اسمارٹ فون سے بیزار ہیں تو سِم والا ڈائل فون آزمائیں

116

 واشنگٹن: 1990 میں ہوش مند اور باشعور افراد کو سادہ ڈائل فون اکثر یاد آتا ہے اور اب ایک اوپن سورس کوڈ کی بدولت ایسا فون بنایا جاسکتا ہے جو اسمارٹ نہیں ہوتا لیکن اس پر کال وصول یا بھیج کر بات کی جاسکتی ہے۔ اسے ’روٹری ان اسمارٹ فون‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اگرچہ اسمارٹ فون ایک چھوٹے طاقتور کمپیوٹر کی صورت میں ہمارے پاس موجود رہتا ہے لیکن اب بھی لوگ ایپ اور اسکرین سے الجھن کے شکار ہوتے ہیں۔ اب ایک خلائی انجنیئر، جسٹن ہاپٹ نے جنہوں نے بہت سادہ فون بنایا ہے جسے آپ آسانی سے جیب میں رکھ کر گھوم سکتے ہیں۔

جسٹن اپنی ویب سائٹ پر لکھتی ہیں کہ ایک جانب تو یہ ٹچ اور ایپس کی جھنجھٹ کے بغیر بنایا گیا ہے اور دوم اسے دیکھ  کر 1980 اور 90 کے چرغی والے فون کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کئی لحاظ سے یہ قدیم اور جدید امتزاج والی ایجاد ہے۔

اس سے قبل بھی جسٹن نے دو سال قبل اس کا سادہ ماڈل پیش کیا تھا لیکن اب نیا ڈیزائن دیکھنے میں دیدہ زیب اور اس میں مشینی گھنٹی لگائی گئی ہے جس کی آواز دور دور تک جاتی ہے اور ساتھ میں سیٹی کی آواز بھی آتی ہے۔

پیتل سے بنی گھنٹی پر سونے اور چاندی کی پرت چڑھا کر اسے خوبصورت بنایا گیا ہے۔ اس میں دو ڈسپلے ہیں جو آگے اور پیچھے ای پیپر کی طرح لگائے ہیں۔ اس میں میکانکی پاور سوئچ بھی ہے اور بہتر سگنل کے لیے ایک چھوٹا اینٹینا بھی لگایا گیا ہے۔

اگرچہ بار بار پلاسٹک کا ڈائل گھمانا ایک پریشان کن مرحلہ ہوسکتا ہے اسی لیے میموری میں آپ دوستوں اور گھروالوں کے فون شامل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد دو مرتبہ ڈائل گھمانے سے ہی ازخود ڈجیٹل فون کی طرح آپ کا رابطہ ہوجائے گا۔ لیکن اسے استعمال کرنے والے افراد نے کہا ہے کہ فون ڈائل کرنے سے انہیں خوشی ملتی ہے۔