بے خطر کود پڑا۔۔۔

108

جب عمران خان نے پاکستان سے کرپشن کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو اس کی اس جرات پر یہ شعر صادق آتا تھا:’’ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی ‘‘اس لیے کہ اگر اس کی جگہ کوئی بزرگ دانا ہوتا تو بجائے لمبے چوڑے دعوے کرنے کے، خاموشی سے پہلے مسئلہ پر تحقیق کرواتا۔کرپشن ختم کرنے پر ماہرین سے مشاورت کرتا، دوسرے ملکوں کے کامیاب تجربات سے سبق سیکھتا، اور منصوبہ سازی کے تحت آہستہ آہستہ ایسی قانونی اور انتظامی اصلاحات لاتا جن سے ملک کے اینٹی کرپشن کے ادارے فعال اور موثرہو جاتے، اور از خود رشوت کا خاتمہ بتدریج ہونا شروع ہو جاتا۔ یہ کام بھی اتنا آسان نہ تھا، لیکن اس سے اس کو ایک مضبوط حکومت بنانے میں مدد ملتی جس کے بعد وہ بڑے اقدام لیتا۔ممکن ہے کہ اہل دانش اس مشورے سے اختلاف کریں ۔ مثلا خانصاحب نے سب سے موثر علاج یہ سوچا کہ سب سے اوپر سے احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔ اس خیال سے کہ اگر بڑے مگر مچھ پکڑے گئے تو چھوٹے خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن اس سوچ میں ایک سنجیدہ خامی تھی کہ بڑے مگر مچھوں کے پاس بے انداز دولت تھی جس کو استعمال کر کے وہ انتظامیہ، انصاف اور ہر ایسے ادارے کو خرید سکتے تھے جو ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا۔اور وہ ہی ہوا۔جس ملک میں حکومتی عہدیدار، سیاستدان اور اہلکار چند سکوں کے لیے اپنا ضمیر بیچنے پر آمادہ ہوں، کسی عام طریقے سے کرپشن ختم نہیں کی جا سکتی۔ کپتان نے بھلا کیا سوچا تھا؟
راقم نے کئی سال پہلے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان میں سیاست کاروبار ہے۔ سیاستدان انتخاب اس لیے لڑتے ہیں کہ وہ کوئی سیٹ جیت جائیں اور پھر زیادہ سے زیادہ پیسہ بنائیں۔ اس طریق کار کا مجھ تب ادراک ہوا جب میں نے 1975 میں ایک رکن قومی اسمبلی سے یہ معصومانہ سوال کیا کہ جناب، پاکستانی سیاستدان منتخب ہونے کے بعد اوپر کی آمدنی بنانے میں کیوں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں؟ وہ بھائی بھی غالباً سیدھا تھا۔ اس نے کہا، کہ جب آپ انتخاب لڑتے ہیں تو پانچ ، سات لاکھ روپے تو لگ ہی جاتے ہیں ، تو پھر پہلے تو وہ بنانا پڑتا ہے اور پھر اس کے اوپر جو بن جائے۔مجھے ان کا استدلال سمجھ آ گیا۔ بھلا کون بیوقوف ہو گا جو صرف قوم اور ملک کی خدمت کے جذبہ سے اپنی حلال کی کمائی میں سے لاکھوں لگا دے اور سیاسی پوزیشن لینے کے بعد ایک دھیلا بھی رشوت کا نہ لے؟ اب تو انتخابات پرکڑوڑوں کا خرچا ہوتا ہو گا اور اس پر پھر دوگنا یا تگنا منافع تو بنتا ہی ہے۔
آج ایک وڈیو دیکھی جس میں حسن نثارصاحب نے میرے خیالات کو بہت خوبصورتی سے بیان کر دیا ہے، کہ آپ بھی پڑھیے اور سر دھنیے : ’’پیپلز پارٹی پارٹی نہیں ہے اور ن لیگ بھی پارٹی نہیں ہے۔ یہ دو کمپنیاں ہیں ، پرایئویٹ لمیٹڈکمپنیاں ہیں جو ووٹوں کا کاروبار کرتی ہیں، لوگوں کو بیوقوف بناتی ہیں، ان کو exploit ( کا استحصال) کرتی ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ووٹ لیتے ہیں۔اور کھیل کیا ہے ؟ basically (بنیادی طور پر) سیاست بذریعہ دولت اور پھر دولت بذریعہ سیاست۔یہ وہ شیطانی چکر ہے جس میںپورا پاکستان الجھا ہوا ہے۔اور ایک بات دھیان میں رکھ لیں کہ کمپنیاں بچوں کو ہی منتقل کی جاتی ہیں۔ورنہ آج اعتزاز احسن جیسا brilliant (زیرک) اور تجربہ کار آدمی، جس نے ساری زندگی وقف کر دی جس کی دیانت پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی (اس کو پارٹی کا سربراہ نہیں بنایا گیا)۔یہ کمپنی ہے بھائی، یہ کھوکا ہے۔ یہ پولیٹیکل پارٹیز نہیں ہیں، یہ شاپنگ مالز ہیں۔ یہ ابا جی کا دل جس کوچاہے اس کو منتقل ہو جائے۔‘‘
حسن نثار صاحب نے پاکستان میں موروثی انتقال اقتدار کی کتنی اچھی اور آسان تشریح کی ہے۔ البتہ انہوں نے صرف دو کمپنیوں کی بات کی ، معاملہ سیاست کی پوری انڈسٹری کا ہے۔ اس میں ہر سیاست دان اپنی اپنی کمپنیاں بنا کر مال بٹورنے کا کام کرتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ کچھ بڑے تاجر ہیں اور کچھ چھوٹے۔ دوکانیں سب ہی کھولتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ کرپشن یا جسے اوپر کی آمدنی کہتے ہیں، اس انڈسٹری کی بقا کے لیے اتنی ضروری ہے جتنا انسان کی بقا کے لیے ہوا، روشنی اور پانی۔ اس کو بدلنے کے لیے بنیادی اصلاحات کرنی پڑیں گی ۔ دور حاضر کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں تو ایسی اصلاحات لانے سے رہیں۔اس قسم کی اصلاحات کے لیے ایسے سیاستدانوں کی ضرورت ہو گی جو نہ خود کھائیں اور نہ کسی کو کھلائیں۔
ایک عام پاکستانی کو غالباً اس اوپر کی آمدنی کی منطق کا ادراک ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سیاستدان کو انتخاب لڑنے کے لیے پہلے اپنی جیب سے یا قرض لیکر پانی کی طرح پیسہ بہا نا پڑتا ہے ۔ اور اگر وہ کامیاب ہو جائے تو پھر اس کی اولین کوشش اس سرمایہ کی واپسی پر ہوتی ہے اور اس کے بعد پھر جو ملے تو وہ اس کا منافع۔ روز اول سے پاکستان کی سیاست انہیں زریں اصولوں پر چلتی آئی ہے۔پہلی بات تو یہ کہ سیاست کرنے کے لیے دولت درکار ہوتی ہے، اور یہ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں زیادہ تر وہی لوگ اترتے ہیں جن کے پاس سرمایہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی اچنبہ نہیںکہ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اکثر سیاستدان جاگیر دار اور متمول زمیندار گھرانوں سے ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو نواب، قبیلوں کے سردار، صنعتکار، اور جدی پشتی امراء ہوتے ہیں۔ نہ تو کبھی کوئی غریب آدمی بلکہ درمیانہ طبقہ والا مرد یا عورت بھی صوبائی اور قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔کچھ نا تجربہ کار وں کو نوسر باز بیوقوف بنا کر انتخاب لڑنے پر اکساتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیںکہ وہ جیت جائیں گے تو چاندی ہی چاندی۔سوچنے کی بات ہے کہ یہ صنعت اتنی مقبول کیوں ہے؟ وہ اس لیے کہ ایسی صنعتیں بہت کم ہوتی ہیںجن میں سرمایہ کامنافع دوگنا یا تین گنا بھی کیا جا سکتا ہے۔صرف ایک قباحت ہے اور وہ یہ کہ اگر انتخاب ہار جائیں تو سارا سرمایہ ڈوب سکتا ہے۔ اور ہوتا بھی یہ ہے کہ کئی امیدوار اسی سیٹ کے لیے قسمت آزما ہو رہے ہوتے ہیں جب کہ جیتتا ایک ہے۔ اس لیے اگر کوئی پارٹی اپنی حیثیت منوا چکی ہو تو اس کا ٹکٹ فتح کا ضامن ہو سکتا ہے۔ پھر چاندی ہی چاندی ۔ اگر وہ پارٹی حکومت سازی میںبھی کامیاب ہو جائے، تو پھر اصل مزہ آتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کاروبار کسی حد تک سٹہ کھیلنے کے برابر بھی ہے، کیونکہ اگر آپ نے کسی ایسی سیاسی پارٹی کا ٹکٹ لیا جو حکومت نہیں بنا سکی تو منافع کے امکانات خاصے کم ہو جاتے ہیں۔ صرف وہ امیدوار زیادہ فائدے میں رہتے ہیں جو آزاد رہ کر سیٹ جیت لیتے ہیں، اس لیے کہ وہ حکومت بنانے والی پارٹی سے منہ مانگے فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔
حسن نثار نے جب کہا کہ پی پی پی اور ن لیگ در اصل پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، تو جس وسیع پیمانے پر ان کمپنیوں کا کا روبار ہوتا ہے انہیں تو کارپوریشن سمجھنا چاہیے ۔ ان کے ایجنٹ پاکستان کے کونے کونے میں پھیلے ہوتے ہیں، جنہیں کارکن یا جیالے یا اسی قسم کے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ کچھ تھوڑے سے نڈر حضرات ہوتے ہیں جو اپنے علاقے میں کسی نہ کسی وجہ سے مقبول ہوتے ہیں، انہیںیار دوست اکساتے ہیں کہ وہ بھی الیکشن لڑیں خواہ قرضہ ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ وہ ضرور جیت جائیں گے اور سارا قرضہ بمعہ سود انہیں واپس مل جائے گا ۔ لیکن جب کوئی پارٹی حکومت نہیں بنا پاتی تو اسکی ساری سرمایہ کاری ڈوب جاتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ کچھ ایسے امیدوار ہوں جن کی مالی حالت انتخابات کی وجہ سے خراب ہو گئی ہو تو وہ پھر سال دو سال میں ہی شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ کسی نہ کسی طور انتخابات دوبارہ ہوں جن میں انہیں جیت کا موقع مل سکے۔اس کی سب سے نمایاں مثال وہ مذہبی جماعتیں ہیں جو اکثر انتخابات میں شکست سے دو چار ہوتی ہیں۔ مثلاً فضل الرحمن اور سراج الحق ۔
عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف خاصی مقبول پارٹی ہے۔ لیکن خان صاحب نے کرپشن کے خلاف علم بغاوت کھڑا کیا ہے، اور سیاستدان کرپشن کے بغیر دو قدم نہیں چل سکتے۔ انہوں نے جب اپنی پارٹی کے ٹکٹ بانٹنے شروع کیے تو کچھ لوگوں کو اس لیے ٹکٹ دیا کہ وہ (electables) تھے یعنی منتخب ہونے کی اہلیت رکھتے تھے۔لیکن غالباً یہ اپنا پیسہ لگاتے تھے اور انتخاب لڑتے تھے۔ وہ ہنسی خوشی تحریک میں شامل ہو گئے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ رکن اسمبلی بننے کے بعد وہ اوپر کی آمدنی سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ ان کی پارٹی کا منشور ہی یہ تھا۔چنانچہ اس بات میں کوئی تعجب نہیں کہ اب جب کہ خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد چلی تو ان میں سے کچھ لوگوں کو نوٹ دکھائے گئے تو وہ پھسل گئے۔ ہو سکتا ہے انہوں نے اسمبلی کا رکن بننے پر خاصی سرمایہ کاری کی ہو اور وہ اوپر کی آمدنی حاصل نہ کر سکے ہوں۔ یہ اصل ماجرا ہو نا ہو، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاستدانوں اور سرکاری اہل کاروں کی شہرت بن چکی ہے کہ ان کو پیسے دے کر جو مرضی کرا لو۔ اور یہ شہرت بڑی پرانی ہے اور اب تو معاملہ عروج پر ہے۔ اب تو کوئی ادارہ، حتیٰ کہ عدالتی نظام بھی نہیں بچا۔
بھارت کے سرکاری تجزیہ کاروں نے ، اور دنیا کی کئی دوسری ایجنسیز نے ،بہت پہلے ہی پاکستانی سیاستدانوں اور اہلکاروں کی اس خوبی کا پتہ چلا لیا تھا۔ اسی لیے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم لمبا ہاتھ ماریں اور پاکستان کے وزیر اعظم کی قیمت لگا کر دیکھیں ۔ انہیں اس سلسلہ میں میاں نواز شریف کا ہدف مل گیا جن پر ان کا نشانہ بلکل ٹھیک ٹھیک بیٹھا ۔ چنانچہ بھارت کی خفیہ ایجنسیز نے میاں صاحب کو سستے داموں خرید لیا۔ اس لیے کہ پاکستانی نہ صرف ہر وقت بکنے کے لیے تیار رہتے تھے وہ بہت معمولی رقم یا معاوضہ پر بک بھی جاتے تھے۔میاں صاحب نے اپنا معاوضہ لندن میں جایئدادکی شکل میں لیا، اسی لیے وہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ وہ جایئداد انہوں نے کن پیسوں سے حاصل کی۔ اس معاوضہ کے بدل میں میاں صاحب نے بھارت کو کچھ رعائیتیں دینی تھیں، جو ان کی بد قسمتی سے وہ اپنا عہدہ چھوڑنے کی وجہ سے پورا نہیں کر سکے۔ لیکن بھارتی ادارے ان کو آسانی سے چھوڑنے والے نہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست اور اقتصادی صورت حال پر پوری نظر رکھتے ہیں اور میاں صاحب کو مسلسل ہدایات دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں کیا کروائیں اور کیا نہ کروائیں۔ اس کے لیے میاں صاحب کے جا نثار، خصوصاً ان کی صاحبزادی ،جی صدقہ واری جانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں خواہ اس میں پاکستان کا کتنا بھی بڑا نقصان نہ ہو۔گزشتہ دو تین سال سے پاکستان میں جتنی شراتیں، دہشت گردی کے حملے اور سیاسی مخالفت ہو رہی ہے وہ زیادہ تر میاں صاحب کی بلیک میلنگ کی وجہ سے ہے۔ ہمیں تو اس کے علاوہ کوئی ایسی ممکنہ وجوہات نظر نہیں آ رہیں کہ پاکستان کا کونسا دشمن ایسا ہے جو ٹھیک ٹھیک نشانے لگا کر پاکستان کے ہر فائدے کو نقصان میں بدل رہا ہے۔بھارت کی ہدایات پر پاکستانی افواج پر کیچڑ اچھالنا اور پراپیگنڈا کرنا، پاکستانی سیاستدانوں کو اکسانا کہ وہ قومی اسمبلی میں حکومت کی قانون سازی نہ ہونے دیں، پاکستان کے فائدے کے منصوبوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا، وغیرہ۔ ن لیگی قائدین آنکھیں بند کر کے میاں نواز شریف کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔
عمران خان کو اب تک پتہ چل چکا ہے کہ یہ کھیل کیسے کھیلا جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہیں کیونکہ پاکستان کے ادارے اور ایجنسیاں بھی اسی کرپشن کے عادی ہو چکے ہیں جسے نواز شریف اور زرداری نے پروان چڑھایا۔اس لیے حکومت کے اہل کار اوپر اوپر سے جی حضور کرتے ہیں لیکن پیچھے صرف وہ کام کرتے ہیں جن میں انہیں کوئی ذاتی مالی یا مادی فائدہ ہوتا ہے۔مختلف عدالتیں کرپشن کے مقدمات کو التوا کی درخواستوں پر انصاف سے پرے رکھتی ہیں۔ آج تک کسی بڑے کیس میں کسی ملزم کو نہ سزا ہوئی اور نہ جیل بھیجا گیا۔ زرداری کیا اور اس کی فیملی کیا سب آزاد دندناتے پھرتے ہیں۔ نواز شریف کی بیٹی کو سزا ملی لیکن وہ بھی مستقل ضمانت پر سیاست کر رہی ہے۔ اس کا باپ بیماری کا جھوٹا ڈرامہ رچا کر سب کو بیوقوف بنا کر لندن میں بیٹھا عیش کر رہا ہے۔پاکستانی سیاستدان اور سرکاری اہلکار وں نے رشوت کے ریٹ بڑھا دیے ہیں، جس پر مخالفین عمران خان کو ذمہ وار ٹہراتے ہیں۔اب غیر ملکی مخالفت کے باوجود خان نے اسلامی ملکوں کے سربراہوں کی کانفرنس تو منعقد کروالی، لیکن کیا اسے پاکستانی سیاستدانوں نے بخش دینا ہے؟ نہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ اس کی جان کو خطرہ بڑھ گیا ہے!!!!