ایک انسان کی طاقت!!

66

انسان بہت کمزور ہے، اگر ہمارے کسی ایک دانت میں درد ہو جائے یا انگلی ہلکی سے کٹ جائے یا جسم کے کسی حصے پر کوئی خراش آجائے تو ہم ہل جاتے ہیں، کچھ اچھا نہیں لگتا، موڈ خراب ہو جاتا ہے، جن کا ذکر ہوا وہ تو کوئی بڑی بیماریاں بھی نہیں پھر بھی اتنا اثر انداز ہو جاتی ہیں، بڑی بیماریوں کی تو ایک لمبی لسٹ ہے، انسان کے جسم میں سو مسائل ہو سکتے ہیں کسی بھی لمحے یعنی کہ کل ملا کر انسان کبھی بھی کسی مشکل کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں یعنی وہ کمزور ہے۔
جسمانی مسائل اور کمزوریاں، مشکلات اپنی جگہ لیکن جو چیزیں ہمیں طاقتور بناتی ہیں وہ ہے ہمارا دماغ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت کمال کا دماغ عطا کیا ہے۔ ہاتھی، گھوڑے حجم میں، سائز میں کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ان کا دماغ وہ کام کرنے کے قابل نہیں جو قدکاٹھ میں ان سے بہت چھوٹے ’’انسان‘‘ کو اختیار اور طاقت قدرت نے دے دی ہے، انسان دماغ کا استعمال کر کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا ہے۔
وہ لوگ کامیاب ہیں جنہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے اپنے دماغ کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے ، وہ لوگ عظیم ہیں جو اپنے دماغ کو اچھے کاموںِ بہترین منصوبوں میں لگارہے ہیں، دنیا بدلنے کیلئے Elon maskان میں سے ایک ہیں ان کا نام آپ نے ضرور سنا ہو گا Tesla Incکے سی ای او ۔ Teslaوہ کمپنی ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ الیکٹرک کارز بنارہی ہے لیکن ایلان مسک کئی ایسے منصوبوں پر کام کررہے جو انسانی زندگی کیلئے بہت فائدہ مند ہیں اور وہ دنیا کو کئی سو سال آگے پہنچادیں گے۔ اگر ان کے پلان کامیاب ہو گئے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت جس طرح بدل رہا ہے۔ پودے ہریالی تباہ ہو جائے گی اور ایک دن دنیا ختم ہو جائے گی اس لئے ایلان مسک پوری کوشش کررہے ہیں کہ ایک ’’دنیا‘‘ مارس پر بھی آباد کر لی جائے، اب یہ کیسے ہو گا؟؟ اس کے لئے دو اقدام ہیں پہلا تو یہ کہ انسان وہاں تک پہنچے کیسے؟؟ دوسرا یہ کہ وہاں پہنچ کر سانس کیسے لے گا؟؟ کیونکہ وہاں آکسیجن تو ہے نہیں!!!
یہ دونوں حقائق اتنے مشکل ہیں کہ سوچتے ہی ناممکن معلوم ہوتے ہیں لیکن ایلان مسک اس پر کام کررہے ہیں۔ ایسے شیلٹر جو انسان کو چند گھنٹے میں MARSتک پہنچا دے دوسرے ایسی TECHINIQUESکہ وہاں کا درجہ حرارت اتنا کم ہو جائے کہ وہاں آکسیجن بننی شروع ہو جائے، ایسا نہیں ہے کہ یہ محض سوچ ہے مسک کی ’’Speacex‘‘کمپنی اس منصوبے پر کام کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ایلان مسک ایک ایسے روبوٹ پر کام کررہے ہیں جو انسان کی طرح ہو گا اور یہ کہ وہ کئی کام بالکل ایسے کرے گا جیسے انسان کرتے ہیں مثلاً ویکیوم کرنا کسی فیکٹری میں کسی اسمبلی لائن پر کسی چیز کو Fixکرنا، پانچ فٹ کے اس روبوٹ کے ہاتھ پائوں، چلناپھرنا انسانوں جیسا ہو گا اور یہ ایک آدھ سال میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہو گا جیسا روبوٹ کئی سالوں سے ہم سائنس فکشن موویز میں دیکھتے آرہے ہیں۔
اس کے علاوہ پہلے سولر سٹی اور اب ٹیسلا کے نام سے ایلان مسک ’’سولر پاور‘‘ پر بھی زور و شور سے کام کررہے ہیں۔
سورج کی مدد سے آپ کے گھر میں بجلی،یعنی آپ کو اس میں Gridیعنی بجلی کی کمپنی کو استعمال نہیں کرنا ہو گا، ٹھیک اُسی طرح جیسے الیکٹرک کارز میں آپ کو پٹرول کی ضرورت نہیں۔
جو سب سے اہم کام ایلان مسک کررہے ہیں وہ ہے انسان کی دماغی بیماریوں کو Fixکرنا، جیسے بڑی عمر کے لوگ اکثر یادداشت کمزور ہونے کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا ’’لرزہ‘‘ وہ بیماری کہ جس میں انسانی دماغ ہاتھ پائوں کی جنبش کو کنٹرول نہیں کر پاتا یا پھر کسی حادثے میں یادداشت کا کھو جانا، اعلان مسک بہت سنجیدگی سے ان بیماریوں اور کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے کام کررہے ہیں۔
ایک اور حیران کن منصوبہ ایلان مسک کا یہ بھی ہے کہ وہ جو روبوٹ بنارہے ہیں اور دماغی ٹیکنالوجی کو ملا کر ایک ایسا سسٹم بنائیں کہ انسان اپنی پوری Memoryایک روبوٹ میں ڈائون لوڈ کر سکے اور وہ روبوٹ ہر وہ چیز سمجھتا اور جانتا ہو جو انسان جانتا تھا۔
سننے میں یہ سب بہت مشکل لگتا ہے لیکن اگر سوچنے پر آئیں تو سوچئے کہ جو شخص صرف چار بلین کی کمپنی بنا کر ایک ٹریلین ڈالر کی ’’ٹیسلا‘‘ بنا سکتا ہے تو پھر وہ سب کیوں نہیں سوچ سکتا؟؟
ایک انسان کی کیا طاقت ہے؟؟ Elon muskاس کی جیتی جاگتی مثال ہے، آپ کو یہ سمجھنے کی دیر ہے کہ آپ کیا بدل سکتے ہیں اس دنیا میں مانا کہ انسان کا جسم بہت کمزور ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا ’’دماغ‘‘ سب سے طاقتور بنایا ہے۔