بول ٹی وی کے صحافی سمیع ابراہیم سے جرنیلوں کے حوالے سے حقائق بیان کئے تو ٹی وی اسٹیشن کے باہر نامعلوم افراد نے ٹھکائی لگا دی لیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ چند جنرلوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ ہر اس چینل اور ہر اس صحافی کو ٹارچر اور ذہنی عذاب سے دوچار کرنا ہے، اس سلسلے میں پہلے ایک صحافی عمران ریاض کو گھر سے نکلنے کے بعد نامعلوم افراد نے اٹھا لیا اور تقریباً ایک ہفتے تک گرفتار کئے رکھا تاکہ تاآنکہ کورٹ نے رہائی کا حکم دیا۔ اس کے بعد اے آر وائی ٹی وی کو آف دی ایئر کر دیا گیا اور یہ کالم لکھنے اور نشر ہونے تک پورے پاکستان میں اس ٹی وی چینل کی نشریات بند ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ عمران خان کی کوریج کیوں کرتا ہے اور پی ٹی آئی کو اپنے چینل میں ٹائم کیوں دیتا ہے۔ نہ صرف اس پر ہی اکتفا کیا گیا بلکہ اے آر وائی ٹی وی کے نیوز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عماد یوسف کو رات کے پچھلے پہر ان کے گھر میںکود کر اغوا کر لیا گیا، نہ کوئی شناخت کرائی گئی اور نہ کوئی وارنٹ دکھایا گیا اور گھر کے اندر دروازہ توڑ کر داخل ہوئے اور کوئی لیڈی پولیس بھی ہمراہ نہیں تھی۔ اس چھاپے اور اغواء سے پہلے پی ٹی آئی کے لیڈر اور عمران خان کے چیف آف سٹاف ڈاکٹر شہباز گل کو تو دہشت گرد کو پکڑنے کے طرز پر گاڑی سے گھسیٹا گیا اور نامعلوم افراد نے انہیں نامعلوم مقام پر پہنچا دیا اور پورا ملک گھنٹوں تک ان دونوں مغویوں کے بارے میں گھنٹوں تک تذبذب کا شکار رہا جبکہ ان کے اہل خانہ کی کیفیت کا اندازہ تو آپ خود ہی لگاسکتے ہیں۔ اسے حسن اتفاق کہہ لیں یا دانستہ کہ یہ چھاپے اور گرفتاریاں اور فسطائیت کے مظاہروں کیلئے ان نو اور دس محرم کے دنوں کا انتخاب کیا گیا جب پوری دنیا میں مسلمان باطل اعظم یزید ابن معاویہ کی فسطائی، ظلم اور جبر اور مظالم کے خلاف امام حسین ؑ کے حق میں یاد منارہی تھی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امپورٹڈ حکومت تو خاموش ہی ہے کہ یہ ان کے بہترین مفاد میں ہے مگر دنیا کی نمبرون خفیہ ایجنسی کا ٹائٹل رکھنے والی پاکستان کی تنظیم یا ادارہ  آئی ایس آئی کہاں غائب ہے، کیوں خاموش ہے؟جنرل باجوہ اور آرمی نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چاہے بے دلی سے سہی۔باقی رہ گئی ملا کریسی تو ڈیزل کے نام نے ملائوں کو قدرے خوفزدہ کر دیا ہے اور اب ان سب کو ہمت نہیں پڑے گی۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ فوج کو بیرکس میں، جج کو عدالت میں اور ملا کو مسجد میں محدود رکھا جائے۔ اب دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وفاق میں کب تبدیلی آئے گی۔ خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ میں سے کسی بھی صوبے میں نواز لیگ یا شہباز شریف یا پی ڈی ایم کی حکومت نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف اس وقت صرف اسلام آباد اور فیض آباد کے وزیراعظم رہ گئے ہیں اور وہ بھی دو ووٹوں کی اکثریت سے۔ ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی والے کھلے عام ٹی وی پر آ کر اپنے پچھتاوے بتارہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے اور تاریخ بھی یہ بتاتی ہے کہ جو پنجاب جیت گیا وہ وفاق جیت گیا۔ گورنر پنجاب مولانا بلیغ الرحمن کا پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھانے سے انکار کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ کرپٹ اور امپورٹڈ حکومت اتنی آسانی سے اقتدار نہیں چھوڑے گی۔