چرچل کا برطانیہ اور یوکرین!

138

برطانیہ اگر دوسری جنگ عظیم ہار جاتا تو آج چرچل کا نام کسے یاد ہوتا،یوکرین کا صدر زیلنسکی اگر اپنا ملک بچا بھی لے تو اسے کون یاد رکھے گا یوکرین کے لوگ اور مؤرخین اسے ایک ہیرو سمجھیں گے مگر یورپ اور امریکہ کے لوگ بہت جلد اسے بھول جائیں گے برطانیہ ایک ایمپائر تھی اوروزیر اعظم ونسٹن چرچل ایک منجھا ہوا سیاستدان‘ شعلہ بیان مقرر اور عالمی شہرت یافتہ مدبر اور دانشور تھا جب وہ برطانیہ کا وزیر اعظم بنا تو اسے سیاست کرتے ہوے چار دہایاں ہو چکی تھیں ولادیمیر زیلنسکی ایک چھوٹے سے ملک کا صدر ہے اس نے ایک ٹیلیویژن کامیڈین کی حیثیت سے شہرت حاصل کی اور ایک مختصر سیاسی کیرئر کے بعد صدر بن گیا دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے وقت چرچل کی عمر ستر برس کے قریب تھی جبکہ زیلنسکی کی عمر چوالیس سال ہے آٹھ مارچ کو زیلنسکی نے برطانیہ کے ہائوس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوے چرچل کی اس یادگار تقریر کا ذکر کیا جو اسنے چار جون 1940 کو اسی قانون ساز ادارے میں کی تھی اس تقریر میں چرچل نے کہا تھا ’’ ہم دریائوں اور سمندروں میں لڑیں گے ہم اعتماد اور طاقت کیساتھ فضا ئوںاور زمین پر لڑیں گے ہم اپنے جزیرے کا دفاع کریں گے خواہ ہمیں اسکی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے ہم ساحل سمندر پر لڑیں گے ہم میدانوں میں لڑیں گے ہم کھیتوں اور کھلیانوں میں لڑیں گے ہم گلیوں اور بازاروں میں لڑیں گے ہم کبھی بھی ہتھیار نہ ڈالیں گے ‘‘ صدر زیلنسکی نے چرچل کی اس تقریر کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ یوکرین کے لوگ بھی جنگ جاری رکھیں گے ’’ ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے ہم شکست نہیں کھائیں گے ہم اپنی سر زمین کیلئے آخر دم تک لڑتے رہیں گے‘‘
چرچل اور زیلنسکی کی تقاریر دو مختلف ادوار میں دو مختلف جنگوں کے دوران کی گئی تھیں برطانیہ ان دنوں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے مقابلے میں پسپا ہو رہا تھااسکے شہر جرمن فضائیہ کے نشانے کی زد پر تھے جرمن طیارے سکولوں‘ اسپتالوں‘ مکانوں اور عمارتوں پر آتش و آہن برسا رہے تھے چرچل وائٹ ہال میں واقع اپنے دفتر کی چھت سے لندن پر بمباری کے مناظر دیکھا کرتا تھا چار جون 1940 کی تقریر کے چند ماہ بعدجرمن طیاروں نے اسکے دفتر کی عمارت کو تباہ کر دیا برطانیہ اتنی وسیع سلطنت تھی کہ اسمیں سورج غروب نہ ہوتا تھا چرچل برطانوی طبقہ امراء سے تعلق رکھنے والا ایک عمر رسیدہ ممتاز سیاستدان تھا ولادیمیر زیلنسکی اچانک یوکرین پر روس کے تباہ کن حملوں کی وجہ سے ایک ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مغربی ممالک نے انہیں اپنی ضرورتوں کے تحت ایک عالمی قد کاٹھ کی شخصیت بنا دیا ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ یوکرین کے کئی بڑے شہر اور قصبے ملبے کا ڈھیر بنا دئے گئے ہیں یوکرین کے چار ملین لوگ ہمسایہ ممالک میںجا چکے ہیں چھ ملین ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں ا س نقل مکانی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا انسانی المیہ کہا جا رہا ہے عراق اور افغانستان میں ہونیوالی تباہی اور بربادی کو یوکرین کے مقابلے میں بہت کم بتایا جا رہا ہے اب کیونکہ ’’ آدمی کوئی ہمارا دم تحریر نہ تھا‘‘ اسلئے انکے بتائے ہوے اعداد و شمار کو تسلیم کرنا پڑتا ہے
چرچل اور زیلنسکی میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ لندن کی عمارتیں جرمن ٹینکوں کی گولہ باری کی زد میں نہ تھیں جب کہ یوکرین کے دارلخلافے Kyiv پر آئے روز روسی ٹینک میزائل برساتے رہتے ہیں برطانوی میڈیا نے کہا ہے کہ جب زیلنسکی ویڈیو لنک کے ذریعے برطانیہ کے ہائوس آف کامنز سے خطاب کر رہے تھے تو انہوں نے اتنے پر اثر اور جذباتی انداز میں یوکرین کی تباہی کا نقشہ پیش کیا کہ کئی اراکین پارلیمنٹ آنسو پونچھتے ہوے نظر آئے ایک مقبول ٹیلیوژن آرٹسٹ ہونیکی وجہ سے زیلنسکی کو صوت وصدا کے فن سے شناسائی تو یقیناّّ ہو گی آواز کے لحن ‘ لہجہ‘ زیر وبم اور آہنگ پر بھی انکی دسترس کا گمان کیا جا سکتا ہے چرچل کو بھی فن تقریر کے ان پہلوئوں پر عبور حاصل تھا لگتا ہے کہ زیلنسکی نے چرچل کی تقریروں کے مطالعے اور انہیں سننے کے بعد ہی برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا چرچل تحریر و تقریر میں نابغہ روزگار تھا تو زیلنسکی کو براڈ کاسٹ سیاسی انٹر ٹینمنٹ میں ملکہ حاصل ہے ایک بڑے ہجوم کے جذبات سے کھیلنے کیلئے سیاسی لیڈر کو فن تقریر کے تمام پہلوئوں سے آگاہ ہونا چاہیئے مگر جوش جذبات کسی کام کا نہیں ہوتا اگر مقرر کے پاس دلائل‘ حقائق‘ واقعات اور ثبوت و شواہد پر مبنی ترتیب وار بیانیہ نہ ہوجنگیں سیاسی لیڈروں کو المناک حقائق کا ذخیرہ مہیا کر دیتی ہیں روز مرہ کے سیاسی اور سماجی مسائل کی سیاست کرنیوالے لیڈروں کو بڑی احتیاط سے عوامی جذبوں کے میدان میں اترنا پڑتا ہے اس زمین پر جھوٹ کی اینٹوں سے بنائے ہوے قلعے بہت جلد مسمار ہو جاتے ہیں
چرچل نے دوسری جنگ عظیم جیت کر اپنا نام عظیم لیڈروں کی فہرست میں شامل کردیا اس جنگ کے دوران چرچل کو معلوم نہ تھا کہ اسکی کہانی کا اختتام کیا ہو گا زیلنسکی کو بھی اپنا انجام معلوم نہیںروس کے میزائل اور ڈیتھ سکواڈ ہر وقت اسکے تعاقب میں رہتے ہیںجنگیں لڑنے والے لیڈر فتح و شکست کے تلاطم میں ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ زیلنسکی اگر اپنے ملک کو بچا لیتا ہے توصرف یوکرین ہی کے لوگ اسے ہیرو سمجھیں گے مغربی عوام تو شائد بہت جلد اسے مہنگائی کے کوہ گراں کا ذمہ دار ٹھرانے لگیںوہ ایک چھوٹے ملک کا صدر ہے یورپی اور امریکی مئورخین اسے آسانی سے مہاتما گاندھی اور نیلسن مینڈیلا کی صف میں شامل نہیں کریں گے!!!

؎