ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں… لوٹوں اور تبادلوں کے خلاف فیصلہ اور ازخودنوٹس،سپریم کورٹ، ایک منٹ لیٹ اور ایک پائی کم!

58

منحرف پی ٹی آئی کارکنوں کے حوالے سے دائر کی گئی اس وقت کی عمران خان حکومت کی مارچ کی درخواست پر مئی میں فیصلہ آگیا کہ کسی بھی رائے شماری میں اپنی پارٹی کی پالیسی سے انحراف کرنے والے ممبران اسمبلی کا ووٹ گنا نہیں جائے گا البتہ ان لوگوں کی اہلیت کے بارے میں عدالت نے کیس کو پارلیمنٹ کی طرف موڑ دیا ہے۔ اگر یہ فیصلہ اپنے وقت پر آجاتا تو شاید ملکی صورت حال قدرے مختلف ہوتی۔ اب آپ ذرا سوچئے کہ ان منحرف لوٹوں کو اسلام آباد میں سندھ ہائوس میں اکٹھا کر کے پھر ان کی ایک پریس کانفرنس میں رونمائی کرانے کا مقصد کیا تھا؟ پی ڈی ایم نے عمران خان حکومت کے ساتھ دیگر پارٹیوں کو یہ شو کرنے کیلئے ان لوگوں کی رونمائی کی تھی کہ اگر وہ خان حکومت سے علیحدہ نہیں ہوں گے اور ان کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے تو یہ منحرف اراکین تو ہمارے ساتھ ہیں ہی اور ان کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد جیت ہی جائیں گے مگر اس کے بعد ایم کیو ایم جیسی پارٹیوں کی نئی حکومت میں کوئی جگہ نہ ہو گی یا بلوچستان عوامی پارٹی کے چند لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ پھر سے ساری وزارتیں ان لوٹوں کو دی جائیں گی۔ ایک اور مثال اس کی یوں ہے کہ کراچی میں ایک زمانے میں گدھا گاڑی والے گاڑی کھینچنے والے گدھے کے ساتھ ساتھ سائیڈ میں ایک اور گدھا چلاتے تھے جسے عرف عام میں پخ کیا جاتا تھا۔ گدھا گاڑی والے اس پخ کو وقتاً فوقتاً ڈنڈا مارتے تھے یہ دکھانے کیلئے اگر پہلا گدھا تیز نہ چلا تو پھر اُسے بھی ایسے ہی مارا جائے گا تو گویا پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی کے لوٹوں کو اُسی پخ کی طرح استعمال کیا۔ انہوں نے رونمائی کرا کر پی ٹی آئی کی اتحادی پارٹیوں کو بھی توڑ لیا اور تحریک عدم اعتماد میں ان لوٹوں سے ووٹنگ میں بھی ووٹ نہ ڈلوایا۔ اگر اس وقت سپریم کورٹ کا یہ ہی والا فیصلہ آجاتا کہ ان کے ووٹ کائونٹ نہیں ہوں گے تو اتحادی پارٹیاں کبھی نہ ٹوٹتیں اور تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوتی۔ دیر آید درست آید مگر بقول شاعر
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
سپریم کورٹ بس ذرا ایک منٹ لیٹ اور ایک پنی کم والے محاورے پر درست اترتی ہے وگرنہ تو جس رات بارہ بجے عدالتیں کھول کر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرایا گیا اس سے ہفتوں پہلے کورٹ میں یہ درخواست دائر کی جا چکی تھی مگر اُسے جان بوجھ کر تعطل کا شکار بنایا گیا۔
اسی طرح سے موجودہ حکومت نے اپنے پہلے ہی ہفتے میں تبادلوں اور تقرریوں کے ذریعے ماضی میں کئے گئے ان کے خلاف فیصلوں کو اپنے حق میں موڑنے کیلئے یا انہیں ختم کرنے کیلئے راستے ہموار کرنا شروع کر دئیے۔ ایف آئی اے سمیت سارے اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ کرنا شروع کر دی۔ کچھ دیانتدار افسروں نے استعفے دے دئیے کچھ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور کچھ ہارٹ فیل ہو جانے پر مر گئے مارے خوف کے مگر اس حکومت کی کارروائیاں جاری ہیں۔ صحافی، وکلاء، عمران خان سمیت سیاستدان چیختے رہے کہ یہ سارے شواہد اور ریکارڈ اپنے خلاف ضائع کر رہے ہیں مگر آزاد عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ خاموش تماشا دیکھتی رہی۔ اب چھٹے ہفتے بعد عدالت کو اچانک خیال آگیا کہ یہ سب تو بہت غلط ہورہا ہے اور اب انہوں نے اس کے خلاف ازخود نوٹس لے کر پانچ رکنی بنچ قائم کر کے اس سرکاری مداخلت کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یعنی پہلے آدھا کام مکمل کرنے دیا حکومت کو تاکہ کافی سے زیادہ نقصان ہو جائے پھر ازخود نوٹس لے لیا یعنی سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے مگر دنیا ان حربوں کو کسی دوسرے زاوئیے سے دیکھ رہی ہے۔ کچھ لوگ اِسے عدلیہ کو اپنا چہرہ بچانے کی صورت سے دیکھ رہے ہیں جو پانچ ہفتے پہلے بہت گدلا گیا تھا اور کچھ لوگ اِسے عمران خان کی لاکھوں کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ کو دی جانے والی دھمکیوں کے تناظر میں دیکھ رہا ہے مگر ہمارا تعلق اُس تیسرے گروپ سے ہے جو اسے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غلطی کے انحراف میں دیکھ رہا ہے مگر کیا کہتے ہیں کہ ؎
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!!!!