عورت مارچ!!

86

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ عورت مارچ آج ہورہا ہے یہ تحریک 1911میں شروع ہوئی اور WOMEN EMPOWERMENTکی بات کی گئی اور سوچا گیا کہ جدید معاشرے میں عورت کا کردار کیا ہونا چاہیے اس GENDER DISCRIMINATIONپر بات کی گئی تھی اور مطالبہ تھا عورتوں کی شاندار کامیابیوں کو اجاگر کیاجائے ان میں بیداری پیدا کی جائے اور ان کو جنس کی بنیاد پر نظر انداز نہ کیا جائے ان کا مطالبہ GENDER EQUALITYکا تھا ظاہر ہے کہ کوئی بھی تحریک راتوں رات تو اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتی اس تحریک کا سفر جاری ہے اور تحریک رفتہ رفتہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے یہ عورتوں کی ہی تحریک نہیں ہے ان میں مرد بھی شامل ہیں اور وہ گروپ بھی جو FEMINIST MOVEMENTسے متعلق ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ WOMEN EMPOWERMENTنئی نسلوں کو زیادہ مہذب اور حلیم بنا سکتی ہے اور وہ بہتر انداز میں سوچ سکتے ہیں اور ایک معتدل معاشرہ وجود میں آسکتا ہے عورت مارچ اور FEMINIST MOVEMENTنے معاشرے پر اثرات مرتب کئے ہیں اور معاشرہ پہلے سے زیادہ اعتدال پسند ہو گیا ہے ۔1911سے 2022ء تک کا سفر تھکا دینے والا نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس عورت مارچ کے MANIFESTOمیں تبدیلیاں آتی جارہی ہیں اب اس میں CLIMATED CRISISکا بھی ذکر ہے 2022 WOMEN MARCH کا نعرہ بہت مقبول ہوا ہے وہ ہے GENDER EQUALITY TODAY FOR A SUSTAINABLE TOMORROWہر چند کہ عورت کی آزادی نے معاشرے میں کچھ مسائل پیدا کئے ہیں اور کچھ عورتوں نے حدود سے بھی تجاوز کیا ہے جس سے خاندان ٹوٹا ہے مگریہ شرح بہت کم ہے جیسے جیسے بیداری آتی جارہی ہے معاشرے میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں اب یہ بات بہت فخر سے کہی جاتی ہے کہ بچے ماں کی ACCOMPLISHMENTSپر زیادہ فخر کرتے ہیں یہ بات ان کو ماں سے زیادہ قریب کر دیتی ہے جو خاندان کی بقا کی طرف اشارہ ہے۔ پاکستان میں عورت مارچ کی ہمیشہ مخالفت ہی کی گئی اور کہا گیا کہ اسلام نے عورتوں کو بہت زیادہ حقوق دئیے ہیں اور چند آیات اور احادیث کاورد، ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ علماء یہ بتا دیں کہ کیا دین کو تاریخ کے ساتھ ملا کر پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں، اس سوال پر چپ سادھ لی جاتی ہے، مگر تاریخ کے تجزئیے سے روکا نہیں جا سکتا، کچھ چیزوں کو جمع تفریق کے ضابطوں پر بھی سمجھا جاتا ہے جب اسلام کی تبلیغ شروع ہوئی تو بڑی مشکلات تھیں مگرحضرت خدیجہ کی دولت اور ان کی رسول ؐسے محبت اور فیاضی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خدیجہ اگر قلاش ہوتیں تو اسلام کی تبلیغ ممکن نہ ہوتی، اس FACTORکو منہا کر دیجئے تو معلوم ہو گا کہ اسلام کا پنپنا مشکل ہو جاتا، اسی طرح عمر کا قبول اسلام اور ابوطالب کی حمایت کو منہا کر دیجئے تو منظر صاف ہو جائینگے اوربات سمجھ میں آجائیگی یا پھر اہل مدینہ کی مدد کے بغیر کیا ہو سکتا تھا حضرت خدیجہ کے اسلام پر بہت احسانات ہیں اس ELEMENTکو منہا کیجئے تو اندازہ ہو گا کہ خدیجہ کی شخصیت کی قامت کیا ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ رسول ؐ نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی اس عمل کو سنت کا درجہ حاصل ہے جس کی شد و مد سے مخالفت کی جاتی ہے اور نکاح ثانی کی ترغیب دی جارہی ہے اور سچ تو یہ بھی ہے کہ عہد رسالت میں بھی غلاموں اور لونڈیوں کی تجارت جاری تھی اور اس کو روکا نہیں گیا، ہر چند کہ غلاموں کو آزاد اور لونڈیوں کی تجارت معیشت کا حصہ تھی یہ بھی سچ ہے کہ دین میں عورت ایک ملکیت ہے اور مرد کو اس کا خدائے مجازی بنا دیا گیا ہے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے مگر پاکستان میں قدامت پرستی کو ہی دین سمجھا جاتا ہے پاکستان میں آٹھ فرقے ہیں اور ہر فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور ان سب کو معلوم ہے کہ معاشرے میں ذرا بھی روشن خیالی آئی تو ان کی روٹی روزی بند ہو جائے گی۔
جوں جوں عورت مارچ قریب آیا ویسے ویسے ریاست مدینہ کے کرتا دھرتا ہیجانی کیفیت کے شکارہوئے وزیر مذہب امور نورالحق قادری نے ریاست مدینہ کے وزیراعظم کو خط لکھ دیا کہ عورت مارچ پر پابندی لگا دی جائے اور حجاب مارچ منانے کااہتمام کیا جائے حجاب مارچ کے پیچھے چند فرسودہ باتیں، کوئی علمی بحث کے لئے نہ ملا تو ایک ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کو استعمال کیا گیا جس نے پردہ مارچ کا اہتمام کیا تھا اب جبکہ سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان کہہ رہے ہیں کہ ہم اصل اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ سعودی عرب جس نے پاکستان کو وہابیت کے فروغ میں مدد کی اور فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکایا یا وہابیت سے تائب ہو گیا اور اب اعلان کررہا ہے کہ وہابیت اصل اسلام نہ تھا مگر اسی اسلام کی وجہ سے ہزاروں لقمہ اجل بن گئے اب سعودی عرب PROGRESSIVEہونے جارہا ہے مگر جو زہر ذہنوں میں بویا جا چکا وہ پاکستان میں اور خون چاہتا ہے حیا مارچ، حجاب مارچ اور پردہ مارچ کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ان کے حق میں کوئی دلیل شوکتِ اسلام، نظام مصطفی، نفاذ شریعت، نفاذ اسلام، یہ سب نعرے تحلیل ہو چکے اور آج تک نظام اسلام کی کوئی تشریح نہ ہو سکی، ہم نے بار بار پوچھا کہ اسلامی ریاست کب کہاں اور کس ملک میں بنی یہ بتا دیا جائے مودودی نے خلافت اور ملوکیت لکھی مگر یہ نہ لکھ سکے کہ کربلا کے بعد ملوکیت ہی رہی اور ملوکیت اسلام نہ تھی یہ لکھ دیتے تو منصورہ کی طرف کون جاتا، نور الحق قادری نے عورت مارچ کا MANIFESTOپڑھنے کی زحمت گورا نہیں کی۔ اب پڑھ لیں اور ہمیں بتائیں کہ عورت مارچ کے منشور میں کون سی باتیں اسلام کے خلاف ہیںعورت مارچ خواتین کی سیاسی معاشرتی اور معاشی بیداری کا ذریعہ ہے جو ملک کو روشن خیالی کی طرف لے جائے گا GENDER EQUALITYپاکستان کی 54فیصد خواتین کا خواب ہے جس کی تعبیر خوش کن ہو گی۔