او بیوقوف، مسئلہ معیشت کا ہے!

68

یہ عنوان راقم نے امریکی صدر کلنٹن سے لیا ہے جو انہوں نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا۔ آج پاکستان میں کچھ ایسے ہی حالات ہیں کہ یہی کلمات شہباز شریف دہرا سکتے ہیں۔
کچھ کہتے ہیں کہ سازش کی گئی اور کچھ کہتے ہیں کہ مداخلت کی گئی۔ سوال یہ ہے اس سازش یا مداخلت کا کوئی مقصد بھی تھا؟ کیا امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان روس سے تعلقات نہ بنائے؟ اگر یو این میں یوکرائین پر روس کی جارحیت کی بات ہو تو پاکستان امریکہ کے حلیفوں میں شامل ہو اور روس کے خلاف ووٹ ڈالے؟ امریکہ یہ بھی چاہتا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ زیادہ گہری دوستی نہ کرے۔
غور فرمائیں۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے پاکستان کی معیشت میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، وہ تشویشناک ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر آنے والی اس خبرمیں کوئی سچائی ہے تو حالات واقعی ایک اندھیرے مستقبل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ خبر ہے: ڈالر 200روپے کا ہو گیا۔زر مبادلہ کے ذخائر ساڑھے بائیس ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف دس ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
ملک دیوالیہ ہونے کے صرف دو ماہ کے فاصلے پر ہے۔
تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح ۱۳ فیصد سے تجاوز کر گئی ۔
بد ترین مہنگائی کا طوفان سر پر کھڑا ہے اور کوئی اس حکومت پر اعتبار کر کے قرض دینے کو تیار نہیں۔ IMF سعودیہ، UAE کے بعد چائینہ نے بھی CPEC سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے اس امریکی اسپانسر حکومت کو قرض مانگنے پر چھٹی کروا دی ہے۔
اور واضح پیغام دیا ہے کہ پہلے امریکہ سے آزادی حاصل کر کے CPEC پر کام بحال کرو پھر ہمارے پاس آنا۔ہر طرف اندھیرا چھا چکا ہے سب کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں اور اتحادی ابتک چوتھی بار جھگڑ چکے ہیںاس معاملے پر۔ایک شخص کی حکومت گرانے کیلئے پورے ملک کو دائو پر لگا دیا گیاہے ، چلتی ہوئی معیشت کو تباہ کر دیا گیا، افسوس ہے۔
یاد رہے ملکی سلامتی ملکی معیشت پر منحصر ہوتی ہے۔دوستوں! تھوڑا تفکر کا مقام ہے۔امریکہ کی اس سازش کے پیچھے کیا کوئی اور سازش تو کام نہیں کر رہی؟ کیا ہمارے ازلی دشمنوں نے بالآخر ایک ایسی چال چل دی ہے کہ پاکستان کے تئیس کروڑ عوام اور پچاس لاکھ کی فوج، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس، چاروں شانے چت ہو جائے؟ اور پاکستان اتنا مفلس ہو جائے کہ اسے اپنی روٹی اور بقا کے لیے اپنے ایٹمی ہتھیار بیچنا پڑیں؟
یہ تو دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے کچھ سیاستدان، ہر سطح پر تھوڑی سے قیمت پر اپنا ملک۔ اپنا ضمیر اور اپنی عاقبت بیچنے کو تیار رہتے ہیں، اس لحاظ سے یہ غالباً دنیا کی واحد قوم ہے جس کے افراداس حد تک اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ مادر طن کا سودا کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہوتی۔ جعفر از بنگال اور میر از دکن اسی خطہ کی پیدائش تھے جنہوں نے ننگ دین ، ننگ ملت اور ننگ وطن بننے میں کوئی عار نہیں سمجھی۔کیا یہ اسلامی تعلیمات میں کوئی کمی ہے یا وطنیت پرلا یقینی ہونا ہے کہ دنیا کی اور قوموں کے مقابلے میں ہمارے ملک میں ضمیر فروشی اتنی ارزاں ہے؟ اس لیے کوئی اچنبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے کچھ سیاستدان، جن میں وزیر اعظم سے لیکر ہر درجہ کا سیاستدان شامل ہے، آسانی سے بکنے کو تیار رہتے ہیں۔ جی وزیر اعظم میاں صاحب کو مدتوں پہلے ہمارے دشمن ملک نے تھوڑی سی رقم دے کر خرید لیا تھا۔ اور اس ادائیگی کا ثبوت دکھا دکھا کر وہ ان کو آجتک بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ جب میاں صاحب کو دیش نکالا ملا تو ان آٹھ نوسالوں میں انہوں نے اور ان کی بیٹی نے پاکستان سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔ بیٹی نے پروگرام بنایا جس کے تحت ججوں اور بڑے سیاستدانوں کو پرایئویٹ پارٹیوں میں بلا کر طوائفوں اور شراب کا ماحول بنایا جاتا تھا اور ان مہمانوں کی انجانے میں وڈیو بنا لی جاتی تھی۔ اس وڈیو کو بوقت ضرورت استعمال کر کے اپنی مرضی کا کام کروایا جاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ محترمہ کے پاس آٹھ ہزار وڈیو ہیں۔ اور یہ کہ اب بھی بہت سے جج اور سیاستدان بلیک میل ہو رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کا تو شاید ہر جج ملوث ہے اور سپریم کورٹ کے جج بھی۔ اس کا پتہ تب چلتا ہے جب میاں اور اس کے خاندان والوں کے خلاف مقدمات پیش ہوتے ہیں۔ میاں صاحب خود بھارتی ایجنسی را کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں جو سب سے خطرناک معاملہ ہے۔ لندن میں ان سے رابطہ کرنا را کے لیے بہت آسان ہے جہاں سے وہ بیٹی کے ذریعے پاکستان میں ہر وہ کام کروا لیتے ہیں جو را چاہتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ عمران خان کی حکومت کے کام دیکھ کر پاکستان دشمنوں کا دل جلنا شروع ہو گیا تھا کہ کہیں یہ اتنی بڑی مسلمانوں کی آبادی والا ملک واقعی ترقی کی راہ پر نہ چل نکلے؟ اگر کپتان کو دس سال بھی مل جاتے تو پاکستان ایک خوش حال ملک بن سکتا تھا۔ اور یہ بات کسی کو گوارہ نہیں تھی۔ جس طرح جاگیر دار اور صنعت کار عوام کو ان پڑھ اور غریب رکھنا چاہتے ہیں اسی طرح ہمارے طاقتور دشمن پاکستان کو ایک بھیک منگا اور پسماندہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ شہباز شریف کے بیان سے لگا لیں کہ جب انہوں نے کہا، ’’بھکاریوں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تمہاری کیا خواہش ہے؟‘‘۔ بھارت جو ایک مدت سے، خصوصاً جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، پاکستان کے خلاف ہر وہ قدم اٹھاتا آ رہا ہے جس سے پاکستان کو براہ راست نہیں تو اسکی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ اس کام میں اسے کم از کم ایک اور ملک کی اعانت شامل ہے جسے پاکستان کے ایٹمی اثاثے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔اس کام میں امریکہ کی اقتصادی اور عسکری طاقت کو استعمال کرنے میں یہ دونوں ملک باہمی تعاون سے کام لیتے ہیں۔اگر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہ ہوتی تو پاکستان کبھی کا بھارت کی ایک پسماندہ ریاست بن چکا ہوتا۔لیکن چونکہ پاکستان کی خوش قسمتی سے بھارت نے اپنے تعلقات روس کے ساتھ بڑھائے اور اپنے ملک میں کیمونسٹ پارٹیوں کی نشو و نما کی اجازت بھی دی، تو امریکہ کو لا محالہ پاکستان سے اچھے روابط رکھنے پڑے۔ در اصل پاکستان کی اعلیٰ عسکری قوت پاکستان کے مغربی ممالک میں جہاں تیل کے ذخائر ہیں، بہت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، بھارت کو بھی خدا کا خوف دلوانے میں ایک طرف چین اور دوسری طرف پاکستان علاقائی سا لمیت کے لیے ضروری ہے۔
امریکہ پاکستان دوستی کا بڑا امتحان افغانستان میں روس کے خلاف جنگ تھی، جو الحمدوللہ افغانستان نے جیت لی۔ اگر امریکہ افغانستان کی مدد نہ کرتا تو روس کا اگلا قدم بلوچستان اور گوادر میں ہونا تھا۔ اور افغانستان روس نواز افغانیوں کے قبضہ میں ہوتا۔اس روسی قبضہ سے جان چھڑانی نا ممکن ہوتی، اور پاکستان کے لیے وسطی ریاستوں تک رسائی نا ممکن ہوتی۔یہ سب جانتے ہیں کہ روس ایک عرصہ سے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں کے لیے تڑپ رہا تھا، اور ان تک پہنچا ہی چاہتا تھا۔
پاکستانیوں نے نہ صرف روس کے خلاف افغانیوں کی مدد کی اور امریکہ کی عسکری امداد سے بھی کچھ فوائد حاصل کیے، اس طرح امریکہ کا اتحادی بھی بن گیا۔جس کے لیے بھارت نے امریکہ کے دل میں شکوک ڈال دیے کہ پاکستان در اصل ان کا دوست نہیں۔ ان کا اصل دوست بھارت ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس کے فوجی اور اقتصادی تعلقات روس کے ساتھ پرانے اور گہرے ہیں لیکن بھارت امریکی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار کا بہت بڑا گاہک بھی بن سکتا ہے۔ بھارت نے اپنے نوجوانوں کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں سہولتیں دیں اور وہ امریکی کمپنیوں کے کارخانے بن گئے۔اور اربوں ڈالر کی تجارت صرف سروسز کے شعبہ میں ہونے لگی۔بھارتی بزنس مین اور تعلیم یافتہ افراد امریکہ کی صنعتوں میں چھا گئے۔ آج ہزاروں امریکن کمپنیاں یہی بھارتی چلا رہے ہیں۔ جن میں مائکر وسوفٹ، اور اس قد کی کئی کمپنیاں بھارتی نژاد چلا رہے ہیں۔ اور تو اور امریکنوں نے ایک بھارتی نژاد کو اپنا وائس پریزیڈنٹ بھی بنا لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے اگر جو بایئڈن کو کچھ ہو جائے تو وہ صدر کا عہدہ سنبھال سکتی ہے۔
پاکستان کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں پیچھے نہیں تھا لیکن پاکستان کی کرپٹ بیورکریسی نے ایسے نوجوانوں کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔ جو تھوڑے سے نوجوان امریکہ اور یوروپ پہنچ بھی گئے، بھارتیوں نے ان کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ ہر ٹیکنالوجی کے دفتر میں بھارتی پہلے ہی موجود تھے، اگر وہاں پاکستانی آ بھی جاتا تو جلد یا بدیر اس کو رخصت کر دیا جاتا۔یہی سلسلہ جاری ہے۔
اب آیئے لمحہ فکریہ کی طرف۔ پاکستان کے جو اقتصادی حالات بتائے جا رہے ہیں، وہ اشارہ کرتے ہیں دیوالیہ پن کی طرف۔ اگر پاکستان دیوالیہ ہو جاتا ہے (اگر وہ اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے اور قرضوں کی قسطیں وقت پر ادا نہیں کر سکتا) تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان بین الاقوامی منڈیوں سے نہ صرف قرض نہیں لے سکے گا، وہ بیرون ملک سوداگروں سے صرف نقد دے کر مال لے سکے گا۔ مثلاً تیل، پٹرول اور گیس، چائے، دوائیاں، مشینری کے پرزے، اور ضروری سپلائز، فوجی سامان، وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت میں پاکستانی روپیہ دھڑام سے گرے گا اور ڈالر پانچ سو روپے یا ایک ہزار روپے کا بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں زر مبادلہ نہ ہونے سے ہر ایسی چیز جس کا انحصار درآمدات پر ہے اس کی قیمت عوام کی دسترس سے باہر ہو جائے گی۔لوگوں کو چائے کے بجائے صرف گرم پانی پینے کی عادت اپنانی پڑے گی۔کولے غائب ہو جائیں گے۔ اور دوائیوں کے بجائے صرف دیسی نسخوں پر گزر بسر کرنا پڑے گی۔ اور عوام تنگ آ کر سڑکوں پر احتجاج کریں گے جس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔کاریں اور موٹر سایئکلیں صرف سامان تعیش بن جائیں گی، اور پاکستان دو سو سال پیچھے چلا جائے گا۔
پاکستان اگردیوالیہ ہونے کا اعلان کرتا ہے تو اس کو بیرونی قرضے واپس نہیں کرنے پڑیں گے۔ لیکن جن لوگوں نے اسے قرضے دیے تھے ان کا زبردست نقصان ہو گا۔ پوری دنیا میں مندی کا بحران آ جائے گا۔جو سپر پاورز نہیں چاہتیں۔پاکستان میںایسا چند دہائیوں پہلے ہونے والا تھا توامریکہ نے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مشرف کو کہا کہ مارشل لاء لگا دے۔ اس کے صلہ میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں واپسی کی تاریخیں بڑھا دی گئیں اور کچھ اور ڈھیل دی گئی اس شرط پر کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا۔اس طرح ایک عا لمی بحران ہونے سے بچا لیا گیا۔ اگر پاکستان دیوالیہ ہوتا تو اس کے ساتھ کئی اور چھوٹے ملک بھی اسی حال میں تھے اور وہ بھی دیوالیہ ہو جاتے تو سمجھیں کہ کتنا بڑا عالمی بحران پیدا ہوتا؟ کیا اس حکومت کے بدلنے سے پاکستان کو بیرونی قرضوں کی قسطوں میں واپسی پر کچھ چھوٹ ملے گی؟ اگر عمران خان واپس حکومت میں نہ آ گیا تو شاید؟