بے نقط !

86

پاکستان میں اور پاکستان سے باہر بھی جدھر دیکھو انتشار اور خلفشار کی کیفیت ہے۔لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو پھر وہ جن میں حالات پہ قابو پانے کی صلاحیت ہوتی ہے ایکشن میں آجاتے ہیں۔ تو ہمارے کپتان عمران خان جن کی شہرت، جب وہ کرکٹ کھیلتے تھے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت ان کے پاس تھی، یہ تھی کہ مشکل حالات میں جتنے ہوتے تھے تو کپتان کی قائدانہ صلاحیت اسی اعتبار سے عود کر آتی تھی، بڑھ جایاکرتی تھی اور مشکل حالات میں ان کی پرفارمینس عام حالات کے مقابلہ میں بدرجہا بڑھ جایا کرتی تھی۔
اب وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور ملک کے جملہ امور، داخلی اور خارجی، سب کے کپتان اور رہنما ہیں۔ اور یہ نہ کہنا تو حقیقت سے چشم پوشی کے مصداق ہوگا کہ جتنے مشکل حالات آج، اس مرحلہ پر کپتان کو لاحق ہیں اتنے کٹھن اور صبر آزما اس سے پہلے کبھی نہیں تھے نہ کپتان کیلئے اور نہ ہی پاکستان کیلئے۔
ملک کی سرحدوں سے باہر جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ یوکرین پر روس کی لشکر کشی نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ہے لیکن زیادہ ہائے ہو یورپ میں ہے اور اس لئے ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کیلئے اپنی عیاری اور مکاری سے جو نقشہ بنایا تھا اور جو شطرنجی بساط بچھائی تھی اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ جو بھی جنگ ہو، جو بھی خوں ریزی ہو وہ یورپ میں نہیں بلکہ ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک میں لڑی جائے اسلئے کہ طاغوت کے سوداگروں کی ابلیسی فہم کے مطابق غریب اور رنگدار لوگوں کا خون سستا ہے اور سفید فاموں کا مہنگا لہذا سستے خون کو جتنا بھی بہایا جائے کم ہے، مباح ہے اور اس پر کسی کو کوئی تشویش نہیں ہونہ چاہئے۔
یہی سوچ تھی جو امریکہ بہادر اور ان کے نیٹو کے حلیفوں نے کوریا میں تین برس تک کوریائی عوام کا خون بہایا اور جی بھر کے بہایا۔ پھر وہاں سے فارغ ہوئے تو ویتنام میں دس برس تک لاکھوں ویتنامیوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ بیس برس تک افغانستان میں بیدریغ خون بہاتے رہے، عراق پر دھوکہ دہی سے یلغار کی اور لاکھوں عراقیوں کے خون کی ندیاں بہائیں۔ اس دوران صرف ایک بار یہ ہوا کہ جب روس کی افغانستان سے پسپائی کے بعد سوویت یونین ٹوٹا اور پھر یوگوسلاویہ کا اتحاد بھی پارہ پارہ ہوا تو سربیا کے مسلمان دشمن درندوں نے بوزنیا کے معصوموں کےخون سے اپنی ہولی کھیلی۔ 1995 میں اقوامِ متحدہ کے سپاہیوں کے پہرے میں، جن کا تعلق ہالینڈ سے تھا، سربیا کے درندوں کو کھلی چھٹی دی گئی کہ وہ بوزنیا کے مردوں کا خون بہائیں اور ان کی عورتوں کو بے عزت کریں۔ شطرنج کی یہ چال یوں چلنے دی گئی کہ مرنے والے اگرچہ سفید فام تھے، قاتلوں کی رنگت والے ہی تھے، لیکن ان کا جرم یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے۔ تو اس سے یہ وضاحت ہوئی کہ مسلمان اگر سفید فام بھی ہوں تو ان کا قتل جائز ہوتا ہے۔
اب یوکرین میں روس کی یلغار پہ یورپ میں اسی لئے تو تہلکہ ہے کہ مارے جانے والے مسلمان بھی نہیں ہیں، گوری رنگت کے ہیں، نیلی آنکھیں ہیں ان کی اور بال بھی سنہرے ہیں پھر بھی وہ کیوں ہلاک ہورہے ہیں۔ روس کو یہ ہوش نہیں آتا کہ نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والوں کا قتل تو امریکہ بہادر اور ان کے یورپی حلیفوں کے منشورِ جنگ کے خلاف ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس کی مذمت کے لئے جو قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوئی ہے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا اور بالکل درست کیا اسلئے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہماری جنگ تو وہ بھی نہیں تھی جب طاغوت نے بیگناہ افغانستان پر یلغار کی تھی اور ہمارے اس وقت کے اپنے منہ میاں مٹھو مرد آہن پرویز مشرف نے طاغوت کی ایک دھمکی پر گھٹنے ٹیک دئیے تھے اور اس جنگ کا حصہ بن گئے تھے جس کی ہمیں بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ بیس برس کی اس طاغوتی جنگ میں ہمارے کم از کم اسی ہزار بیگناہ شہری ہلاک ہوئے، زیادہ تر اس سامراجی طاقت کے ڈرون حملوں میں جو ہماری برائے نام حلیف تھی اور جس کی امداد کیلئے ہمارے بے ضمیر حکمرانوں نے پورے ملک کو گروی رکھ دیا تھا۔ معیشت کا جو خون ہوا وہ الگ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی معیشت کو بیس برس میں سو ارب ڈالر کا ٹیکہ لگا۔
کپتان عمران نے اس وقت بھی اس جنگ کی مخالفت کی تھی جب وہ اپنی سیاست کی بنیاد رکھ رہے تھے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اقتدار کا مالک عمران اب کسی ایسی جنگ میں فریق بنے جس میں پاکستان کا کوئی مفاد نہیں ہے۔ سو کپتان کی قیادت میں پاکستان نے روس کے خلاف مغربی محاز کا حصہ بننے سے معذوری ظاہر کردی۔ لیکن مغربی ممالک کا تکبر اور زعم ملاحظہ ہو کہ یورپی یونین کے بائیس ممالک کے ان سفراء نے جو پاکستان میں تعینات ہیں ایک مشترکہ بیان جاری کرنے کی جسارت کی جسمیں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ روس کی مذمت اور یوکرین کی حمایت کرے۔ روس کی مذمت کرنے سے بھارت نے بھی انکار کیا ہے لیکن دلی میں مقیم یورپی یونین کے سفراءنے بھارت سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اسلئے کہ بھارت تو ان دنوں امریکہ بہادر کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے اور مودی سرکار کو اس نے کھلا لائسنس دے دیا ہے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کو جس طرح چاہے ہراساں کرے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنادے۔ مسلمان ہدف ہوں تو امریکہ بہادر کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی، کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
لیکن کپتان عمران نے اس سفارتی بیہودگی کا ایسا مسکت جواب دیا ہے کہ گوری چمڑی والوں کے منہ لٹک گئے ہیں۔ کپتان نے صاف کہہ دیا کہ پاکستان اب کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اور کسی کی دھونس یا دھمکی میں آکر کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جو پاکستان کے قومی مفاد میں نہ ہو۔ اب اس دوٹوک موقف پہ کوئی خفا ہو تو ہوتا رہے پاکستان پر اب ضمیر فروش حکمراں نہیں ہیں اور عمران پاکستان کے بابائے قوم کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے یہ ثابت کررہا ہے کہ اسے کوئی نہیں خرید سکتا۔
لیکن مغربی سامراجیوں نے اس وقت جب ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر میں سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے اپنے پنجے گاڑ رہی تھی یہ نسخہ پالیا ہے کہ یہاں، مسلمانوں میں بطورِ خاص، ملت فروش بکثرت پائے جاتے ہیں اور انہیں مناسب قیمت پہ با آسانی خریدا جاسکتا ہے۔
حکمراں چاہے ٹیپو سلطان اور نواب سراج الدولہ جیسے غیرت مند اور حمیت والے ہوں جن کا ایمان یہ ہو کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے وہیں میر جعفر اور میر صادق جیسے ملت فروش خریدے جاسکتے ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کیلئے قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بالکل احتراض نہیں کرتے۔میر جعفر کے ہی تو سپوت تھے اسکندر مرزا جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹی تھی۔ لیکن اسکندر مرزا تو ایک تھے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ملت فروش قبیلہ خوب پھلا پھولا ہے اور اسی قبیلے والے آج عمران خان کے خلاف صف آراء ہیں اور ایسے مشکل وقت میں جب ، اگر ملا فضلو، زرداری اور نواز کے چیلے چاٹوں کو پاکستان سے محبت ہوتی، ملک کی سالمیت سے کوئی لگاؤ ہوتا ، ملک ایک بڑے مشکل امتحان سے دوچار ہے تو وہ عمران کی حکومت گرانے کی مذموم کوششوں کے بجائے عمران کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے اپنا تعاون پیش کرتے۔ لیکن جن کی رگ و پے میں ملت فروشوں کا خون گردش کررہا ہو تو ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ملک کے مفاد میں سوچیں گے اس امید کے برابر ہوگا کہ کیکر کے پیڑ پر آم اُگ آئیں۔
سو یہ ملت فروش اپنے مغربی اور سامراجی آقاؤں کی شہ پر عمران حکومت کو گرانے کا عزم لیکر اپنے اپنے لنگوٹ کس کے اکھاڑے میں کود پڑے ہیں۔ ایک قائد ان کا ملا فضلو ہے جو دین کے نام پر سیاست کا گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔ اور دوسرا وہ زرداری کا خواجہ سرا سپوت ہے جو اسلام آباد کی سمت لانگ مارچ کی قیادت کررہا ہے۔
لیکن عمران نے جہاں ایک طرف ان ملت فروشوں کے مغربی آقاؤں کو ان کی اوقات بتادی ہے وہیں اس نے اب ان ضمیر فروشوں سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے اور اس نیک کام کا آغاز پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ایک جلسہ عام سے کیا ہے جہاں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے پاکستان کے دشمن ان ملت فروشوں کو بے نقط سنائی ہیں۔
ہماری زبان اور محاورہ میں بے نقط سنانا اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو ٹوک اور کھری کھری بات کی جائے۔ عمران کی ویسے بھی عادت ہے کہ وہ تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتا۔ حکومت کے ذرائع معلومات زیادہ ہوتے ہیں اور پاکستان کی چوکس خفیہ ایجنسیاں حکومت کو ان تمام سازشوں سے باخبر اور آگاہ رکھتی ہیں جو پاکستان اور عمران خان کے خلاف اس وقت بلادِ مغرب میں ہورہی ہیں۔ وہ ممالک جن کے سفرا میں اتنی تہذیب اور لحاظ نہ ہو کہ وہ سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ دیں اور پاکستان کی میزبان حکومت سے کھلے عام یہ مطالبہ کریں کہ وہ سامراجیوں کا حلیف بن جائے وہ درونِ پردہ عمران کے خلاف کیا کیا منصوبے نہ بنا رہے ہونگے جن کیلئے انہیں موجودہ پاکستان میں میر جعفر اور میر صادق بڑی آسانی سے دستیاب ہیں ، ملت فروش جو ڈالروں کے عوض ملک کی غیرت اور وقار کا سودا کرنے میں کوئی عار نہ محسوس کریں اور اپنے آقاؤں کی شہ پر عمران حکومت کو گرانے کیلئے کوشاں ہوں۔
مغربی سامراج کا یہ آزمودہ حربہ ہے کہ وہ ہمارے جیسے ملکوں کو پھونکنے اور جلانے کیلئے ان کے گھروں میں ہی چراغ تلاش کرتے ہیں تاکہ گھر کے چراغوں سے ہی گھر میں آگ لگاسکیں۔ 1953 میں اردن کے غیرت مند رہنما اور وزیرِ اعظم ڈاکٹر مصدق، کا تختہ الٹنے کیلئے سامراجیوں کو جنرل زاہدی مل گیا تھا۔ اسی طرح 1973 میں چلیکے سوشلسٹ صدر اور رہنما سالوادور آئندے کے خلاف فوجی بغاوت کرنے کیلئے ان سامراجیوں کا مہرہ جنرل پینوشے تھا۔ سو پاکستان میں اس وقت عمران کی سربراہی سامراجیوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور اس کانٹے کو نکالنے کیلئے سامراج کے نمائندے، فضلو ، نواز اور زرداری جیسے ملت فروش ان کا ناپاک ایجنڈا کامیاب بنانے کیلئے اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں۔
لیکن عمران نے انہیں دوٹوک بتادیا ہے کہ اگر ان کی عدم اعتماد کی مہم ناکام رہی، اور اللہ نے چاہا تو ضرور ناکام رہیگی، تو اس کے بعد عمران ان ملت فروشوں سے کس طرح نمٹے گا یہ وہی جانتا ہے یا اللہ جانتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اگر اللہ کو یہ منظور ہے کہ پاکستان اس کٹھن اور صبر آزما مرحلہ سے سرخروئی اور کامرانی کے ساتھ گذر جائے تو اس کیلئے شرط بس ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ عمران کے خلاف سازشی مہم چلانے والے اپنے کیفر کردار کو پہنچیں اور ملت فروشوں کے منہ پر ذلت اور خواری کی کالک قوم کو نظر آئے۔
اگلے چند روز اور ہفتے پاکستان کے ضمن میں تشویش ناک ہیں اور تحیر خیز بھی ہوسکتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ستاروں کی گردش پاکستان کیلئے کیا نوشتہ تحریر کرتی ہے۔ ایک نیک فال یہ ضرور ہے، اور طمانیت کا باعث ہے، کہ عمران نے ملک دشمنوں اور آستین کے سانپوں کو بے نقاب کرنے کی مہم 3 شعبان کی تاریخ سے چلائی ہے جو سید الشہدا امامِ عالی مقام سیدنا حسین کا یومِ ولادت ہے جن کی بے نظیر قربانی نے کربلا کے میدان میں اپنے نانا کے دین کو سرخرو رکھا تھا۔ دعا یہی ہے کہ عمران کے حق میں بھی پاکستان کے ناموس اور عزت کو بچانے کی یہ مہم کامران رہے اور سامراجیوں کے ملت فروش حلیف ناکامی کا وہ منہ دیکھیں جس کے بعد انہیں ملک کے خلاف سازش کرنے کا حوصلہ نہ رہے!!!!