پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد !

90

جو منحوس یہ کہتے ہیں کہ کہاں ہے آزادی ؟ تو وہ منحوس بھارت دفع ہو جائیں ۔ آج ہر گھر میں نواب بیٹھا ہے چاہے معمولی ملازم ہے مگر آزادی کا سانس لے رہا ہے ۔ پاکستان خوشحال ملک ہے ۔ اس سرزمین پاک میں کوئ بھوکا نہیں سوتا ۔ اولیا کی اس زمین پر غربا پرور بھی بہت ہیں ۔پاکستان میں واقعی بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ تبدیلی’’ فحاشی عریانی بے راہ روی “ عام ہو رہی ہے ۔ نسلوں میں شعور نہیں بلکہ بغاوت اور غداری کے جراثیم بھرے جا رہے ہیں ۔ اخلاقیات کا دیوالیہ ہو رہا ہے ۔ حکومتیں جھوٹ فریب کرتی چلی آرہی ہیں مگر غریب پرور دل کھول کر صدقات عطیات دیتے ہیں ۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کے عوام عوام کو پال رہے ہیں ۔ رب کا کروڑ بار شکر کہ اس ذات کریم نے ہمیں ایک آزاد ریاست کا تحفہ عطا فرمایا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خوامخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے‘‘ (النساء)۔ شکر کے اصل معنی اعترافِ نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے ایک الگ آزاد ریاست پاکستان کا قیام اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ پاکستان کے لوگ اس نعمت کی ناقدری کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نعمت کی قدر کرنے والوں کا ’’قدردان‘‘ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے کہہ رہا ہے کہ میں قدر دانوں کا قدردان ہوں، یہ بہت بڑی بات ہے، بڑی بات کی آزامائش بھی بڑی ہوتی ہے۔ نعمت کی نا قدری کرنے والوں پر خدا کا عذاب نازل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رسی دراز ہے، محاسبہ کرنے میں چشم پوشی سے کام لیتا ہے مگر جب اس کی پکڑ آ جاتی ہے تو فرعون کو بھی غرق کر دیتا ہے۔ کراچی اور بلوچستان کو ملک سے الگ کرنے کے منصوبوں کے بعد پنجاب کو کمزور کرنے کی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ سی آئی اے کا ایجنٹ آستین کا سانپ بن کر پاکستان کو ڈس رہا ہے، حواریوں کی اندرون و بیرون ملک سے مدد حاصل ہے۔ گھر کے چراغ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے آشیانے کو آگ میں جھونک دینا چاہتے ہیں۔ آستین کے سانپ دشمنوںکے لئے کام کر رہے ہیں۔ ہنود و یہود و نصاریٰ کی سازشیں پاکستان کے لئے کوئی نئی بات نہیں مگرملک کو اندر سے خطرات لاحق ہیں۔ ایک جیتا جاگتا انسان غداری کی بُو کو دور سے محسوس کر سکتا ہے مگر اندھے بہرے کارکن اور عقیدت مند اپنے قائدین کی منافقت کو سمجھنے سے عاری ہیں یا پھر اپنے انجام کے خوف سے قائدین کی پیشگوئیوں اور بیانات کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں رکھتے۔ کلمہ حق کہنا آسان ہوتا تو آج پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا۔ الا ماشٔاللہ بعض صحافی بھی بِک چکے ہیں۔ کالموں اور تجزیوں سے تعصب کی بدبو آتی ہے۔ پاکستان کے حالات جیسے بھی ہو جائیں، وطن لوٹنے والوں کو کوئی واقعہ خوفزدہ نہیں کر سکتا۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا، پاکستان میں آزادانہ گھوما کرتے تھے، سکون تھا، امن تھا، برکت تھی، پیار محبت تھا، آزادی اور تحفظ تھا۔ جب پاکستان جائو بچپن کی جگہوں پر جانے کو دل چاہتا ہے۔ گھر والے کہیں تنہا جانے نہیں دیتے۔ پاکستان امریکہ نہیں جہاں نصف شب کو بھی ایک عورت تنہا گھر سے باہر بے خوف ڈرائیو کر سکتی ہے مگر پاکستان کی عورت کا اگر مرشد ایک اشارہ کر دے تو وہ نصف شب کو بھی گھر سے نکل پڑتی ہے۔ پاکستان دنیا کی منفرد ریاست ہے اور اس میں بسنے والے لوگ بھی عجیب بھی ہیں اور غریب بھی لہٰذا پاکستان کو عجیب و غریب ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس پرانے عجیب و غریب ملک کا یوم آزادی سر پر آن پہنچا، یوم آزادی کی تیاریاں عروج پر ہیں، خدا اس ملک کو سلامت رکھے اور تاقیامت یوم آزادی کی بہاریں دیکھے۔ بلاشبہ وطن عزیز میں جتنے دن گزارتے ہیں، خوفناک واقعات سُن سُن کر بھوک مر جاتی ہے۔ چوری، ڈاکہ، گولی، دھماکہ، اغوا جیسی خوفناک کہانیوں اور لوڈشیڈنگ کے عذاب نے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے خوشیاں چھین لی ہیں۔ لیکن گھر تو آخر اپنا ہے ۔۔۔! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔‘‘ ہر زمانہ کے منافقین کی یہی خصوصیت ہے، مسلمان ہونے کی حیثیت جو فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں، کرتے ہیں اور جو فائدے کافروں کو فائدے پہنچانے سے حاصل کئے جا سکتے ہیں، وہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ منافقت کی سیاست سب سے نچلا اور گھٹیا ترین طریقہ حکمرانی ہے۔کافروں کو رفیق بناتے ہیں جبکہ کافر انہیں حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اس طبقہ کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پائو گے۔‘‘ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ مبادا ’’نیا پاکستان‘‘ لینے کے جنون میں کہیں ’’پرانا پاکستان‘‘ بھی نہ گنوا بیٹھیں۔ نئی شادی کے چکر میں عموماً پرانی شادی بھی خراب ہو جاتی ہے۔ نئی فرج گھر لائیں تو لوڈشیڈنگ ’’نئی فریج‘‘ بھی ساڑ دیتی ہے۔ بیوی ہو یا فریج بندہ یہی کہتا سُنا گیا ہے ’’وہ پہلے والی ہی ٹھیک تھی۔‘‘ آندھی آئے طوفاں آئے، دیا جلائے رکھنا ہے ۔۔۔! قارئین کرام کو یوم آزادی مبارک ہو! دنیا کا کوئی ملک اور گھر ایسا نہیں جہاں مسائل اور لڑائی جھگڑے جنم نہیں لیتے مگر گھر والے خوشیاں منانا ترک نہیں کرتے بلکہ غم کی سیاہ رات کو خوشیوں کے سورج سے جلا بخشتے ہیں۔پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد