شہر کم نصیب!!

134

پشاور میں اہل تشیع کی مسجد پر یہ پہلا حملہ نہ تھا یہ عبادت گاہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ عسکریت پسندوں کے نشانے کی زد پر آ چکی ہے کوچہ رسالدار کے مظلوم لوگ اس سے پہلے بھی سینکڑوں جگر گوشوں کی قربانیاں دے چکے ہیں قصہ خوانی بازار کے قریب واقع پرانے اورروایتی پشوریوں کا یہ محلہ دہشت گردوں کی پسندیدہ شکار گاہ ہے ہر حملے کے دو تین سال بعد جب اہل پشاور اپنے شہدا کوبھول جاتے ہیں تو دشمن انکی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوے اسی جگہ کا رخ کرتا ہے میں ایک مرتبہ خود اس ہجوم میں شامل تھا جو اسی محلے کے قریب واقع ایک ہوٹل پر خود کش حملے کے بعددوڑتا ہوا قصہ خوانی سے آگے خیبر بازار کی طرف جا رہا تھا یہ جنوری یا فروری 2007 کی بات تھی میں ایک دوست سے ملنے جہانگیر پورہ گیا ہوا تھا وہاں سے واپسی پر ایک زور دار دھماکے کے بعد خوفزدہ لوگوں کیساتھ بھاگنا پڑا جنگ دہشت گردی کے بیس برسوں میں پاکستان کے طول و عرض میںہر شہر میں خون بہایا گیا مگر سب سے زیادہ قربانیاں انہوں نے دیں جن پر چار سو سے زیادہ ڈرون حملے ہوے مفلوک الحال اور ستم رسیدہ لوگوں کے اس مسکن کو قبائلی علاقے کہا جاتا ہے پشاور بھی اسی سلسلہ زنجیر کی ایک کڑی ہے یہ ایک بڑا شہر اور صوبائی دارالخلافہ ضرور ہے مگر دشمن اسے کسی اور نگاہ سے دیکھتا ہے اسکے لئے یہ شہر ایک ایسا آسان نشانہ ہے جو اسکی وارداتوں کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیتا ہے چار مارچ کے اس حملے کے بعد اگلے روز نیو یارک ٹائمز کی ایک باتصویر خبر کی سرخی میں لکھا تھا ISIS bombing kills dozens at Pakistan Shiite mosque اس طویل خبر میں شہید اور زخمی ہونیوالوں کی تعداد اور اس بہیمانہ واردات کے نتیجے میں جو دلخراش مناظر دیکھنے میں آئے انکی تصویر کشی کے بعد لکھا ہےThe attack on Friday broke a relative lull in violence in Peshawar, which has borne the brunt of Taliban militancy in recent years یعنی ’’ جمعے کے دن ہونیوالے اس حملے نے پشاور میںپر تشدد واقعات کے نہ ہونے کی وجہ سے جو خاموشی تھی اسے توڑ دیا پشاور ایک ایسا شہر ہے جس نے برسوں تک طالبان کے تشدد کا دبائو برداشت کیا ہے‘‘ اسکے بعد اس خبر میں 2014میں آرمی پبلک سکول پر ہونیوالے وحشیانہ حملے کا ذکر کیا گیا جسمیں 140 سے زیادہ طالبعلم اور اساتذہ شہید ہوے تھے اسی خبر میں پشاور کے پولیس چیف اعجاز خان اور آئی جی کے پی کے معظم جاہ انصاری کے بیانات بھی درج ہیں اس حملے میں پولیس کا ایک سپاہی شہید اور ایک زخمی ہوا تھا
یہ حملہ پشاور میں دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ہوا اسوقت نیویارک میں رات کےسا ڑھے گیارہ بج رہے تھے میں نے رات ایک بجے اس دردناک واردات کی جو ویڈیوز دیکھیں ان میں سے کسی کو بھی میں آخر تک نہ دیکھ سکا CCTVکی فوٹیج نے وہ سارا منظر دکھا دیا جسمیں خودکش بمباراپنے سہولت کاروں سمیت اپنی شکار گاہ تک پہنچتا ہے اسکے طریقہ واردات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کا راستہ بھی جانتا تھا اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اسکے راستے میں دو سپاہی بھی کھڑے ہوں گے اسی لئے وہ ایک گن بھی ساتھ لایا تھا وہ پوری طرح تیار تھا اور اسکی بر بریت کا شکار ہونیوالے دو سو کے لگ بھگ نمازیوں اور انکے دو محافظوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انکے ساتھ کیا ہونیوالا ہے کیا اسے ایک intelligence failure نہیں کہا جا سکتا اب یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ لگا لیا گیا ہے اور اسکے مستقبل کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا جائیگا ظاہر ہے کہ یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ جو منصوبہ چونسٹھ انسانوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کر کے کامیاب ہوا ہے اسکی ذمہ داری کس پر ہے اگر اسکا ذمہ دار کوئی بھی نہیں تو اس صورت میں بھی یہ ضروری ہے کہ قاتل کے بیک گرائونڈ اور اسکی سوچ کا تجزیہ کیا جائے اور اسکے سہولت کاروں کے اڈوں کی مکمل چھان بین کی جائے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دو تین سال بعد دہشت گرد پھر اسی جگہ کا رخ کریں گے اس مسجد کے دو آہنی گیٹ اور دو سپاہی اسکی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں دشمن ہر مرتبہ سیکیورٹی فورسز کو جل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ آئندہ بھی نقشے پر چل کر ہی یہاں پہنچے گااسلئے شہر کے محافظوں کو چاہیئے کہ وہ کوچہ رسالدار کے مکینوں کو مزید جانی نقصان سے بچانے کیلئے کوئی فول پروف حفاظتی بندوبست کر لیں
پشاور میں چند دوستوں سے بات چیت کے بعد مجھے پتہ چلا کہ شہر میں سخت خوف و ہراس ہے لوگ کھلے عام اس بہیمانہ واردات پر گفتگو نہیں کررہے اس موضوع پرلکھنے سے بھی لوگ گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں دہمکی آمیز ای میلز بھیجے جاتے ہیںجواہل قلم اس شہر کم نصیب میں رہتے ہوے اس المیے پر لکھتے ہیں انکی ہمت کی داد دینا پڑتی ہے یہ گھٹن اور یہ رنج و الم سوشل میڈیا پر تمام بند توڑ کر سامنے آجاتا ہے لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن دونوںشہر اقتدار میں میڈیا کی چکا چوند میں کھڑے ہیں تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ کے اس شورو غوغا میں کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ دو لفظ تسلی کے اہل پشاور کیلئے بھی کہہ دے میرے مظلوم شہر کے بھولے لوگ کل انہی سیاستدانوں کی آئو بھگت بھی کریں گے ا ور انہیں ووٹ بھی دیں گے مگر کوئی ان سے یہ نہ پوچھ سکے گا کہ اسوقت آپ کہاں تھے جب اس شہر میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی تھیں میں نے چند اکابرین کے وہ بیانات پڑھے ہیں جو ایسی المناک وارداتوں کے بعد انکے دفتروں سے جاری کر دئے جاتے ہیںآرمی پبلک سکول کے دلخراش سانحے کے بعد اور اس جیسے کئی المیوں کو خاموشی سے برداشت کر لینے والی مائوں کی خدمت میں نہایت احترام اور دکھی دل کیساتھ ایک مرتبہ پھر اظہار تعزیت ایک مرتبہ پھر اظہار افسوس کہ میں اپنے شہر کے شہیدوں کے گھروں میں جا کر دعاکے لئے ہاتھ نہ اٹھا سکا