شہباز شریف کی حکومت اس بحران کو نہیں سنبھال سکتی بلکہ عوام کو خود ہی اپنے آپ کو سنبھالنا ہے!!

55

اگلے چند دنوں میں پوری دنیا میں 2008/2009 والی معاشی صورتحال ہوگی قابو میں نہ آنے والی مہنگائی، روزگار کی کمی، خوراک کی قلت، بارشیں کم یا پھر سیلاب اور طوفان. شدید گرمی اور شدید سردی – ورلڈ بینک نے اسی لئے بیالیس بلین ڈالر مختص کئے ہیں کہ انتہائی غریب ممالک اور دھکا اسٹارٹ ملکوں کی معاش کو ٹیک لگ سکے.ایسے میں شھباز شریف حکومت اس بحران کو نہیں سنبھال سکتی بلکہ ہم نے اپنے آپ کو خود سنبھالنا ہے.آج سے شروع کریں اور اگلے دو سال تک عیاشی ختم کریں اور صرف ضرورت کی چیزیں خریدیں.مہنگا اور امپورڈ فون نہ خریدیں نہ ہم ایلون مسک ہیں اور نہ ہی جنت مرزا کہ ہمارا کام دھندہ ہی موبائل سے ہے. بچوں کے ولایتی ڈائپرز بند کریں اور مقامی بنے ہوئے ڈائپرز استعمال کریں.اندرون شہر موٹر سائیکل استعمال کریں ہمارا پیٹرول ہمارا نہیں ہے بلکہ باہر سے آتا ہے.ائیر کنڈیشن 26 سے اوپر نہ جانے دیں.ایک سال ماریہ بی، ثناء سفینہ، سفائر اور گل احمد وغیرہ کے کپڑے نہ خریدنے سے ہمارے تن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا. کھانے پینے اوڑھنے پہننے اور رہنے میں ہر ولایتی شے کا استعمال ترک کردیں اور مقامی اشیاء استعمال کریں.بچت کا قومی مزاج بنانا ہوگا.وزرا اور ممبران اسمبلی کا مفت پیٹرول، بجلی، سفر رہائش اور علاج نہ عمران خان نے ختم کیا نہ یہ حکومت ختم کرے گی.اربوں پتی صنعتکاروں اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز کو ٹیکس سبسڈی نہ عمران خان نے ختم کیا نہ یہ حکومت ختم کرے گی.جی او آر کالونیوں، باتھ آئی لینڈ اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بیوروکریسی اور ججز کے اللے تللے نہ عمران خان نے ختم کئے نہ یہ حکومت کرے گی.ڈیفنس کا non-combat بجٹ کم کرنے کا تو سوچا بھی نہیں جاسکتا.اگر حکومت کیطرف سے شہروں کے بیچوں بیچ جیم خانہ، گالف کلبز اور اشرافیہ کے چونچلے بازی کے لئے قائم سینکڑوں کلبز کو نیلام کردیا جائے، وزراء اور ممبران اسمبلی کی مراعات 75 فیصد کم کردی جائیں، جائیداد کی وراثت اور تحائف والی منتقلی پر بھی ٹیکس لگایا جائے، درآمدات آدھی کردی جائیں.تو ملک معاشی ایمرجنسی سے بچ سکتا ہے. اور ہم سب انفرادی حیثیت میں وہ کام کرلیں جن سے اجتماعی طور پر ہمارے معاشی بحران کو حل کرنے میں کوئی مدد مل سکے تو یہ ملک کی اس سے بڑی خدمت ہوگی جو ہم چودہ اگست کو جھنڈے لگانے، باجے بجانے اور تیئس مارچ کی پریڈ دیکھنے کو سمجھتے ہیں.ذاتی گناہ و کوتاہیاں معافی تلافی اور توبہ سے حل کردی جاتی ہیں.اجتماعی خرابیوں کا علاج پھر بھوک، خوف، طوفان اور جنگوں سے ہی ہوتا ہے.آئیے سب مل کے عہد کریں اور حکومت پر زور دیں کے وہ میشاق جمہوریت کی طرز پر میشاق معیشت بھی بناے اور یہ اقدامات فوراً کرے
1: ایک بل پاس کرے جس میں صرف وہ سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لینے کی اہل ہو نگی جو اپنا معاشی منشور دیں گی
2: فوری طور پر لگژری اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کریں
3 :ملک میں پٹرول کی قلت ختم کرنے کے لیے پٹرول پمپ ایک دن کے لیے بند کیے جائیں ماسوائے جی ٹی روڈ کے
4: تمام مارکیٹ رات 8 بجے سختی سے بند کروا دی جائیں اور بعد میں جرنیٹر چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اس سے پٹرول اور بجلی کی بچت ہوگی
5 :اسٹیٹ بنک فوراً کمرشل بینکوں کو آڈر کرے کے گھریلو صارفین کے لیے سولر انرجی لگانے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دے اس سے بھی زرمبادلہ بچے گا اور لوڈ شیڈنگ ختمِ ہو گی۔
6: تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدی انڈسٹری کو مراعات دی جائیں اور ملک کی فضاء ایسی کی جاے کے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو اور وہ ملک میں انویسٹ کریں
7: تمام غیر ضروری سبسڈی ختم کر دی جاے۔
8 :تمام سرکاری ملازمین کی وہ سہولتیں واپس کی جائیں جو خزانہ پر بوجھ ہیں۔
9 :ایم این اے،ایم پی اے وزراء کی تنخواہوں میں فو راً کمی کی جائے
:10 ٹیکنوکریٹ اور بیوروکریٹ کی تمام مراعات ختم کرنی ہوگی
اس کے علاؤہ بھی ملک عظیم کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے اب ہر حکومت کو سیاسی طور پر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے ورنہ سری لنکا کی مثال سب کے سامنے ہے!!!