مذہب اور اخلاقیات

355

’’ہمارا سب کچھ مذہب ہے اور مذہب کے سوا کچھ نہیں‘‘ مذہب کو کئی قرنوں تک اس لئے بھی برتا گیا کہ مذہب AUTHORATATIVEہوتا ہے مسلم ریاستوں کو اولولامرٔ کے اصول پر چلانا ضروری سمجھا گیا اور عوام کو بتایا گیا کہ خلیفہ کاحکم خدا کا حکم ہوتا ہے اطاعت الٰہی اور اطاعات رسول کے بعد امیر المومنین کے حکم کی پابندی ضروری ہے، سوال کرنے پر بھی پابندی تھی دین کی اس فکر نے خلیفہ وقت کو حکومت کرنے میں بھی آسانی فراہم کر دی، مگر یونانی فلسفہ سفر کرتا ہوا مسلم دنیا تک آ ہی گیا، جس کی بنیاد INTERROGATIVEتھی، خوارج اور معتزلہ کا انبساط یونانی فلسفہ پر تھا، معتزلہ نئے وقت کی حکومتوں کو متاثر بھی کیا، امام غزالی نے یونانی فلسفے سے اثر لیا تھا مگر جب معتزلہ کو زوال آیا تو امام نے بھی دین کو ہی رہنما کر لیا، مورخین کہتے ہیں کہ فلسفہ سوال و جواب کے سوا کچھ بھی نہیں، یہ کیوں اور کیسے کے گرد گھومتا ہے، سوال کے غلط اور صحیح ہونے پر بھی بحث و تمحیث کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، یہ تدبر و تفکر کی منزل ہے جس کا حکم قرآن میں بھی متعدد بار آیا ہے، مگر مسلم ریاست میں سوال کرنا گناہ ٹھہرا اور مسئلہ جبرو قدر کو ذہن نشین کرایا جانے لگا جس کا مطلب یہ تھا تمہاری قسمت لکھ دی ہے اس سے زیادہ یا کم تم کو نہیں ملے گا لہٰذا صبرو کرو اور زیادہ کی تمنامت کرو، تصوف نے اس فلسفے کو مقبول عام بنا دیا، مگر دوسری طرف مذہبی اخلاقیات بھی ہیں جس کی سند سنت اور خلفاء راشدین کے عمل سے مل جاتی ہے، ان اخلاقیات میں جہاں دیگر باتیں ہیں وہاں انصاف کو بہت خاص اہمیت حاصل ہے، پوری مسلم تاریخ میں انصاف کا خون کیا جاتا رہا، لکھا گیا ہے کہ عرب دنیا کی سب سے زیادہ متشدد قوم ہے، اس قوم کے ہاں انصاف تلوار سے کیا جاتا تھا اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اس قوم نے کبھی سورۃ البقرہ میں درج جائیداد کی تقسیم کے اصولوں کو نہیں مانا اور کبھی بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا، امام سیوطی نے کہا تھا کہ اسلام کی بنیاد اس کی اخلاقیات پر ہیں جن پر کبھی عمل نہیں ہوا، جب صدیوں یہ عمل جاری رہا تو پرہیز گاری اور تقویٰ کی بنیادیں ہل گئیں اور مسلم سماج میں جھوٹ بددیانتی اور مکر کا چلن ہوا۔
اخلاقیات ہر مذہب کی ہیں مگر جو مذہبی رہنما تھے انہوں نے سماج کو اپنے حکم کا سائل بنائے رکھا، مسلم سماج کی عجب رسم رہی وہ صاحبان منبر سے یہ بھی پوچھتے رہے کہ سائنس کی ایجادات حلال ہیں یا حرام اور وہ جو کوے کے حلال یا حرام ہونے پر علمی گفتگو کررہے تھے یا اس بات پر کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں عام مسلمان کی نظر میں مجتہد ٹھہرے، اور یہ روش آج تک برقرار ہے، عیسائیت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ عیسائیوں میں ایسا گروہ پیدا ہو گیا جس نے پادریوں کے اس سٹیٹس کو چیلنج کیا، برسوں کی جنگ اور مباحثہ کے بعد سوچ کا سفر شروع ہوا، ایک نئی صبح طلوع ہوئی اور انسان نے گمانوں سے نجات پائی، اس دوران جب کہ رہنمائی کا کام پادریوں یا مسلم عالم کے پاس رہا اخلاقی تربیت ہو ہی نہ سکی، اخلاقی گراوٹ کا حال یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے بعد کسی بھی شخص کو کچھ بھی کرنے کی اجازت ہے، ہندوستان میں ہزار سال کی مسلم بادشاہت میں ہر شہر میں چکلے موجود رہے مگر انتہائی جید علماء جن کا بے حد احترام کیا جاتا ہے کبھی فتویٰ جاری نہیں کیا کہ شہر میں برسرعام زنا کاری ہورہی ہے ، ساحر لدھیانوی نے جب اپنی معروف نظم چکلے لکھی تو اہل منبر کی جبیں شکن آلود ہو گئی، ہندوستان میں صاحب صوم و صلوۃ ہونا ہی سب سے بڑی عظمت تھی کسی کے باکردار ہونے کی کوئی منزلت تھی ہی نہیں، مغرب میں تمام اخلاقیات کو قانون کا پابند کر دیا گیا، طویل مباحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پندو نصاح کسی کو اخلاقیات کا پابند نہیں بنا سکتے، ان اخلاقیات کی جگہ مغرب میں HUMANISMنے لے لی اور آج پوری دنیا اسی انسان پرستی اور انسان رسیدگی کی قائل ہے۔
دنیا بھر میں صنعتی زندگی نے ایک سائنسی MECHANIZED SOCIETYکو جنم دیا جو صنعتوں میں کام کرنے کے لئے SKILLED LABORمانگتے ہیں، تعلیمی ادارے جو یہ تعلیم فراہم کرتے ہیں وہ طلباء کی شخصیت ہی بدل دیتے ہیں، وہ طلباء کو سکھاتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں کس اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے جس کے بغیر مہارت نامکمل ہوگی، اخلاقی لحاظ سے کوئی معاشرہ مکمل نہیں ہوتا کوئی معاشرہ پارسائی کا دعویٰ نہیں کر سکتا لہٰذا اخلاقیات کے مدارج مختلف ہو سکتے ہیں اور عام طور پر اس کا تعلق یا تو BROUGHT UPسے ہوتا ہے یا پھر ایک خاص علاقے میں رہائش رکھنے کی وجہ سے کردار میں آجاتا ہے مگر یہ تعداد بہت کم ہے عام طور پر زیادہ تر افراد پیشہ وارانہ دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اسی لئے کہاجاتا ہے کہ مغرب کے لوگ جھوٹ نہیں بولتے اور جھوٹ کو ہی ساری سماجی برائیوں کی ماں کہا گیا ہے، مگر کیا کیجئے پاکستان میں اسلام کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ ریاست میں جھوٹ بولنا جائز ہے بات سے مکرنا بھی مستحب تو کارکنان کی نہ سیاسی تربیت ہو سکی اور نہ اخلاقی، اب پورا معاشرہ نمازیں پڑھتا ہے مگر تمام بدکرداری کا مرتکب ہورہا ہے، گو کہ یہ سراسر مذہب کی نفی ہے مگر برین واش ہو چکا اب شائد اگلی نسل ہی اس عذاب سے نکل سکے، کوئی ایسی برائی نہیں جو اس معاشرے میں موجود نہ ہو، نماز پڑھنے اور چندہ دینے کے بعد جنت کی ضمانت دے دی جاتی ہے، ایک صاحب نے یہ لطیفہ بھی سنایا کہ دوسری اور تیسری شادی کرنے کے لئے ٹی وی کے اداکار طارق جمیل کے مرید ہو جاتے ہیں جو ان کو تحفظ کایقین دلاتے ہیں، پہلی بیوی کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے تیرے شوہر کو یہ اجازت دی ہے، اب جب کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تو مذہب چند RITUALSکا نام رہ گیا ہے جو جیسے تیسے بغیر کسی روح کے ادا کر دی جاتی ہیں، اخلاقیات انسانیت کا حسن ہوتی ہیں اور ایک زندہ معاشرہ ان کو اپنا کر اور ان پر عمل پیرا ہو کر زندگی خوب صورت بنا لیتے ہیں اس خوبصورتی کا احساس پاکستان کی کسی دینی جماعت کو نہیں نہ ان کے پالن ہاروں کو نہ پیروکاروں کو، اور پاکستان کا معاشرہ بداخلاقی اور بدکردار ی کا گڑھ بنا ہوا ہے۔