پاکستان بمقابلہ تین شیطان!

364

پہلے کہا جاتا تھا کہ ریاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا جو بالکل سچ تھا اسلئے کہ دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جہاں تاج و تخت کیلئے باپ نے بیٹوں کو ذبح کیا اور بیٹوں نے باپ کا گلہ گھونٹنے میں کوئی عارنہیں سمجھا۔ ہمارے مغلیہ دور کی تاریخ کا سب سے سفاک باب تو وہی ہے جب اورنگ زیب عالمگیر نے تخت کیلئے اپنے درویش صفت باپ، شاہجہاں کو اپنی بہن اور شاہجہاں کی بڑی بیٹی جہاں آراء سمیت آگرہ کے قلعہ کے سمن برج میں قید کردیا تھا۔ لیکن اب ریاست کے ساتھ ساتھ یہ اضافہ کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل کی جگہ پتھر رکھا ہوتا ہے۔ ویسے بھی سیاست اور ریاست، یعنی اقتدار کی طلب ، میں چولی دامن کا ساتھ ہے لہٰذا کوئی تعجب نہیں جو سیاست کے سینے میں بھی دل غائب ہوتا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو عمران خان اپنے محبوبِ نظر، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کو، جن کیلئے وہ ساڑھے تین برس تک ہر محاذ پر لڑتے رہے ، یوں اقتدار سے محروم نہ کرتے جیسے اطمینان سے انہوں نے اپنے چہیتے کو یوں فارغ کردیا جیسے دودھ میں سے مکھی نکال کے پھینک دیتے ہیں۔
عمران نے اپنے اس سیاسی رفیق کی، جنہیں وہ اپنی سیاسی ٹیم کا وسیم اکرم-پلس کہا کرتے تھے اور جن کی رفاقت کے دفاع میں انہوں نے نہ جانے کتنوں کو اپنا دشمن بنا لیا تھا، قربانی انتہائی مجبوری کے عالم میں دی ہے۔ وہ جو کہا جاتا ہے کہ جنگ و محبت میں سب جائز ہوتا ہے تو یہ بقا کی جنگ ہے جس نے عمران خان کپتان سے وہ کروا دیا جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ لیکن مجبوری وہ بھی کروادیتی ہے جس کا کبھی سوچا بھی نہ ہو، اور بزدار کی قربانی کپتان کیلئے ایک ایسی ہی مجبوری بلکہ ضرورت بن گئی تھی جسے ادا کئے بغیر ان کے اقتدار کی ناؤ ڈانواں ڈول ہوسکتی تھی۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس حقیقت میں کیا کلام ہے اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ وزن دار ہے کہ پنجاب پر اقتدار اسلام آباد سے پورے پاکستان پر حکومت کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ اسی بات نے تو عمران سے بزدار کی قربانی کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کروالیا کہ بزدار کا جانشین ان کی اپنی تحریکِ انصاف سے نہیں بلکہ ان کے سیاسی حلیف، مسلم لیگ (کیو) کے چوہدری پرویز الہی ہونگے۔
بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کی مثال تو آپ نے بارہا سنی ہوگی لیکن جیسی یہ کہاوت آج پرویز الہی پر صادق آئی ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ گجرات کے یہ دو چوہدری، شجاعت اور پرویز الہی، سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر اور پرانے کھلاڑی ہیں۔ عمران سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا منہ مانگا انعام لینے کیلئے انہوں نے جو سیاسی جوڑ توڑ کیا ہے اسے آسان زبان میں بلیک میل کہا جاتا ہے۔ عمران پر جو وقت پڑا ہے، ان کے خلاف صف آراء چوروں کے ٹولے نے انہیں اقتدار سے محروم کرنے اور پاکستان کو پھر سے اپنی شیطانیت کا یرغمالی بنانے کیلئے جو ناٹک رچایا ہے اس کا اب پردہ گرنے والا ہے۔ اب یہ پردہ عمران کی فتح کے بعد گرتا ہے یا ان کی ممکنہ شکست کے بعد، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے لیکن ان کی مجبوری ، جو اول روز سے تھی لیکن اب وہ ان کے حلق کا کانٹا بن گئی ہے ، یہ ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد سے سرخروئی کے ساتھ نکلنے کیلئے انہیں اپنے حلیفوں کے ووٹ کی ضرورت ہے بلکہ اشدضرورت ہے جس کے بغیر ان کی نیاّ پار نہیں لگ سکتی۔ تو وہ جو حقیقت ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اس کا بھرپور مظاہرہ عمران کے سیاسی حلیف کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دوست وہ ہے جو وقت پڑنے پر کام آئے لیکن کام آئے بغیر غرض کے، بغیر کسی لالچ کے لیکن عمران کے سیاسی حلیفوں نے تو ان کی اس مجبوری کو اپنے لئے نعمت سمجھتے ہوئے اس سے جتنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اس نے یہ تو ثابت کردیا کہ یہ طالع آزما،نہ عمران کے دوست ہیں نہ پاکستان کے، یہ تو صرف اپنی ہوس کے اسیر اور اپنی غرض کے بندے ہیں اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران کی کلائی جس حد تک ممکن ہو موڑ رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الہٰی کی رال نہ جانے کب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے ٹپک رہی تھی سو عمران کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنا مقصد حاصل کر ہی لیا۔ یہ چوہدری ضیا الحق کے بھی ساتھی تھے، پرویز مشرف نے ان کی مدد سے مسلم لیگ کو توڑا اور’’ کیو ‘‘نام کے دھڑے کی قیادت ان کے حصے میں آئی۔ ان کے باپ کی تاریخ ہم شاید کسی گذشتہ کالم میں بیان کرچکے ہیں۔ چھوٹے لوگ ہیں، کم ظرف اور کم ذات اور ایسے لوگوں کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ یہ اپنے مفاد کیلئے وقت پر گدھے کو بھی باپ بنالیتے ہیں اور طوطے کی طرح آنکھیں پھیرنے میں بھی ایک لمحہ ضائع نہیں کرتے اور اس عمل میں جسے منہ دکھاوے کو دوست کہتے ہیں اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں کوئی تکلف نہیں کرتے۔ ان کے پانچ اراکین عمران کے ساتھ تھے لیکن ایک ، ملت فروش بشیر چیمہ کی آنکھیں حرام کے پیسے کی چمک دمک سے چندھیا گئیں سو وہ حزبِ اختلاف سے مل بیٹھا لیکن ڈوبتے کو تنکا کا سہارا کہ پرویز الہی کے چار رفیق بھی اس کڑے وقت میں عمران کو چار سو نظر آرہے ہیں سو ان کی خاطر عثمان بزدار کو قربانی کا بکرا بنادینا ناممکن نہیں رہا۔ بلوچستان کی عوامی پارٹی، باپ نام کی، عمران کی اب تک حلیف تھی لیکن اس کے سربراہ نوابزادہ خالد مگسی نے اس کٹھن لمحہ میں عمران کے ساتھ وہی کیا جو پلاسی کی جنگ میں غدارِ وطن، میر جعفر، نے اپنے داماد نواب سراج الدولہ کے ساتھ کیا تھا، پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اور فرنگی کے ساتھ مل کر۔ بلوچستان کے یہ سردار، خالد مگسی جیسے بے پیندے کے لوٹے، ملت فروشی میں بے مثال ہیں۔ اگرآپ پڑھ سکیں تو ایک کتاب ہے، ٹائیگرز آف بلوچستان جسے ایک انگریز خاتون صحافی سلویا نورس نے تحریر کیا ہے، وہ کئی مہینے نواب اکبر بگٹی کے ڈیرے میں ان کی مہمان رہی تھیں اور سرداروں کے اس کلچر کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا اور پھر اپنے تاثرات کوکمال ہنر سے قلمبند کیا۔ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اسے پڑھنے کے بعد ان درندہ صفت سرداروں کے کریہہ چہرے اپنے اصل روپ میں نظر آتے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی کے بلوچ سردار اپنی ذہنیت کے اعتبار سے پتھر کے دور کے انسان سے مختلف نہیں ہیں۔ یہ خالد مگسی وہی ہے جس نے بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومت بھی گروائی تھی لیکن آج وہ نواز اور زرداری کی گود میں جا بیٹھا ہے۔ لیکن باپ پارٹی کے پانچ اراکین میں سے ایک ، زبیدہ جلال نے، جو عمران کی کابینہ میں وزیر بھی ہیں حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ سو ان کا ایک قیمتی ووٹ بھی عمران کی جھولی میں ہے۔ لیکن گنتی پوری کرنے کیلئے کراچی کی نمائندگی کرنے والے ایم کیو ایم کے سات اراکین کی حمایت بھی ناگزیر ہے۔ اسی لئے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ شریک رکھنے کیلئے عمران کے رفقاء ہمہ تن مصروف ہیں۔ ایم کیو ایم کے بھائیوں کی جو شہرت ہے وہ من و عن ان کے کردار کے مطابق ہے اور وہ یہ کہ گجرات کے چوہدریوں کی طرح یہ بھیٔے بھی کسی کے یار نہیں بلکہ صرف اپنی انا اور غرض کے بندے ہیں۔ ایم کیو ایم کی ساکھ کو تو بھائی الطاف نے پہلے ہی تحت الثرہ میں پہنچادیا تھا لیکن اب بھیؤں کی نظر میں ایک سنہرا موقع ہے عمران سے اپنے مطالبات منوانے کا۔ ایم کیو ایم کے کچھ مطالبات تو بالکل جائز ہیں اور مبنی برحق ہیں۔ مثال کے طور پر یہ مطالبہ کہ کراچی میں نئے سرے سے مردم شماری کروائی جائے اسلئے کہ ڈاکو زرداری کی نوکر وڈیرہ شاہی کراچی میں مہاجروں کی تعداد کم سے کم دکھانے کیلئے جعلسازی کرتی رہی ہے تاکہ مہاجروں کوحقوق دینے میں ڈنڈی مارسکیں۔ لیکن ایم کیو ایم کے اس اصرار سے کہ انہیں ایک اور وزارت دی جائے اور وہ بھی جہاز رانی، یعنی شپنگ، کی وزارت بد نیتی اور لالچ کی بو آرہی ہے۔ ماضی میں جب یہ بھیٔے مشرف کے حلیف تھے اور اس آمر کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی تھی تو اس وزارت کا قلمدان ان ہی کے پاس تھا اور ان کی طرف سے وہ رسوائے زمانہ بابر غوری، جو جعلی غوری ہے، وزیر جہاز رانی تھا۔ اس بد دیانت اور گردن گردن غلاظت سے اٹے بابر غوری نے اپنی وزارت کو ہر قسم کی چوری اور اسمگلنگ کیلئے استعمال کیا اور اربوں کمائے۔ اب وہ بد بخت ٹیکساس کے ایک بڑے شہر میں نہ جانے کتنی جائیدادوں کا مالک ہے اور دادِ عیش دے رہا ہے۔ سو اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایم کیو ایم کو اگر ان کی من پسند وزارت پھر سے مل گئی تو وہ اسے سونے کی کان کی طرح استعمال کرینگے۔
عمران خان کی یہ سب مجبوریاں اور درپیش قباحتیں اپنی جگہ لیکن اس جنگ میں جو سیاست کے محاذ پہ لڑی جارہی ہے جو نکتہ سب سے اہم ہے وہ یہ کہ پاکستان کو لوٹنے والے سب چور اور ڈاکو عمران حکومت کوگرانے کیلئے ساتھ نکل آئے ہیں۔ عمران نے اس کی پیشنگوئی تو اپنے اقتدار سنبھالتے ہی کردی تھی اسلئے کہ ان کی لوٹ مار کو بے نقاب کرنا کپتان نے اپنا مشن قرار دیا تھا اور وہ اس پر ابتک ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران کے یہ تین بدترین مخالف، بلکہ کھلے دشمن، نواز، زرداری اور ان دونوں کا بظاہر گرو گھنٹال، ملا فضلو ہے جس کے بارے میں بلا خوفِ تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیطان کا اگر کوئی روپ ہوسکتاہے تو وہ فضلو کا ہے۔ یہ محض عمران کے دشمن ہی نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں اور اس بھی بدتر بات یہ ہے کہ یہ ملت فروشی کا وہی کام پھر سے کررہے ہیں جس کے ذریعہ فرنگی ، جو انگلستان کے چھوٹے سے جزیرے سے نکلا تھا، وسیع و عریض بر صغیرہندوستان پر با آسانی قابض ہوگیا تھا۔ فرنگی یہ بھید پاگیا تھا کہ اس دیس کے باشندے دولت اور روپے پیسے کے عوض اپنی ماں کا سودا بھی کرسکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وطن سب کی ماں ہوتا ہے۔ فرنگی کا آزمودہ نسخہ اب نئے دور کا استعمار استعمال کررہا ہے اور پاکستان میں وفاداریاں خرید رہا ہے۔ پہلے بھی خریدتا رہا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دستِ راست لیاقت علی خان کو استعمار کے گماشتوں نے ہی سازش کرکے اپنے راست سے ہٹایا تھا۔ وہ دن، قائدِ ملت کی شہادت کا دن اور آج کا دن، وہی لوگ پاکستان میں اقتدار کے حریض چلے آرہے ہیں جو بے ضمیر اور ملت فروش ہیں۔ جن کی رگوں میں ملت فروش اسلاف کا خون دوڑ رہا یہ ملا فضلو اس باپ کا بیٹا ہے جو قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہنے والے کٹھ ملاؤں کے ساتھ تھا اور پاکستان بننے کے بعد جس نے اس مذہبی لیبل والی جمیعت العلمائے اسلام یا جے یو آئی سیاسی پارٹی کی تاسیس کی اور پھر بڑے ٹھسے اور فخر سے کہا کہ ہم سے پاکستان بنانے کا کفر سرزد نہیں ہوا۔ یہ ان کی اولاد ہے جو پاکستان کو کفرستان کہتے تھے۔ اور اس ابلیسی گماشتے نے کشمیر کمیٹی کی سربراہی میں جو اربوں روپے لوٹے ان کی الگ داستان ہے۔ اب یہ سامراج کا پاکستان میں سب سے بڑا سرغنہ ہے۔
زرداری کا خاندان سندھ میں ڈاکےڈالا کرتا تھا۔ پاکستان کی تاریخ لکھنے والا مستقبل کا مورخ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ پاکستان کی پیشانی کا سب سے بدنما داغ یہ ہے کہ ایک ڈاکو پانچ برس تک مملکتِ خداداد کا صدر بن کر دادِ عیش دیتا رہا۔ اس کا زیادہ وقت اسلام آباد میں نہیں بلکہ دبئی میں گذرتا تھا لیکن وہ آج بھی پاکستان میں معزز ہے بلکہ بادشاہ گر کی طرح یہ اعلان کررہا ہے کہ پاکستان کا اگلا وزیرِ اعظم شہباز شریف جیسا نامی چور ہوگا۔ شریف خاندان دن دہاڑے ملت فروشی کرتا رہا ہے۔ اس کے کارخانوں میں پاکستان دشمن بھارت کے کارندے کام کرتے رہے ہیں۔ دونوں بھائی، نواز اور شہباز، کھل کر اکھنڈ پنجاب کیلئے سازشی کام کرتے رہے ہیں وہ تو خود بھارتی پنجاب کے سکھوں نے انہیں منہ لگانا چھوڑدیا جس کے بعد نواز نے مودی سے اپنی یاری استوار کی۔ اب نواز ان سازشوں کا کلیدی کردار ہے جو عمران حکومت کو ختم کرنے کیلئے اس ملک کی شہ پر ہورہی ہیں جو بزعمِ خود دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی بنا ہوا ہے اور ہر ملک کے اندر ونی معاملا ت میں بیجا مداخلت کرنا اپنا پیدائشی حق گردانتا ہے۔ عمران کے خلاف یہ سازش اس دن تیار ہوئی تھی جب عمران نے واشگاف الفاظ میں اعلان کی کیاکہ وہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا اور نہ ہی کسی کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے بنانے کی سہولت دیگا۔ استعمار کو تو یقین نہیں آیا کہ یہ اسی ملک کا سربراہِ حکومت ہے جس کے حاکم اس کے غلام رہے ہیں اور ایک فون کال پر پانی میں بتاشے کی طرح بیٹھ جایا کرتے تھے۔ عمران کی آزاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی استعمار کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ غیر پسندیدہ حکومتوں کو گرانا استعمار کا پرانا کھیل ہے اور اس کیلئے آزمودہ نسخہ وہی ہے جو فرنگی کا ایجاد کردہ ہے، یعنی میر جعفر اور میر صادق خریدو اور ان سے آستین کے سانپوں کا کام لو۔ عمران نے تو اپنے فقید المثال عوامی جلسہ میں اپنے لاکھوں پرستاروں کو وہ خط بھی دکھادیا جو استعماری طاقت یا طاقتوں نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو تحریر کیا ہے اور جس میں کھلی دھمکی ہے عمران کی حکومت کو گرادینے کی۔
تو یہ تین شیطان، جنہیں عمران نے چوہے کہا ہے، اپنے مغربی آقاؤں کی شہ پر میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرنے نکلے ہیں۔ سامراجی گماشتے ایک ایماندار، کھرے اور دیانتدار پاکستانی رہنما کو داستانِ پارینہ بنانے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ لیکن عمران کا چراغ ان مفسدوں اور ملت فروشوں کی پھونکوں سے بجھنے والا نہیں ہے۔ حق و باطل کی جنگ ہے اور کائنات کا پیدا کرنے اور چلانے والا خدائے قادر و مطلق اپنی کتابِ مبین میں یہ کہہ چکا ہے: جاءالحق زھق الباطل۔ ان الباطل کان زھوقا۔ حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل کو مٹنا ہی تھا۔ پاکستان کے شیطانوں کے فریب کا پردہ بھی چاک ہونے والا ہے اور فسادیوں اور پاکستان دشمنوں کے ناٹک کا پردہ ان کے سیاہ چہروں پر گرنے والا ہے، ان شاء اللہ۔