برطانیہ میں بدترین مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے کیلئے پورٹ ملازمین نے بھی ہڑتال کردی

159

برطانیہ کی سب سے بڑی کنٹینر پورٹ کمپنی فیلکس اسٹو کے مزدور بھی تنخواہوں کے حوالے سے 8 روزہ ہڑتال پر چلے گئے جب کہ ملک میں دہائیوں بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح کے باعث شہریوں کے لیے گزر اوقات کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔مشرقی انگلینڈ کی بندرگاہ پر تقریباً 2 ہزار یونین ملازمین نے ہڑتال کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا، احتجاج کرنے والے ملازمین میں کرین ڈرائیور، مشین آپریٹرز سمیت دیگر مزدور شامل ہیں، 1989 کے بعد فیلکس اسٹو میں کی جانے والی یہ پہلی ہڑتال ہے۔فیلکس اسٹو ورکرز کی جانب سے یہ ہڑتال برطانیہ کی مختلف صنعتوں میں تنخواہوں اور ورکنگ کنڈیشنز سے متعلق پیدا ہونے والے تعطل کے دوران سامنے آئی ہے جب کہ اس سے قبل ریلوے ملازمین نے رواں ہفتے کے دوران جمعرات اور ہفتے کے روز ہڑتال کی۔پوسٹل ورکرز رواں ماہ کے آخر میں 4 روزہ ہڑتال پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ٹیلی کام شعبے سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنی بی ٹی کو دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہڑتال کے باعث بندش کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ ایمیزون کے گوداموں میں کام کرنے والا عملہ، مجرمانہ کیسز لڑنے والے وکلا اور ڈسٹ بینوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال پر جانے والے دیگر افراد میں شامل ہیں۔تنخواہوں میں اضافے کے یہ مطالبات مہنگائی کی بلند شرح کی وجہ سے ہیں جو گزشتہ ماہ 10 فیصد سے بڑھنے کے بعد 40 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جب کہ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ہڑتال پر جانے والی کمپنی فیلکس اسٹو کے عملے کی نمائندگی کرنے والی یونائیٹ یونین کا کہنا ہے کہ کام رکنے سے بندرگاہ بری طرح سے متاثر ہوگی جب کہ کمپنی سالانہ 2 ہزار بحری جہازوں سے تقریباً 40 لاکھ کنٹینرز ہینڈل کرتی ہے۔