سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ!

76

اے حق کے داعیو! باطل کے سامنے سینہ سپر ہو جانے والو! تمہیں مادر وطن کی آزادی کی سالگرہ مبارک ہو! سلام ان شہیدوں کو جنہوں نے اپنے لہو سے اس مادر وطن کی سرزمین کی آبیاری کی اور اس کے کھیتوں کو ہرا بھرا رکھا۔ سلام ہو ان غازیوں کو جو سرحدوں پر سنگلاخ پہاڑوں کی طرح دن رات ایستادہ رہتے ہیں۔ جن کی وجہ سے قوم چین کی نیند سوتی ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سوبار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا!
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وعدوں کا اپنی حلف برداری کا احترام کرتے ہیں۔ اے قوم! جب تک تجھ میں جذبہ حب الوطنی زندہ ہے باطل قوتیں ہمیشہ پسپائی اختیار کریں گی۔ جیت عوام کی ہو گی۔ یہ چور لٹیرے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ خدا کا عذاب اور قہر ان پر ضرور نازل ہو گا۔ جنہوں نے اس پوری قوم کو مصیبت اور آلام کا شکار کیا اور ان مٹھی بھرفقیروں کوان پر مسلط کیا۔ آج یہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ حق بات کہنے والوں کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان پر جھوٹے کیسز بنائے جارہے ہیں۔ جیلوں میں حبس بے جا میں رکھا جارہا ہے۔ کھانے میں زہر دیا جارہا ہے لیکن کب تک؟ کتنے عرصے تک یہ ظلم ہوتا رہے گا؟ اور وہ لنگور رانا ثناء اللہ قاتلوں کا سردار من مانی کرتا رہے گا؟ ’’سودن سنار کے تو ایک دن لوہارکا ضرور آئے گا‘‘۔دنیا میں سانپوں کی بہت قسمیں ہیں جس میں شیش ناگ سب کا سردار ہے اور اس کی ناگن۔ یہ پھونکیں بھی مارلیں تو انسان جل کر بھسم ہو جاتا ہے۔ مریم صفدر بھی وہی ناگن ہے جو اپنی دولت بچانے کے لئے لوگوں پر زہریلی پھونکیں مارہی ہے۔ اس کی حکومت میں کوئی حیثیت نہیں پھر بھی بہت کچھ اس کے ظالمانہ احکام سے ہورہا ہے اور اس کا ’’انکل‘‘ پرویز رشید اسے سبق دیتا رہتا ہے۔ کون سا چینل کھولنا ہے کون سا بند کرنا ہے۔ کون سے صحافی کو زدوکوب کرنا ہے۔ جیلوں میں ڈالنا ہے۔ یہ سب انکل کے مشوروں سے ہوتا ہے۔ کسے ٹوکریاں بھیجنی ہیں یہ بھی طے ہوتا ہے۔ ابھی عمران ریاض خان کو قید کر کے اذیتیں دی گئیں اور آخر میں زہر دیا گیا اور جب اس زہر کی قسم کی تصدیق کے لئے اُسے دبئی جانا تھا تو اُسے روک لیا گیا۔ اب بھی وہ حق سے ہٹا نہیں۔ جو اُسے کہنا ہے برملا کہہ رہا ہے۔
اب شہباز گل کو اغوا کیا ہے، کیسز بنائے ہیں۔ حبس بے جا میں رکھا گیا ہے۔ پولیس ریمانڈ پر ریمانڈ مانگ رہی ہے جو کہ نہیں ملا۔ شہباز گل کا ڈرائیور بڑے عذاب میں آیا ہوا ہے اُس کی مار پیٹ الگ اس کی بیوی، بچی اور سالے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بچی دس ماہ کی ہے جو دودھ پیتی ہے۔ اُسے ماں سے چھین کر اغوا کر لیا ہے پولیس نے۔ وہ رات بھر بھوکی پیاسی روتی رہی اور صبح جب اس معصوم کو عدالت میں ماں کے ساتھ پیش کیا گیا تو وہ بےسوھ ہوچکی تھی۔ اس پر اس ناگن نے اپنے ظالم گرگوں کو ایک ڈرامائی انداز میں حکم دیا کہ بچی کو فوری رہا کیا جائے! کیا تم ان مصنوعی احکامات سے عوام کی ہمدردریاں جیت لو گی۔ عوام تو شاید معاف کر دیں لیکن اللہ معاف نہیں کرے گا۔ شہباز گل کی فوری رہائی ہونی چاہیے۔ اس نے اپنی تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی جسے اس کی گرفتاری اور ہتھکڑی لگانے کی ضرورت پیش آئی۔ شہباز گل کہاں ہیں کچھ معلوم نہیں؟ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے یہ اللہ کو پتہ ہے۔
یہ مجرمہ ناگن ضمانت پر رہا ہے اور زہر اگلتی پھررہی ہے۔ اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی۔ یہ فوج کو برابھلا کہتی ہے۔ اس کے لئے سب جائز ہے۔ وہ زرداری جو بندر نچانے والے مداری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا ’’فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا‘‘ اور پھر فوری طور پر دبئی سے اینٹیں لینے چلا بھی گیا تھا لیکن خالی ہاتھ واپس آیا۔ یہ مجرموں کا ٹولہ چوری ڈاکے کے مال پر اچھل کود مچارہا ہے۔ دولت کی طاقت ان کے پاس ہے یہ تو اپنی ماں کا کفن بھی بیچ دیں۔ نہ ان میں غیرت ہے نہ حمیت ۔اس کا وہ بیٹا جو نہ زنانی ہے نہ مردانی عقل سے پیدل ہے۔ جس کی ذرا سی دیر میں کانپیں ٹانگنے لگتی ہیں۔ اُسے وزیر خارجہ بنا دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ کا عہدہ کتنا اہم ہے ان عقل کے اندھوں کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔ یہ اپنے ملک میں تو صحیح تقریر نہیں کر پاتا دوسرے ملکوں میں جا کر کیا سفارتکاری کرے گا۔ صرف بھیک مانگے گا کہ اُسے پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔ ادھر مریم نواز بینظیر کی نقل کرتے کرتے مری جارہی ہے تاکہ اپنی اور اپنے باپ کی چوری ڈکیتی کا دفاع کر سکے۔ شہباز اور نواز دو باپوں کے بیٹے ہیں چونکہ نواز کہتا ہے اس کا باپ بڑا بیوپوری تھا اس کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا تھا جبکہ شوباز اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ ایک کسان کا بیٹا ہے۔
او!طلال چودھری تم شاید وہ مار بھول گئے جب تم آدھی رات کو ایک خاتون ایم این اے کے گھر میں گھسے تھے تو اس کے گارڈوں اور بھائیوں نے تمہاری اچھی طرح خاطر تواضع کی تھی تمہاری ہڈی پسلی ایک کر دی تھی اور تم برسوں ہاتھ میں پلاسٹر چڑھائے ہوئے پھرتے رہے تھے اب تمہاری پلاسٹک کی کھوپڑی جس میں بھوسہ بھرا ہوا ہے اس میں عمران خان کو گرفتار کرنے کا شوق جاگ اٹھا ہے۔ تو خواب میں بھی مت سوچنا ورنہ اس کرہ ارض پر تمہارا اور تمہاری پارٹی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
وہ مونچھوں والا لنگور معہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عمرہ کرنے گیا ہے۔ پتہ نہیں مقصد کیا ہے۔ ان کا بھی کچھ لوٹ کا مال وہاں دفن ہے ورنہ اگر وہ اپنے گناہوں کی توبہ کرنے یا مظالم کے داغ دھونے گئے ہیں تو انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ جو کچھ وہ کر چکے ہیں ان اعمال نامہ تیار ہو چکا ہے۔ مظلوم اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ اللہ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گا جنہیں مظلوم معاف نہ کر دیں۔ ماڈل ٹائون کی حاملہ عورتوں کے قاتل اگر تمہیں اپنے انجام کا پتہ چل جائے تو ابھی بے موت مر جائو گے۔ تمہیں اللہ نے چاہا تو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ کچھ عذاب اس دنیا میں جھیلو کچھ حساب کتاب اوپر جا کر ہو گا۔’’ سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘اور جب یہاں سے کوچ کرے گا تو صرف و گز کفن کا ٹکڑا ساتھ لے جائے گا اور پھر نہ اولاد ساتھ جائے گی نہ بیوی۔ جن کے لئے تو نے اتنے پاپ کمائے۔ پلائو کھائیں گے احباب فاتحہ پڑھیں گے۔
اپنے حصے کی چال تو تم چل بیٹھے صاحب
ہمارے منتظر رہنا کہانی ختم کرنی ہے!