لاحاصل مشق!!

203

یہ کیسے کہہ دوں کہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وطن عزیز ہمیشہ ہی گرداب میں رہا اور گرداب سے کبھی نکل نہ سکا، ایک زندہ قوم اپنا راستہ خود تجویز کرتی ہے اور ملک کے لیڈر اس راستے پر قوم کی آرزوئوں اور امنگوں کے مطابق چلتے ہیں ہوش مندی سے فیصلے کرتے ہیں اور عوام کی مادی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہیں اور مناسب منصوبہ بندی کرتے ہیں، ملک کی داخلہ پالیسی ہمیشہ معیشت کی ترقی، امن و امان کے استحکام، تعلیم اور صحت کے بہتر مواقع کے گرد گھومتی ہے، ملک کی خارجہ پالیسی میں اعتدال رکھا جاتا ہے ملک کے حالات کے تناظر میں دوستوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اوراس انتخاب میں یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جاتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی فراہم کریں ملک میں صنعت کاری کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں، معاشی ترقی ہی مقصود ہوتی ہے دنیا کا ہر ملک مذہب کا احترام کرتا ہے اور مذہبی آزادی کو ضرروی سمجھتا ہے کوئی ملک مذہب کا پرچارک نہیں ہوتا، یہ ساری موٹی موٹی باتیں ہیں جن کا تعلق عوام کی آرزوئوں اور امنگوں سے ہوتا ہے،۲۳ مارچ کو جو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اس میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست ہو گا یہ ملک مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی ممکنہ چیرہ دستیوں سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا تحریک پاکستان کا غیر جانبدار مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ، یہ تقسیم کے بعد جھوٹ گھڑا گیا اور دینی حلقوں نے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا، لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد کو منظور کروانے کے بعد پاکستان میں مذہبی منافرت کی بنیاد رکھ دی اور پھر ۱۹۵۴ میں احمدیوں کے خلاف منظم سازش کر کے فرقہ واریت پاکستان کی سیاسی تاریخ بنا دی گئی، ملک کی قسمت مذہب سے باندھ کر ملک کی ترقی کے پائوں میں بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں، عجب ستم ہے کہ ہمارا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ افغانستان کو دنیا سے تسلیم کرانا اور اسلاموفوبیا ہے ان ممالک سے تعلقات نہیں جو ملک میں صنعتکاری میں ہماری مدد کر سکتے ہیں جبکہ وہی ممالک ہیں جو ہماری مصنوعات درآمد کرتے ہیں اور ان برآمدات سے ہمیں زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
ملک میں اس وقت اپوزیشن کی تین جماعتوں اور پی ٹی آئی کے درمیان اقتدار کی جنگ جاری ہے ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ ایلیٹ کی جنگ ہے یہ کل ملا کے دو سو خاندان ہیں جن کی سیاست پر اجارہ داری ہے میڈیا انہی کا غلام ہے اور یہ دو سو خاندان اور ان کے گماشتے یا حواری میڈیا پر نظر آتے ہیں عوام کا اس سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، سڑکوں پر زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے کارکن ہیں اور ایک اندازے کے مطابق عوام کی شرکت دس فیصد ہوتی ہے لیکن اگر عوام کی شرکت اس سے زیادہ بھی ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کیا وہاں نعرے لگانے جاتے ہیں یا ان کے ہاتھ مشغلہ آجاتا ہے اور وہ اپنی زندگی میں ہلے گلے کے لئے جلوسوں میں وہاں جاتے ہیں ،بہرحال اسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میں عمران کا جلسہ sizeableتھا مگر اس جلسے کی outcomeسوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ بھٹو کی طرح انہوں نے بھی ایک خط لہرایا اور کہا کہ ان کے خلاف عالمی طاقتیں سازش کررہی ہیں، اس میں تجزیہ نگاروں کی جانب سے واضح طور پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کا نام لیا گیا میرے خیال میں جب اپنی بہت طاقتور حکومت کے باوجود نہ اپنی حکومت بچا سکا نہ خود کو تو عمران کی حکومت تو بہت کمزور ہے اور ایسے موقع پر جب فوج بھی نیوٹرل ہو چکی ہے تو عمران اپنی حکومت کیسے بچا پائیں گے اور سوال تو یہ بھی ہے کہ بھٹو سے تو عالمی طاقتوں کو خطرہ تھا مگر عمران نے ایسا کیا کیا ہے جس سے عالمی طاقتوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ عمران کا HALLUCINATIONہے کہ مغربی طاقتیں اس سے خوفزدہ ہیں اقوام متحدہ کی اسلاموفوبیا کی قرارداد کے سوا عمران کی جھولی میں کچھ بھی نہیں۔
عمران کے خلاف اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تب بھی ملک کو معاشی بدحالی سے باہر نہیں نکالا جا سکتا جو عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، مجھے ہنسی بھی آتی ہے کہ فوج عمران کو پالش کر کے عوام کا مسیحا بنا کر لائی تھی مگر دونوں کے پاس اس گند کو صاف کرنے کا کوئی پلان نہیں تھا جس طرح عوام نے عمران کے وعدوں کا اعتبار کر لیا اسی طرح فوج نے بھی مان لیا تھا کہ عمران کے پاس اتنی مستعد ٹیم ہے جو ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکال سکتی ہے۔ عمران تین سال تک نون لیگ کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے مگر نون لیگ کا ایک کارکن بھی نہ ٹوٹ سکا زرداری کا بھی عمران کچھ نہ بگاڑ سکے اور ہوا یہ کہ جہانگیر ترین اور علیم ناراض ہو گئے عمران حکومت کوئی میگا سکینڈل میں بھی کسی کو سزا نہ دے سکی مگر چور ڈاکو کی تکرار جاری رہی اتنا ہی ہوسکا کہ ۲۰۱۲ سے ۲۰۲۲ تک عمران نے ان دو خاندانوں کو بدنام کر دیا اب وہ چور ڈاکو ہوں یا نہ ہوں مگر عام لوگ ان کو چور ڈاکو ہی مانتے ہیں اور اس کو عمران کی کارکردگی نہیں مانا جا سکتا، کارکردگی کا پیمانہ صرف یہ ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے عام انسان کی زندگی میں کیا فرق پڑا کیا ریلیف ملا۔
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے اور اپوزیشن حکومت بنا لیتی ہے تب بھی عوام کو کوئی معاشی ریلیف نہیں مل سکتا، کیونکہ ان میں کسی بھی رہنما کے پاس معاشی وژن ہے ہی نہیں بلدیاتی انتخابات ہوتے رہتے ہیں، طلباء تنظیموں اور مزدور انجمنوں پر پابندی نہ ہوتی تو نئے لوگ سامنے آجاتے عوام کی سیاست میں شرکت رہتی مگر ایسا تو نہیں ہے تو یہی جو ایلیٹ کہے جاتے ہیں کاروبار حکومت چلائینگے جن کے اپنے مفادات ہیں، میرا خیال ہے کہ حالات جوں کے توں رہیں گے ایسا لگتا ہے کہ عمران کو فوج صرف اس لئے لائی کہ وہ فوج کی افغان پالیسی کو پایہ تکمیل تک پہنچائے یہ کام عمران نے کر دیا ہے سو عمران کی ضرورت نہیں ہے عمران نے گزشتہ تین سالوں میں خود اپنے پائوں پر کئی بار کلہاڑی ماری ہے ان کو کم از کم یہ تو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ فوج ہی ملک کی مائی باپ ہے انہی کی سپورٹ سے حکومت مضبوط ہوتی ہے یہ ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے مگر عمران فوج سے بھی الجھ بیٹھے پریڈ گرائونڈ میں انہوں نے فوج کو للکارا عدم اعتماد کا فیصلہ تو چند روز میں ہو جائیگا اور اس میں عمران سرخرو ہوئے تو پھر ان کو فوج کا سامنا ہو گا اور ان کو اچھا بچہ بننا ہو گا میرا خیال ہے کہ کامیابی اپوزیشن کو ملی تو کسی حد تک فوج سے مفاہمت رہے گی اور پاکستان ویسے ہی چلے گا جیسے چلتا آیا ہے۔۔۔