پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا! آخر کار ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام کا سودا پیپلز پارٹی کیساتھ کر لیا!!

45

وہ پیپلز پارٹی جس نے کراچی، حیدر آباد، سکھر، میر پور خاص اور نواب شاہ سمیت تمام شہری علاقوں کے شہریوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کیے، وہ پیپلز پارٹی جس کی حکومت نے پچھلے پچاس برسوں میں کوٹہ سسٹم کے ذریعے لاکھوں شہری علاقوں کے پاکستانیوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے اور مہاجروں کی چار نسلوں کی غیر تعلیم یافتہ کھیپ تیار کی وہ پیپلز پارٹی جس نے کراچی کی زمینوں کو اپنے ورکرز کے نام کر کے کوئی قطع اراضی مقامی لوگوں کے لئے خالی نہ چھوڑا، وہ پیپلز پارٹی جس کی حکومتوں کے دوران کراچی کو جرائم پیشہ افراد کے حوالے کر دیاگیا اور انارکی کی صورت حال جاری رکھی، وہ پیپلز پارٹی جس کے لیڈروں نے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے پاکستانیوں کو پناہ گیر اور بھوکے ننگے لوگ جیسے خطابات سے نوازا، وہ پیپلزپارٹی جس نے کرونا تک کو مقامی بزنس مینوں اور کراچی کے مہاجر تاجروں کے خلاف استعمال کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور وفاقی حکومت کی سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کے برخلاف شہر میں مکمل لاک ڈائون کر کے ملازمتوں اور تعلیم کے دروازے بند کرنے کے بعد بزنس کے باقی بچ جانے والے مواقع کو ختم کرنا چاہا، وہ پیپلز پارٹی جس کے لیڈروں بمعہ ذوالفقار مرزا نے میڈیا پر آ کر اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے مہاجروں کے خلاف محاذآرائی کرنے کیلئے سندھیوں میں اسلحہ تقسیم کیا، آج مہاجروں کی نمائندہ سیاسی جماعت کا دعویٰ کرنے والی پارٹی ایم کیو ایم اسی مہاجر دشمن پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اپوزیشن کے اتحاد کا حصہ بن گئی ہے۔ بات صرف پیپلز پارٹی تک ہی محدود نہ رہی بلکہ ایم کیو ایم جس کی بنیاد ہی پنجاب دشمنی پر کھڑی ہوئی تھی۔ آج اسی پنجاب کی پارٹی نواز لیگ کی طرف سے صرف ایم کیو ایم کا گورنر سندھ بنائے جانے کے وعدے پر اپنی اساس کا سودا کر بیٹھی ہے۔ گو کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے ایسا موقع پرستانہ موقف سامنے آیا ہے مگر ان ہی حرکات کی بنیاد پر آج تک ایم کیو ایم کی حیثیت ایک کراچی کی مقامی پارٹی کی حیثیت سے اوپر نہ آسکی اورقومی دھارے میں شامل نہ ہو سکی اور اس کی اہمیت صرف اس وقت ہوتی ہے جب تحریک عدم اعتماد جیسی صورت حال پیش ہوتی ہے اور پیپلزپارٹی اور نواز لیگ جیسی پارٹیاں ایم کیو ایم کو استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتی ہیں۔ خالد مقبول نے میڈیاپر آ کر خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دوسری دونوں پارٹیوں کی نسبت موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت نے سب سے زیادہ باہمی معاہدوں کی پاسداری کی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود نہ جانے وہ کون سی چمک ہے جس سے خیرہ ہو کر ایم کیو ایم کے لیڈران نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یوں تو عمران خان کی پارٹی کے امیدواروں نے پچھلے الیکشنز میں نو سیٹیں ایم کیو ایم سے چھین کر ان کو کراچی کی نمائندگی کے دعوے کو متنازعہ کر دیا تھا مگر اب اس فیصلے کے بعد یوں لگ رہا ہے کہ بقیہ سات سیٹیں جو ایم کیو ایم کے پاس رہ گئیں تھیں 2023ء کے انتخابات میں وہ بھی جاتی رہیں گی کیونکہ اب الطاف حسین کا زمانہ ختم ہو گیا ہے جب کراچی، حیدر آباد اور سکھر کے شہروں کو خوف و ہراس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ کراچی کے عوام اب باشعور ہو گئے ہیں۔ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے نو سیٹیں پی ٹی آئی کو دے کر ایک ٹریلر دکھایا تھا اور اب اس اقدام کے بعد سندھ کے شہری علاقوں سے ایم کیو ایم بھی بالکل اس طرح ناپید ہو جائے گی جیسے آج پیپلز پارٹی کی حیثیت ہے۔ ایم کیو ایم کے عوامی رائے عامہ کے برخلاف فیصلوں نے ہی پارٹی میں دھڑے بندیاں کو پروان چڑھایا ہے اور اس تمام صورت حال میں فروغ نسیم کا اترا ہوا چہرہ شاید اب نئے دھڑے کا باعث بنے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ حکومت سے مذاکرات میں مطالبات کے برعکس اب نہ مسنگ پرسن کا کوئی مسئلہ رہا ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم کے دفاتر کو کھلوانے کا مسئلہ اپوزیشن میں معاہدے میں اٹھایا گیا ہے ہاںالبتہ کے ایم سی کو مانگنا، گورنر سندھ کو مانگنا اور ایڈمنسٹریٹر کو مانگنا معاہدے میں سرفہرست آگیا۔ ان اداروں کو عوامی خدمت کرنے کے لئے مانگا جارہا ہے یا اپنی ذاتی خدمت کیلئے؟ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عمران رہے یا نہ رہے مگر کراچی کے عوام اگلے انتخابات میں اس کا جواب ڈنکے کی چوٹ پر سولہ سیٹیں ایم کیو ایم سے چھین کر دیں گے کیونکہ جس طرح وہ پہلے الطاف حسین کی خوف و ہراس کی سیاست سے تنگ آگئے تھے اب وہ ایم کیو ایم کی منافقانہ سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ بقول حدیث رسول ۔ مومن کو ایک ہی سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا سکتا!!!