عمران اکثریت کھو بیٹھے، پاکستانی قوم بڑی بدقسمت قوم ہے!

269

پاکستان کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں مارچ 2022ء کے آخری ہفتے کے دن ضرور یاد رکھے جائیں گے جب سازشی ٹولہ، ڈاکو، ملک لوٹنے والے اپنے بیرونی آقائوں کے حکم پر اور لوٹی ہوئی دولت کے بل بوتے پر ایک ایماندار اور ملک سے محبت کرنے والے شخص کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے ملک میں آئندہ کیا ہو گا اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اس ملک کے عوام شاید بہت بدقسمت لوگ ہیں جن پر تیس سال سے چور، ڈاکو مسلط ہیں جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ان کو کنگال کیا لندن میں محلات بنائے، وہی ٹولہ سازش کر کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کررہا ہے جب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی یہ سازش اس سے کئی ماہ پہلے سے شروع تھی، اس سازش کا سب سے اہم کردار آصف علی زرداری تھا اس نے اپنی لوٹی ہوئی دولت کے ساتھ اس سازش کا افتتاح کیا اور ن لیگ کو بھی ساتھ ملا لیا۔ نواز شریف جو لندن میں بیٹھا ہوا تھا اس کی بیٹی نانی مریم صفدر یہاں پر بیٹھ کر اس سازش میں شامل ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کا سربراہ تھا اس نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور پی ٹی آئی کو نشانے پر رکھا۔ عمران خان شریف آدمی ہے۔ ان سازشی ٹولے کی سیاست کو سمجھ نہ سکا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے اتحادی اس کے ساتھ رہیں گے لیکن ان اتحادیوں نے اس کو سب سے زیادہ دھوکہ دیا ساتھ ساتھ ایم کیو ایم نے آخری کیل تابوت میں ٹھونک دی۔ ایم کیو ایم نے اپنا مفاد دیکھا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یا سمجھ رہے ہیں کہ آصف زرداری سے لکھا ہوا سمجھوتہ کر کے ان کو کچھ مل جائے گا یہ ان کی بھول ہے۔ آصف زرداری وہ شاطر انسان ہے جس سے مل کر بندے کو احساس ہوتا ہے کہ قول و فعل میں تضاد کیسے ہوتا ہے۔ بقول اس کے ایگریمنٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا ہے جس سے بندہ اپنی رائے نہ تبدیل کر لے اور اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے۔ اس نسل کا یہ انسان ہے آصف زرداری جس کا نام ہے۔
اب نواز شریف کے کردار پر بھی نظر ڈالتے ہیں اس نے لندن میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف سازش کی جب سے اس کو اقتدار سے نکالا گیا اس نے اپنے لندن جانے کیلئے ڈرامہ کیا اور ڈاکٹروں، عدلیہ کو دھوکہ دے کر لندن بھاگ گیا۔ جاتے جاتے پوری قوم کو انگوٹھا دکھا گیا۔ وہاں جا کر وہ برگر کھارہا ہے اور سیریں کررہا ہے۔ یہ سازش لندن بیٹھ کر بنائی گئی کہ کس طرح بیرونی ملکوں کی ایجنسیوں کو شامل کیا جائے۔ ان سے کس طرح مدد لی جائے۔ کس طرح ان کو استعمال کیا جائے۔ عمران خان نے جب سے Absulotley notکہا تھا وہ دن پوری دنیا کے لئے حیران کن تھا ایک غریب ملک کا وزیراعظم کس طرح اتنی جرأت کر سکتا ہے کہ وہ ایک بڑی طاقت ور کو یہ الفاظ کہہ سکے اور شاید یہی اس کی شکست کا آغاز تھا۔ اس نے سامراجی طاقتوں کو ناراض کر دیا تھا جب سے اس نے چین اور روس سے ہاتھ ملایا تھا۔ اس کو ہر طرف سے دھمکیاں آرہی تھیں۔ چین جانا اس کے لئے عذاب بن گیا تھا۔ سونے پر سہاگہ وہ روس بھی چلا گیا ادھر روس یوکرائن پرحملہ کررہا تھا۔ ادھر عمران خان روس کے صدر پیوٹن سے مذاکرات کررہا تھا یہ مذاکرات بھی تین گھنٹے تک جاری رہے۔ دنیا حیران اور پریشان تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ روس نے جس طرح یوکرائن پر حملہ کیا اور اس کو گھٹنوں پر لے آیا وہ پوری دنیا دور سے دیکھتے رہے یورپی یونین خاموش رہا اس کو پتہ ہے اس نے جنگ میں حصہ لیا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی۔ اب عمران خان روس جانے کی سزا بھگت رہا ہے۔ اس کے خلاف دولت کے انبار استعمال کئے گئے۔ پاکستانی بکائو اور ملک دشمن سیاستدانوں کو استعمال کیا گیا۔ پاکستانی سیاستدانوں کی بولیاںلگائی گئیں ۔بیس پچیس کروڑ میں پاکستانی جعلی سیاستدان بکے اور ان کے خریدار آصف علی زرداری اور نواز شریف تھے۔
دیکھیں آنے والا وقت کس طرح ہو گا۔ پاکستانیوں کی قسمت میں بربادی اور تباہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا۔کیسی بدقسمت قوم ہے جس پر تیس سال سے زیادہ فوجی حکومت کرتے رہے اور تیس سال سے یہ دو ڈاکو ادل بدل کر حکومت کررہے ہیں اور پاکستانی قوم کی قسمت میں مہنگائی غربت کے علاوہ کچھ بھی نہیں آیا اور ان خاندانوں کے اکائونٹ میں دولت کے ڈھیر لگ گئے۔