حبیب جالب کی نظمیں گانے سے کچھ نہیں ہوتا!

64

شوباز خبیث کے دل میں قوم کا بڑا درد قولنج اٹھا ہے اور قوم کی غریبی، بدحالی پر آٹھ آٹھ آنسو رو رہا ہے۔ سو اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے کپڑے فروخت کر کے عوام کی کفالت کرے گا اوران بیماریوں زدہ کپڑوں کو خریدے گا کون؟ لنڈا سے لوگ مفت اٹھا کر لے جائیں گے بچوں کی گندگی اٹھانے کے لئے۔ان سے کوئی پوچھے یہ کہاں کے شہنشاہ ہیں اور ان کے کپڑوں میں ہیرے جواہرات ٹکے ہیں۔ یہ لوگ بوکھلاہٹ میں عجیب و غریب حرکتیں کررہے ہیں۔ حلف اٹھاتے ہی تنخواہیں بڑھا دیں۔ پنشن بڑھ گئی اور بہت سے وعدے وعید کے ساتھ ہفتے کی چھٹی ختم کر دی۔ آٹھ بجے سے دفتر شروع کرنے کا مژدہ بھی سنا دیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہر حکم واپس لینا پڑایعنی uٹرن لے لیا۔ خزانے کا حال پتلا تھا پھر کچھ جنون اور بڑھا تو اپنے آپ کو دیندار ہونے کا ثبوت دینے کے لئے عمرہ کرنے چل پڑے۔ ساتھ میں وزراء کی ایک لمبی فہرست تھی یعنی حکومت کے خرچے پر سب کو عیاشی کروانے کی کوشش تھی بعد میں لسٹ چھوٹی کی گئی۔ بہرحال ماسی مصیبتاں ساتھ تھیں کیونکہ یہ مینڈکی ہر برے وقت میں آ کر غرانے لگتی ہے اسے بھی عوام نے نہیں چھوڑا۔ پاکستانیوں کی ایک فوج ظفر موج وہاں موجود تھی اور جب انہوں نے اس شیطانی ٹولے کو دیکھا تو اپنے آپ کو چور چور کے نعروں سے باز نہ رکھ سکے۔ سرکاری خرچے پر گئے یہ لوگ ’’حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ‘‘ کے مصداق اپنا تو کچھ خرچ کرنا نہ تھا۔ مال مفت تھا پاکستان کے غریب لوگوں کا پیسہ ان کی تو مثال ہے ’’ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آیا‘‘ یعنی ان کی موٹی عقل میں یہ بات آگئی کہ ہمارا عمرہ قبول ہو گا دعائیں مستجاب ہوں گی ،سارے گناہ دھل جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہے ان بے غیرتوںکو مقدس مقامات پر نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ تو اب دنیا میں کہیں بھی جائیں گے چور چور کے نعرے ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ تف ہے تم پر کہ تم بجائے اس کے کہیں اپنے آپ کو کونے کھدروں میں چھپا لوبے حیا، بے غیرتوں کی طرح عوام میں دندناتے پھررہے ہو۔
شوباز خبیث اگر عوام کی مصیبتوں کا غم تمہیں اس طرح کھائے جارہا ہے اپنے بھائی کی طرح تمہیں بھی دن میں انجائنا کے چار پانچ دورے پڑ رہے ہیں تو لندن کے فلیٹ اور جائیدادیں بیچو۔ سعودی عرب امارات میں جو کچھ ہے اسے بھی عوام پر قربان کر دو۔ پاکستان کی شوگر ملیں اور جاتی امرا بھی فروخت کر دو تو کوئی بات بنے یوں مگر مچھ کے آنسو بہانے سے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے سے ،حبیب جالب کی نظمیں گانے سے، مائیک توڑنے سے کوئی بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ تمہارے املاک فروخت کر کے عوام کی مدد کرنے سے ان غریبوں کی شاید کوئی اشک شوئی ہو جائے اور وہ تمہارے پیچھے چور چور کے نعرے لگانا چھوڑ دیں۔ تمہاری یہ جعلی حکومت زیادہ چلنے والی نہیں اس کے بعد شاید عوام تمہارا منہ کالا کر کے جوتیوں کا ہار پہنا کر گدھے پر بٹھا کر شہروں کے چکر لگوائیں عوام سے گزارش ہے کہ اپنے پرانے جوتے ضائع نہ کریں سنبھال کر رکھیں۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ تایخ میں میر جعفر اور میر صادق کے علاوہ بھی غدار ہیں ان کو بھی عزت بخشیں۔
پاکستان کے عوام اپنی فوج سے بے تحاشا محبت کرتے ہیں۔ عمران خان بھی اپنے لوگوں کو یہی باور کراتے رہتے ہیں فوج ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم ہے۔ فوج کی وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے۔ پاکستانی بچے بھی جب فوجی ٹرک گزرتے دیکھتے ہیں تو اپنے جانبازوں کو سلیوٹ کرتے ہیں۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد!
تھیوری اور پریکٹیکل میں فرق ہوتا ہے جب تک انسان تجربہ کر کے نہ دیکھے سمجھ میں نہیں آتا۔ عمران خان کو پاکستانی سیاست کا بالکل پتہ نہیں تھا اور اسی وجہ سے اُسے لوگوں کو سمجھنے میں غلطیاں ہوئیں اور ایک بات یہ بھی انسان جیسا خود ہوتا ہے دوسروں کو بھی ویسا ہی سمجھتا ہے وہ سیدھا سادھا سچا مومن انسان ہے اس لئے ان شاطر منجھے ہوئے سیاست دانوں نے اُسے دھوکہ دیا لیکن اب عمران کو تھوڑا کھرے کھوٹے کی شناخت ہو گئی ہے۔
میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں تیرے نہیں ہیں!
شاطر لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے بڑی بڑی حکومتیں ملیا میٹ ہو گئیں۔ سراج الدولہ بنگال کا نواب تھا۔ بہادر تھا اور انگریز جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے برصغیر میں تجارت کے لئے آئے یہاں کے حکمران بن بیٹھے۔ سراج الدولہ ان کے عزائم کے آگے ایک دیوار تھا۔ قلعہ جب فتح ہو گیا تو میر جعفر جو سراج الدولہ کی فوج کا سپہ سالار تھا نے نواب سے کہا کہ آپ قلعے کے پچھواڑے میں چھپ جائیے۔ نواب وہاں چھپا ہوا تھا میر جعفر نے انگریزوں کو بتا دیا اور انہوں نے نواب کی طرف سے شدید مزاحمت کے باوجود شہید کر دیا۔ لارڈ کلائیو جس وقت سراج الدولہ کی لاش دیکھنے آیا تو بہت دور کھڑا ہوا تھا اُسے اب بھی خوف تھا کہ کہیں نواب اٹھ کر اس پر حملہ نہ کر دے۔ میر جعفر سے عہدے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ مل بھی گیا لیکن زیادہ نہ چل سکا۔
فتنہ پرور لوگوں اور لالچی لوگوں کی وجہ سے بہت سی بادشاہتیں تباہ ہوئیں فسادی لوگوں نے باپ سے بیٹوں کو مروایا۔ بیٹوں سے باپ کو قتل مروایا۔ بھائیوں کو تخت و تاج کی وراثت کے لئے قتل کروایا۔ آپس میں پھوٹ ڈال دی۔
ایک دفعہ شاہ جہاں بیمار پڑ گیا۔ اورنگ زیب کو خبر ہوئی تو وہ دور دراز علاقے میں کسی مہم پر تھا۔ فوج ساتھ تھی۔اسی حالت میں وہ باپ کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہونا چاہتا تھا۔ جب وہ اپنی فوج کے ساتھ دہلی کی طرف بڑھ رہا تو فتنہ پردازوں نے مشہور کر دیا کہ شہزادہ باغی ہو گیا ہے اور معہ فوج کے باپ سے جنگ کرنے آرہا ہے۔ شاہی فوج کو بھی تیاری کا حکم دے دیا گیا لیکن شہزادے نے اپنی فوج کو دریا کے کنارے چھوڑا اور تنہا غیر مسلح باپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔شاہ جہاں نے بیٹے کو سینے سے لگالیا اور یہ عقدہ اس پر کھل گیا کہ باپ بیٹے کو لڑوانے کی ایک سازش تھی۔ سازشی لوگوں کا جو انجام ہو گا وہ تاریخ بتا دے گی۔