لکھ رہا ہے آسمان بھی ایک عجیب داستان!!!

51

ڈیڑھ ارب مسلمان ملکوں کے نمائندے OICکی میٹنگ میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے حسب معمول قرآنی آیت سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے خان نے اسلاموفوبیا کے مسئلے پر بات کی۔ اقوام متحدہ نے 15مارچ کو اسلاموفوبیا کا دن قرار دیا۔ وزیراعظم نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی ایک تخریبی سوچ ہے اسے کسی مذہب سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ذہنی انتہا پسندی ہے۔ انہوں نے 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقعے کا ذکر کیا جس میں 60نمازیوں کو مسجد میں نماز کے دوران ایک ذہنی انتہا پسند نے شہید کر یا۔ اگر اس شخص کو دہشت گرد کہا جائے اور اس کے اس فعل کو مذہب سے جوڑا جائے تو کیا یہ صحیح ہو گا۔ کوئی بھی ذی ہوش انسان اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ اب تک تو اسلام پر کیچڑ اچھالا جاتا رہا، خاکے بنائے گئے۔ پوری دنیا میں اس کی تشہیر کی گئی۔ کسی اسلامی ملک کی ہمیت نہیں جاگی کے اس کے خلاف احتجاج کرتا آواز اٹھاتا ۔عمران خان وہ پہلا لیڈر ہے جس نے اس موضوع پر کھل پر بات کی۔
وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین، کشمیر پر بھی آواز اٹھائی۔ ظلم و زیادتی جو مسلمانوں پر روا رکھی گئی اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ایک سچا مسلمان اسے اپنی قوم کا جرم ہی قرار دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت پر اقوام متحدہ کی قرارداد سے انحراف کرنا اس پر کسی نے بھی دبائو نہیں ڈالا۔ کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ سب کانوں میں تیل ڈال کر بیٹھے ہیں۔ حقیقت پسند لوگ اس ظلم پر نالاں ہیں لیکن اجتماعی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ باتیں بہت ہیں عمل کچھ نہیں ہے۔ بھٹو نے بھی اسلامی کانفرنس میں مسلمانوں کی یکجہتی پر زور دیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ تمام اسلامی ممالک کی کرنسی بھی ایک ہونی چاہیے لیکن وہی مثل ہے ’’رات گئی تو بات گئی‘‘ سنا تو سب نے عمل کسی سے بھی ہوتا دکھائی نہیں دیا چونکہ سب کا اپنااپنا مفاد وابستہ تھا۔
خواجہ سرا نے تو کہا تھا یہ کانفرنس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ’’دیکھیں گے یہ OICکانفرنس کس طرح ہوتی ہے‘‘ اورتم نے دیکھ بھی لیا ہو گا کہ کانفرنس ایسے ہوتی ہے۔ تمہارا وہ دوست دین فروش مولوی بھی مع اپنی تلنگی فوج کے تیار تھا۔ پھر کہاں غائب ہو گیا۔ یہ مولوی مدرسوں کے معصوم طالب علموں کو اپنے ناپاک اداروں کے لئے استعمال کررہا ہے۔ ایک تو ویسے ان کی ذہنی صلاحیت کو مفلوج کر دیا گیاہے صرف ضعیف سی دینی تعلیم دی جاتی ہے جس سے بیچارے گائوں میں مسجد کے موذن بن جاتے ہیں یا بچوں کو قرآن شریف پڑھاتے ہیں۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں ان کی کہیں کھپت نہیں۔ بہت قلیل آمدنی میں گزارا کرتے ہیں۔ کچھ بھولے بھالے جاہل گائوں کے لوگوں کو تعویز گنڈوں کی طرف لگا دیتے ہیں۔ ہر ایک کو ان کے من پسند فتوے بھی دیتے رہتے ہیں۔
عمران خان نے پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کا کورس ایک کر دیا ہے یعنی سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب رائج ہو گا۔ مدارس کے طلبہ کو بھی سکولوں میں داخلے دئیے جائیں گے طلبہ کی ایک بھاری اکثریت صرف دینی تعلیم ہی سے بہرامند نہ ہو بلکہ وقت کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ تعلیم حاصل کریں۔ بہرحال مولوی لوگ ضرور اس میں روڑے اٹکائیں گے خصوصاً فضلو کی چودھراہٹ بھی ختم ہو جائے گی۔ گائوں میں وڈیرے، چودھری، ملک جو سکول کھولنے کی اجازت نہیں دیتے اکثر جگہ جو سکول ہیں وہ بس پانچویں یا مڈل تک ہیں اس کے آگے تعلیم مفقود ہے۔ غریب، کمی، ہاریوں کی اتنی استطاعت نہیں ہوتی کہ وہ شہر میں بچوں کو بھیج کر تعلیم دلوا سکیں۔ وڈیروں کا مقصد انہیں تعلیم سے محروم رکھنا اس وجہ سے ہے کہ ان کی زرعی اراضی کو کون سیراب کرے گا۔ سب شہروںمیں نوکریوں پر لگ جائیں گے۔ ذرائع آمدنی بڑھے گا تو نقل مکانی بھی کر جائیں گے۔
ایک بیرون ملک رہائشی نے آرمی چیف کو ایک خط لکھا ہے جس میں ملک میں جو تماشا ہورہا ہے عدم اعتماد کا دنگل سجا ہوا ہے۔ اس سے ملک کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے، کرپشن مافیا بے انتہا طاقتورہو گئی ہے۔ لوٹ مارکے پیسے سے لوگوں کے ضمیر خریدے جارہے ہیں بکائو بے ضمیر لوگوں کی ایک منڈی سجی ہوئی ہے۔ عدالتیں صحیح وقت پر فیصلے نہیں کر پارہیں اور جس ملک کے ججز بکے ہوں وہاں پر صحیح فیصلے کیسے ہو سکتے ہیں۔ پولیس مجرمان کی پشت پناہی کررہی ہو، قاتلوں کی ضمانتیں ہو جائیں ایک روٹی چور بچے کو ہتھکڑی ڈال کر عدالت میں پیش کیا جائے اور ملکی خزانہ لوٹنے والے کو کھلی چھوٹ دے دی جائے تو حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔ حکومت ان مافیاز کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ یہ مجرموں کے آگے بے بس ہے۔ یہاں پر کیوں نہیں چائنا کا نظام انصاف رائج نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ جب تک ان چوروں، ڈاکوئوں کا جڑ سے صفایا نہیں کیا جائے گا ملک کبھی ترقی نہیں کرے پائے گا۔ بقول وزیراعظم جھوٹے، غریب، ترقی پذیر ملکوں کا المیہ یہی ہے کہ ان کے حکمران عوام کی دولت لوٹ کر دوسرے ملکوں میں لے جا کر انویسٹ کر دیتے ہیں۔ سو غریب ملک غریب سے غریب تر ہوجاتا ہے قرضوں کے عذاب میں جکڑا جاتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔
خواہشوں کے بیچ میں اور سازشوں کے درمیان لکھ رہا ہے آسمان بھی ایک عجیب داستاں۔
کوئی تو آئے، کوئی تو اس کا سدباب کرے۔ جب تک ان لٹیروں کو پابند سلاسل نہیں کیا جائے گا ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ان ممالک سے سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے ملک کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے مجرمان کو سخت سزائیں دیں بہت سے ملکوں میں جرائم پیشہ لوگوں کی تصدیق کے بعد جیسے کہ بعض ملکوں میں منشیات لے جانے والوں کے سر قلم کر دئیے جاتے ہیں۔ قاتلوں کو تختہ دار پر چڑھا دجا جاتا ہے تو پاکستان کیوں مجرموں کی آزاد جنت بنا ہوا ہے ؟
’’دشمن کو غدار سے پہلے مارو‘‘ سلطان صلاح الدین ایوبی۔
کیا آپ لوگوں کو غدار نظر نہیں آتے؟