فوج کو فیصلہ کرنا ہوگا!!

88

میں خان ولی خان کی کتاب THE FACTS ARE FACTSکو سچ بھی مان لوں تو بھی بہت صدقِ دل سے خواہش رکھتا ہوں کہ پاکستان کو قائم رہنا چاہیے مگر بدبختی یہ ہے کہ پاکستان کے کسی سیاست دان نے ریاست کی تعریف پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، تقسیم کے بعد ابتدائی دنوں میں ہی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اسلام کی تعلیم دینے اور عوام کے ایمان کی درستگی کے لئے حکومت کو کام کرنا چاہیے اور یہ بھی تاثر دیا گیا کہ 1947ء سے قبل کا اسلام جو ہندوستان میں PRACTICEکیا جارہا تھا وہ سب غلط تھا مگر مورخین یہ تسلیم کرتے رہے کہ ایک ہزار سال تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت رہی، ایک ہزار سال میں وہ تمام مشائخ اور اولیاء جو ہوا میں پرواز کرتے تھے، جو شیروں پر سواری کرتے تھے اور جن کے کہنے سے دیوار چل پڑتی تھی ان میں سے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ہندوستان کی تمام مسلمان حکومتیں جو بادشاہتیں ہیں وہ اسلامی نہیں ہیں، مقبرے بنائے جاتے رہے، مزاروں کی پوجا ہوتی رہی، چڑھاوے چڑھائے جاتے رہے یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہوا جو سراسرخلاف اسلام تھا مگر اپنی تمام تر منافقت کے باوجود وہ تمام مشائخ،اولیاء اور پیر بہت متبرک، ان کے بارے میں بات کرنا بھی گناہ، مگر ہزار سال تک ہندو مسلم معاشروں میں جو رواداری، بھائی چارہ اور برداشت تھی وہ سب غلط ہو گئی، تقسیم سے پہلے بھی فرقے تھے مگر فرقہ وارانہ ہم آہنگی تھی فرقہ واریت نہ تھی، کبھی کوئی کسی کے فرقے کے بارے میں کبھی استفسار بھی نہ کرتا، سماجی محفلوں میں سب بلاتفریق ملتے جلتے، کھاتے پیتے، مگر پاکستان کے قیام کے چند سالوں کے بعد ہی مودودی کو الہام ہوا کہ قادیانی کافر ہیں، فرقہ وارانہ فسادات ہوئے پہلی بار مسلمان نے کسی اور فرقے کو کافر کہہ کر قتل کرنا شروع کر دیا اور سکندر مرزا نے نہ صرف 1956کا آئین مسترد کر دیا بلکہ شیروانی برانڈ سیاست کا بھی خاتمہ ہوا اور 1958میں ایوب کا مارشل لاء بھی آگیا، ایوب خان نے اپنا بنایا ہوا آئین خود ہی دریابرد کر دیا، 1973کے آئین میں پاکستان باقاعدہ مشرف بہ اسلام ہوا اور قانون بن گیا کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گا اور احمدی کافر ہیں۔
واقعات کے اس تسلسل کو مل کر پڑھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ سارا کام دینی حلقوں اور فوج نے ایک مضبوط انداز میں ایک ایجنڈے کے تحت کیا اور جنرل ضیاء الحق کے دور سے ہی ملک مکمل طور پر دینی جماعتوں اور فوج کے تسلط میں چلا گیا ،دینی حلقوں کی اپنی کوئی سیاست تو تھی نہیں لہٰذا ان کو ایک بیانیہ بنا کر دیا گیا اور ان کے ہاتھوں میں ہتھیار دے کر جبراً اس بیانیے کو عوام پر مسلط کیا گیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے پچھلی صدی میں دنیا کو جو سب سے بڑا جھوٹ بولا گیا وہ یہ تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا آج عمران اسی جھوٹ پر اپنی سیاست کررہے ہیں۔ 1977کے بعد جو حالات ہمارے سامنے رہے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی پی پی سے فوج کو خاص مخاصمت رہی اور نواز اس عتاب کا شکار ہوا جب اس نے CIVILIANبالادستی کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ جوہری صلاحیت حاصل ہونے کے بعدا تنی بڑی فوج کی ضرورت نہیں، آپ خود اندازہ لگائیں کہ وہ ملک جس کی عدلیہ دنیا میں 130 نمبر پرہو مگر اس ننگے بھوکے ملک کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہو، افتخار چودھری کے بعد آنے والی بدکردار عدلیہ نے پانامہ کیس کا متنازعہ فیصلہ سنایا اور وہ جو کہتے تھے کہ نواز شریف کی کرپشن جو ظاہر ہوئی ہے وہ تو TIP OF THE ICEBRGاور کرپشن کی بڑی داستان تو Volume 10میں موجود ہے وہ کوئی کرپشن ثابت نہ کر سکے، 2018ء کے الیکشن میں فوج کو اندازہ ہو گیا تھا کہ حکومت پی پی پی یا نواز لیگ کی ہی بنے گی لہٰذا عمران کو لانے کا فیصلہ کیا گیا اور بے مثال POLLING RIGGINGسامنے آئی، پہلے تین سالوں میں فوج نے عمران کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو مسلنے کی پور کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے، عمران کی CAPACITYپر ہزار سوال اٹھتے رہے، جنرل باجوہ ملک کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے تو فوج کو کوئی تکلیف نہ تھی مگر جیسے ہی NOTIFICATIONپر اختلاف ہوا فوج نیوٹرل ہو گئی، اپوزیشن کو آگے بڑھنے کا موقع ملا، عمران، اسد قیصر اور قاسم سوری نے آئین کی صریحاً خلاف ورزی کی مگر عدلیہ اور فوج خاموش، عمران خود کہتے رہے کہ جنرل فیض حمید اندرونی سیاست میں ان کی مدد کرتے رہے مگر حلف کی خلاف ورزی پر ان کا کورٹ مارشل نہیں ہوا، عمران کے جانے کے بعد بھی عمران کے کور کمانڈر پشاور سے رابطے میں رہے مگر فوج خاموش، یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ فوج میں تقسیم ہے اور عمران کے حامی جنرلز بھی ہیں مگر ISPRخاموش، ایوان وزیراعظم سے جانے کے بعد عمران کا سوشل میڈیا مستقل باجوہ ندیم انجم اور فوج کو گالیاں دے رہا ہے مگر فوج خاموش ،مگر جیسے ہی زرداری کہتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کھڈے لائن لگ چکا تو جنرل بابر افتخار انتباہ جاری کرتے ہیں کیا پوچھا جا سکتا ہے کہ علی وزیر جیل میں کیوں ہے؟
ہر چند کہ حکومت بدل چکی مگر فوج شہباز حکومت کو یہ باور نہیں کرارہی کہ وہ شہباز کے سخت فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ ملک میں عمران کی وجہ سے انتشار ہو شہباز حکومت انتظامی اور معاشی فیصلے لے اور فوج کسی بھی وقت اپنی NEUTRALITYختم کرکے اپنا وزن عمران کے پلڑے میں ڈال دے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جنرل باجوہ عمران کے پروپیگنڈے کی وجہ سے دبائو میں آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ الیکشن کرا دئیے جائیں جس کے نتیجے میں عمران پھر برسراقتدار آئیں، جنرل فیض حمید کوآرمی چیف لگائیں اور اپوزیشن کو کچل دیں، اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو مغربی دنیا سے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے اور چین اور روس کی تولیت قبول ہو، مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہو جاتی، بہت سے اہم سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں، کیا فوج نے اپنے اندر کی تقسیم کو AS A MATTER OF COURSEقبول کر لیا ہے؟ کیا فوج انارکی کے ذریعے عمران کو آئین سے بالاترہر فیصلہ کرنے کااختیار دے گی؟ کیا پاکستان کا مستقبل صرف افغانستان سے ہی جڑا رہنا چاہیے؟ کیا فوج پاکستان کو جدید فلاحی ریاست بنانے کے راستے میں حائل ہے؟ کیا اسلام کے نام پر عمران کے ہاتھ میں ننگی تلوار دی جا سکتی ہے؟ کیا چوہتر سال سے قوم اتنی بڑی فوج کو اسی لئے اپنا خون پلارہی ہے کہ ملک افغانستان پر انحصار کرے؟ کیا عمران کے ہاتھوں انارکی پھیلا کر عوام کا معاشی قتل منظور ہے؟ عمران کے پاس ملک کے لئے مستقبل کا کیا منصوبہ ہے؟ اور ایسے ہی بہت سے سوالات، اگر فوج شہباز کو ضمانت نہیں دیتی اور پارلیمنٹ کے سخت فیصلوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو کیا شہباز یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ فوج ان سے تعاون نہیں کررہی اور وہ مستعفی ہو جائیں؟ یا فوج ملک کی خاطر عمران کو روک سکتی ہے ایسا کرنے سے کیا فوج میں بغاوت کا خطرہ ہے؟ پاکستان کے موجودہ حالات کی ذمہ داری تمام تر فوج پر عائد ہوتی ہے چوہتر سال ہو گئے اب تو شرم آجانی چاہیے، اگر مغربی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ عمران اور افغانستان کے اتحاد سے ایک بڑا دہشت ناک MONSTERتخلیق ہو جائے گا تو کیا مغربی طاقتیں موجودہ حکومت کو معاشی دلدل سے نکالنے میں مدد کرے گی؟ اگر مدد کرے گی تو کن شرائط پر؟ پاکستان DEFAULTکے بہت قریب ہے اور ڈی فالٹ فوج کے لئے بہت شرمناک ہو گا کیونکہ ترپن سال سے تو ملک فوج کے کنٹرول میں ہی ہے۔