کیچ آئوٹ کے بعد نیاکھلاڑی اگلی گیند کھیلنے کا پابند

250

مارلی بون کرکٹ کلب نے کرکٹ قوانین تبدیل کر دیے، نئے قوانین کا اطلاق رواں سال اکتوبر سے ہوگا۔نئے قوانین کے مطابق کسی کھلاڑی کے کیچ آوٹ ہونے پر اگلی گیند بیٹنگ کرنے آنے والے نئے کھلاڑی کو ہی کھیلنی ہوگی۔ تاہم اگر بیٹسمین اوور کی آخری گیند پر آوٹ ہوتا ہے تو وکٹ کی دوسری طرف موجود بیٹسمین اگلی گیند کھیل سکے گا۔ایک اور قانون کے مطابق اگر دوران کھیل کسی وجہ سے کسی ٹیم کے کھلاڑیوں کی توجہ ہٹ جائے تو گیند کو ڈیڈ بال قرار دیا جائے گا۔اگر بالر گیند کرانےسے پہلے سٹرائک پر موجود کھلاڑی کو رن آوٹ کرنے کی کوشش کرے تو اس گیند کو نو بال قرار دیا جاتا ہے لیکن اب اسے ڈیڈ بال سمجھا جائے گامیچ کے دوران وائیڈ بال کا فیصلہ بالر کے رن اپ سے قبل بیٹسمین کی پوزیشن کی بنیاد پر ہوگا۔ رن اپ کے دوران اگر بیٹسمین کریز کے اندر اپنی جگہ تبدیل کر بھی لے تو وائیڈ بال کے فیصلے پر اسکا اثر نہیں ہوگا۔ایم سی سی کے ایک اور نئے قانون کے مطابق اگر بالر کی گیند پچ سے باہر کسی حصے میں گرے تو بیٹسمین کو اسے کھیلنے کی اجازت ہوگی لیکن شرط یہ ہے کہ گیند کو کھیلتے وقت بیٹسمین کے جسم یا بیٹ کا حصہ پچ کے اوپر موجود ہونا چاہیے۔ دوسری صورت میں امپائر کی جانب سے ایسی گیند کونو بال قرار دیا جائے گا۔گیند کے دوران گراؤنڈ میں کھڑے فیلڈروں کی جانب سےاپنی جگہ تبدیل کرنے پرامپائر کی جانب سے اس گیند کوڈیڈ بال قرار دیا جاتا تھا۔ اب فیلڈروں کے ایسا کرنے پر امپائر کی جانب سے فیلڈنگ کرنے والی ٹیم پر پانچ رنز کا جرمانہ لگایا جائے گا۔کورونا وائرس کےقوانین کے مطابق کھلاڑیوں پر تھوک کا استعمال کر کے گیند کو چمکانے کی پابندی تھی۔ تاہم اسے اب مستقل قانون کی شکل دے دی گئی ہے۔ تاہم فیلڈرز اور بولرز اپنے پسینےسےگیند کو چمکا سکتے ہیں۔