اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد، اس وقت صرف 152ارکان اپوزیشن کے پاس ہیں کیا عمران خان کامیاب ہوں گے؟

69

پاکستان میں سیاسی طور پر دھماکہ خیز صورت حال ہے۔ دنوں کے لحاظ سے نہیں گھنٹوں کے حساب سے حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ پورا ملک افواہوں اور سرگوشیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ ہر لمحہ ایک نئی خبر آرہی ہے جتنے ٹی وی چینلز ہیں اور جتنے اینکرز ہیں وہ اپنا اپنا تجزیہ اور خبریں اپنے اپنے اندازسے پیش کررہے ہیں۔ لفانہ اینکرز اپنے بیان میں عمران خان کی روانگی کو یقینی بتارہے ہیں۔ غیر جانبدار اینکرز صرف خبریں دے رہے ہیں تبصرہ نہیں کررہے ہیں صرف حکومتی ترجمان اور وزراء کو عمران خان کے برقرار رہنے کا یقین ہے۔ اپوزیشن ارکان میں آصف زرداری کوئی بات کررہا ہے، بلاول دوسری بات کررہا ہے۔ فضل الرحمن کو کامیابی کا یقین ہے جبکہ شہباز شریف اور مریم کا بیانیہ بھی الگ الگ ہے لیکن سب کا ٹارگٹ عمران خان ہے۔ اپوزیشن نے دو تحریکیں قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کرائی ہیں ایک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے دوسری تحریک عدم اعتماد۔ اگر آپ قانون کاجائزہ لیں تو اسمبلی کا اجلاس ۱۴ دنوں کے اندر بلانا لازمی ہے اس حساب سے مارچ ۲۲ تک سپیکر اجلاس بلانے کا پابند ہے۔ 23مارچ کو یوم پاکستان ہے پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ۳ دن سے ۷ دن کے اندر تحریک عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے۔ اس وقت بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔ سیاسی جوڑ توڑ اور خریداروں نے بھائو کافی بڑھا لئے ہونگے۔ حکومت کے پاس اگر فوج نہیں ہے تو ایف آئی اے اور رینجرز موجود ہے جو وزارت داخلہ کے انڈر آتی ہے نہ جانے کتنے ممبر غائب ہو چکے ہوں گے کتنے بیمار ہوگئے ہونگے کتنے بیرونی ملک جا چکے ہونگے اور وہ بھی آصف زرداری سے پیسے لیکر۔ اس وقت سب سے بڑا خریدار اور مالدار آصف زرداری ہی ہے وہ اپنے بیٹے بلاول کوایک مرتبہ وزیراعظم اپنی زندگی میں بنوانا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ ن لیگ کا کندھا استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ نواز شریف پنجاب کی حکومت لینا چاہ رہا ہے تاکہ آئندہ الیکشن کی تیاری کر سکے اور مریم کو آئندہ وزیراعظم بنوا سکے۔ اس کے لئے وہ بلاول کو ایک سال یا چند ماہ کیلئے وزارت عظمیٰ دے دے گا۔
اب اگراپوزیشن کی گنتی اور ممبروں پر نظر ڈالیں تو وہ اب واضح ہو گئی ہے۔ اپوزیشن نے 152دستخطوں کے ساتھ تحریک داخل کی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے فی الحال ان کے پاس 152دستخط شدہ ممبر ہیں۔ اگر 172ممبر ہوتے تو وہ 172لوگوں کے دستخطوں کے ساتھ تحریک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کراتے اور کہانی ختم ہو جاتی۔ عمران خان کو یا تو استعفیٰ دینا پڑتا یا حکومت توڑنا ہوتی اور نئے الیکشن انائونس کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آصف زرداری خرید و فروخت میں لگاہوا ہے۔ اپوزیشن پی ٹی آئی کے ممبروں کو کروڑوں اور ٹکٹو ںکی آفر کررہا ہے۔ اپوزیشن کے میڈیا چینل جیو، 24نیوز اور ایک دوسرا چینل اپوزیشن کی خبروں کو اجاگر کررہے ہیں۔ اینکروں میں حامد میر، سلیم صافی، سہیل وڑائچ، نجم سیٹھی جیسے لوگ حکومت کی شکست کی خبریں دے رہے ہیں لیکن حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ہر آدمی نے جہانگیر ترین پر تکیہ کیا ہوا ہے اب اس کے ساتھ علیم خان بھی مل گیا ہے۔ حالات حکومت کے خلاف ہونے کی سب گواہیاں دے رہے ہیں لیکن ایک فریق خاموش ہے۔ اس کا نام ہے فوج جس نے نواز شریف سے بھی گالیاں کھائیں، فضل الرحمن نے بھی برا بلا کہا۔ مریم کو جتنے بُرے بُرے الفاظ یاد تھے وہ فوج کیلئے ادا کر دئیے اب کیا ان ہی لوگوں کو دوبارہ اقتدار میں فوج لائے گی اور ان سے گالیاں کھائے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ آج کل عمران خان بھی بہت ایکٹو ہو گئے ہیں۔ چودھری شجاعت کی عیادت کو ان کے گھر پہنچے کل وہ کراچی جارہے ہیں خبر ہے کہ بہادر آباد ایم کیو ایم کے مرکزبھی جائیں گے پھر سندھ میں پیر پگاڑا سے بھی ملیں گے ان کا بھی اسرار تھا کہ عمران خان ان کے گھر آئیں باپ پارٹی سے بھی رابطہ ہورہا ہے جس طرح اپوزیشن ہر ایک سے ملاقات کررہی ہے اور پروپیگنڈا مشینری استعمال کررہی ہے اسی طرح اب حکومت بھی ہر دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے تاکہ اپوزیشن کی یہ آخری واردات بری طرح ناکام بنا دی جائے۔
اگر آپ خطے کے حالات دیکھیں تو روس اور یوکرائن کی جنگ نے حالات بہت خراب کر دئیے ہیں۔ عمران خان کے روس کے دورے نے ان کو امریکہ سے بہت دور کر دیا ہے۔ اس سے پہلے وہ امریکہ کو Absuletly notبھی کہہ چکے ہیں پھر وہ امریکہ نہ جا کر چائنہ پہنچ گئے۔ بین الاقوامی طاقتیں ان کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں ہر قیمت پر وہ ان کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن چائنا روس اور سعودی عرب ان کو ہر قیمت پر اقتدار میں رکھنا چاہتے ہیں۔ آئندہ کے تین ہفتے پاکستانی عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں گے کہ چور ڈاکو دوبارہ ان پر مسلط ہو جائیں گے یا آئندہ کے 5سال ان دو پارٹیوں کے لئے تباہی ہی تباہی لائیں گے۔