یوکرین سے امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، روس

509

روسی مذاکراتی نمائندے کا کہنا ہے کہ یوکرین سے امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔روس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کے دوران ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔کریملن نے یہ بھی کہا ہے کہ کریمیا اور ڈونباس کی حیثیت کے بارے میں ماسکو کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔روس کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے ٹیلیگرام پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ روسی یوکرینی امن مذاکرات میں اتنی پیش رفت نہیں ہو سکی کہ ممکنہ امن معاہدے کا مسودہ فریقین کی سربراہی ملاقات میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔واضح رہے کہ روس کا موقف ہے کہ یوکرین کے علاقے ڈونباس میں مقامی آبادی کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے روس کی جانب سے اس علاقے کی دو ریاستوں کی آزاد حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔جبکہ 2014میں کریمیا کے علاقے کو فوجی قبضے کے بعد ایک ریفرنڈم کروا کر روس کا حصہ بنا دیا گیا تھا جس کی حیثیت پر روس اور یوکرین کے درمیان تنازع ہے۔