کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملہ، بھارتی راء کی کارروائی

387

پیر کی صبح 10بجکر 3منٹ پر کراچی سٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، یہ چاروں دہشت گرد بظاہر بی ایل اے کے ایجنٹ لگتے تھے وہ لیاری پاس سے گزرتے ہوئے آئی آئی چنددیگر روڈ پر داخل ہوئے اور سیدھے سیدھے بلڈنگ کے گیٹ پر پہنچ گئے، گیٹ پر موجود پولیس اور گارڈز نے ان کو روکا اور گیٹ نہیں کھولا تین آدمیوں نے اتر کر سیدھا گارڈ پر فائر کیا جس سے دو لوگ وہیں شہید ہوئے، لیکن ایک پولیس والے نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھپ کر دو فائر کیے جس سے دو دہشت گرد وہیں ڈھیر ہو گئے، اب چوتھا دہشت گرد بھی گاڑی سے اتر آیا اور فائر کور کرتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا، اسی لمحہ اس پولیس والے نے تیسرے آدمی پر فائر کیا جو اس کی سکیورٹی جیکٹ پر لگا اور وہ ہوشیار ہو گیا اس سے پہلے کہ پلٹ کر وار کرتا اسی پولیس والے نے جس کا نام سومرو تھا، اسی دہشتگرد کے سر پر فائر کیا جو جہنم رسید ہو گیا اوپر گارڈ روم میں بیٹھے ہوئے رینجر کے سپاہی نے چوتھے دہشتگرد پر فائر کیا، اس طرح یہ کارروائی صرف 8منٹ میں مکمل ہو گئی، راء اور بی ایل اے کا منصوبہ خاک میں مل گیا وہ جس منصوبہ بندی اور ناپاک ارادوں سے اس پاک سرزمین میں داخل ہوئے تھے وہ ناکام ہو گیا۔
شام کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے سیدھا الزام بھارت پر لگا دیا کہ اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ’’را‘‘ اور بھارتی حکومت ملوث ہے، یہ شاید پہلی مرتبہ تاریخ میں ہوا ہے کہ کسی پاکستانی وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر بھارت پر الزام لگایا ہے، یہ صورت حال آئندہ آنے والے وقت کا پتہ دیتی ہے، خطے کی صورت حال بہت دھماکہ خیز ہے، چائنہ اور بھارت جس طرح آمنے سامنے کھڑے ہیں اور حالت جنگ میں ہیں اس میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے، امریکہ جس طرح چائنہ کے گرد گھیرا تنگ کرتا جارہاہے اور یورپ سے فوجیں نکال کر ایشیاء میں لانے کی بات کررہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے امریکہ کسی قیمت پر بھی چائنا کو سپرپاور نہیں بننے دے گا، آسیان کے ممبروں کو وہ جس طرح فیڈ کررہا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کررہا ہے اور چائنہ کے مقابلے پر کھڑا کررہا ہے وہ آگے کی نشاندہی کررہی ہے، پاکستان اور چائنہ دونوں مل کر آگے دس ملکوں کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔
بی ایل اے ہمیشہ سے پاکستان دشمنی پر اترا ہوا ہے، اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد برہمداغ بگٹی نے بی ایل اے کی بنیاد رکھی جس میں دوسرے دہشت گرد بھی شامل ہو گئے، پہلے ان لوگوں نے افغانستان میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا پھر پاک فوج کے کہنے پر حامد کرزئی نے ان کو افغانستان سے نکالا، اب ان لوگوں نے سوئٹزرلینڈ کو اپنا مسکن بنایا اور وہین سے ساری کارروائی چل رہی ہے، کراچی میں چائنز سفارت خانے میں جو دہشت گردوں نے کارروائی کی اور چاروں دہشت گرد مارے گئے تھے وہ بھی ’’را‘‘ کے کہنے پر بی ایل اے نے اپنے کارندے بھیجے تھے، سی پیک بننے کے بعد اب بی ایل اے کو آزادی کاخواب بھول جانا چاہیے، چائنہ کسی قیمت پر بھی بلوچستان میں کسی بھی آزادی کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا، براہمداغ بگٹی اور دوسرے علیحدگی پسندوں کو اب آزادی کے خواب کو بھول کر بات کرنی چاہیے، بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا، اس خطے میں بہت خطرناک سیاسی اور فوجی صورت حال ہے ،کسی وقت بھی جنگ کا بگل بج سکتا ہے، بھارت اس وقت بری طرح گھر چکا ہے، چائنا نے اس کو سپر طاقت بننے نہیں دینا ہے، ہر طرف سے بھارت دبائو میں ہے، چین بھارت کی سات ریاستوں کو کاٹ دینا چاہتا ہے، دوسری طرف کشمیر کی آزادی کا مسئلہ ہے، اس سے بہتر اور کوئی وقت کشمیر کی آزادی کے لئے نہیں ہو سکتا، اگر چائنا تبت کی روڈ کو بھی کاٹ دیتا ہے تو پاکستان آسانی سے دوبارہ سیاچن پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ جب سیاچن کو سپلائی کٹ جائے گی تو بھارتی فوجوں کو ہتھیار ڈالنے پڑیں گے، مقبوضہ کشمیر میں جو جنگ آڑہی ہے وہ کشمیر کی آزادی پر ختم ہو گی، بھارت پاکستان میں مزید دہشتگردی کی کوشش کر سکتا ہے لیکن اس کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے جو اس کی بربادی اور مودی حکومت کے خاتمے پر ختم ہو گا۔