گدھے گھوڑے تو پارلیمنٹ میں گھسے بیٹھے ہیں پارلیمنٹ نہ ہوئی مویشی منڈی ہو گئی جہاں ان کی بولیاں بھی لگ رہی ہیں

71

سیاست ایک عبادت کا نام ہے لیکن پاکستان میں سیاست اپنے اپنے ذاتی مْفادات کا نام بن چْکا ہے ذاتی مفادات کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی سیاست کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لئیے استعمال کرتے رہے ہیں اور استعمال کر رہے ہیں گویا گدھے گھوڑے تو پارلیمنٹ میں گھسے بیٹھے ہیں جیسے مقدس پارلیمنٹ نہ ہوئی مویشی منڈی ہوگئی جہاں گدھے گھوڑوں کی بولیاں لگنے کے بعد اْنہیں سب سے زیادہ بولی دینے والا ہانک کر اپنے اپنے ڈیرے پر لے جاتا ہے اور ممبران اسمبلی بھی گدھے گھوڑے کی طرح اپنا سر جھکائےاپنے نئے مالکان کے ساتھ چل پڑتے ہیں اس کو دراصل ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے
ہارس ٹریڈنگ کا لفظی ترجمہ تو گھوڑوں کی تجارت ہے۔ سیاست کی دنیا میں ہم بچپن سے یہ جملہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ ایک پارٹی کی ٹکٹ سے جیتنے والے لوگ کسی موقع پر کسی وجہ سے اپنی پرانی پارٹی کو چھوڑ کر کسی نئی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس وقت سیاسی فضائوں میں یہ صدائیں گونجتی ہیں کہ ملک میں ہارس ٹریدنگ بہت زوروں پر ہے، یہ ایک ایسا ناپسندیدہ عمل ہے جس کو سب لوگ برا کہتے ہیں سب لوگ سے مراد سیاستدانوں کی اکثریت اس کی مخالفت میں بلند آواز سے بات بھی کرتی ہے اور جب کوئی سیاسی مفاد سامنے آتا ہے تو اسی طرز عمل کو یہی لوگ جو کل تک اس کی مخالفت کررہے تھے ایک بڑا خوبصورت نام دیتے ہیں کہ فلاں صاحب نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے یعنی جب ان کا برسوں سے سویا ہوا ضمیر جاگ جاتا ہے تو ان کے لیے ہارس ٹریڈنگ جائز ہو جاتی ہے۔
گھوڑوں کے حوالے سے ہمارے ملک میں ہر سال کسی اہم ایونٹ پر ہارس اینڈ کیٹل شوز ہوتے ہیں اس میں گھوڑوں کو سجایا جاتا ہے ان کی نمائش ہوتی ہے ان کے ڈانس دکھائے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں کراچی میں گھوڑوں کی ریس ہوتی تھی جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔
ہماری اسلامی تاریخ میں گھوڑوں کا ذکر انقلاب اور جدوجہد کے حوالے سے آتا ہے جہاں جہاں بھی جہاد کا ذکر آئے گا گھوڑوں کا ذکر ضرور آئے گا کہ پہلے زمانے میں جنگوں میں گھوڑوں اور ہاتھیوں کی حیثیت ایسے ہی ہوتی تھی جیسے آج کے دور میں ٹینک اور بکتربند گاڑیوں کی ہوتی ہے۔یہ وہ جانور ہے جو ہماری اسلامی تاریخ میں ایک اہم اور مقدس فریضے میں استعمال ہوتا رہا ہے ویسے تو دشمنان اسلام بھی جنگ میں گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ پاکیزہ مقاصد میں استعمال ہونے والی چیز کو آج ہم نے کس مقام پر لا کر کھڑا کردیا ہے کہ اپنے ضمیر کا سودا کرنے کو ہارس ٹریڈنگ کا نام دے دیا اور پھر کہا گیا کہ ہم نے تو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہے۔
اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہمارے ایک بزرگ سیاست داں چودھری شجاعت نے بیان دیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جس میں نہ پیسے لیے جارہے ہیں اور نہ دیے جارہے ہیں یہ جو بات آرہی ہے کہ سندھ ہائوس میں نوٹوں کی بوریاں پہنچا دی گئیں ہیں بالکل غلط ہے۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے اس کا اچھا جواب دیا ہے کہ پیسے دینا یا آئندہ کے لیے ٹکٹ دینا دونوں ہی ہارس ٹریڈنگ میں شمار ہوتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے منحرف رکن راجہ ریاض نے کہا تھا کہ لوگ تو ہمارے پاس زیادہ ہیں لیکن ن لیگ کے پاس ٹکٹ کم ہیں یعنی پی ٹی آئی کے بہت سارے ارکان قومی اسمبلی 2023 کے انتخاب میں ن لیگ کے ٹکٹ پر اپنی وفاداریاں تبدیل کررہے ہیں۔ اسی طرح ایک منحرف رکن اسمبلی ایک ٹاک شو میں بتارہے تھے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے تین ارب روپے ترقیاتی فنڈ میں دینے کی پیشکش کی گئی ہے ایسی کوئی خبر تو نظر سے نہیں گزری لیکن اگر ایسا ہے تو یہ بھی ہارس ٹریڈنگ کی کیٹیگری میں آتا ہے ویسے آج عمران خان نے اس کا جواب تو دے دیا کہ عوام کے پیسے رشوت میں دینے سے تو بہتر ہے کہ میں وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پیسوں کے علاوہ وعدے وعید بھی ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ کم خرچ کرکے زیادہ ووٹ حاصل کرلیں گے اس طر ح آپ کے پیسے تو بچ جائیں گے او ر آئندہ اسمبلی کی رکنیت بھی پکی ہو جائے گی یہ ہارس ٹریڈنگ نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی طرح کسی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کا کہا گیا ہے یہ بھی ہارس ٹریڈنگ ہے۔
تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے عمران صاحب اپوزیشن میں آجاتے ہیں پھر ہوگا یہ کہ ان کے ساڑھے تین سالہ دور کا سارا ملبہ اس بھان متی کے کنبے کے سر پر آجائے گا جو ڈیڑھ سال کے لیے برسر اقتدار آئے گا دوسری بات یہ ہوگی کہ عوام مہنگائی کو بھول جائیں گے عوام میں عمران خان کی ہمدردیاں بڑھ جائیں گی عام لوگ یہ کہیں گے ایک ایمان دار شخص آیا تھا ان چوروں نے مل کر اسے ہٹا دیا تیسری اہم بات یہ ہوگی کہ عمران خان خاموشی سے گھر تو نہیں بیٹھ جائیں گے وہ 2023کے الیکشن کی بھرپور انداز میں مہم کا آغاز کر دیں گے لاہور میں تو اتنا بڑا جلسہ ہو گا کہ 2011 کا جلسہ بھی اس کے سامنے کم ہو گا اس وقت یہ لوگ جو ن لیگ کے ٹکٹ کے لیے اپنی وفاداریاں تبدیل کررہے ہیں وہ پچھتائیں گے اور پھر مختلف شخصیات اور ذرائع ڈھونڈیں گے کہ عمران خان سے ان کی معافی تلافی کروادی جائے اس وقت عمران خان کو الیکٹیبلز تلاش نہیں کرنا پڑے گا بلکہ سارے الیکٹیبل خود ہی چل کر آجائیں گے۔