صومالیہ میں 2 دن بعد ہوٹل سے مسلح افراد کا قبضہ چھڑوالیا گیا، 20 ہلاکتیں

85

موغادیشو: صومالیہ کے دارالحکومت میں سیکیورٹی فورسز نے حیات ہوٹل پر قبضہ کرکے مہمانوں کو یرغمال بنانے والے مسلح افراد کو 2 دن جاری ہونے والے مقابلے میں مار دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز مسلح افراد کار بم دھماکے کرکے ہوٹل میں داخل ہوگئے تھے اور عملے سمیت مہمانوں کو یرغمال بنالیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مقابلہ دو دن تک جاری رہنے کے بعد ہوٹل سے قبضہ واگزار کروالیا گیا۔صومالیہ کی فوج کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ دو دن تک جاری رہنے والے مقابلے میں مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک اور 117 زخمی ہوئے جب کہ 106 افراد کو بحفاظت ہوٹل سے نکالا گیا۔تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ہلاکتوں میں حملہ آورں کی تعداد کتنی ہے۔ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ دھماکوں اور فائرنگ سے ہوٹل کی اوپری منزل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ ہوٹل زیادہ تر سرکاری افسران اور ان کے مہمانوں کے استعمال میں رہتا تھا۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب نے کی ہے جو داعش کی ذیلی شاخ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور صومالیہ میں فوج اور سرکاری عمارتوں میں حملوں میں ملوث رہی ہے۔صومالیہ کی فوج نے الشباب کے جنگجوؤں کو دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں سے پسپا ہونے پر تو مجبور کردیا ہے تاہم اب بھی مضافات میں اکثریتی علاقوں میں الشباب کا قبضہ ہے اور وہ وہاں سے دارالحکومت پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔