عورتوں کے سنجیدہ مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے

293

8 مارچ کو دنیا بھر میں یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد کیا ہے؟ اس بارے میںہمارے مذہب کے رکھوالے کیا کہتے ہیں؟ پاکستان کے مذہبی امور کے وفاقی وزیر صاحب نے ابھی پہلے سے آٹھ مارچ یوم خواتین پر ہونے والے مظاہروں پر پابندیاں لگانے کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس دن کسی کو اسلامی شعار کا مذاق اڑانے کی اجازت نہ دی جائے۔اس دن بین الاقوامی یوم حجاب منایا جائے۔ پیر نور الحق قادری نے وزیر اعظم اور صدر مملکت دونوں سے مطالبہ کیا ہے کہ یوم خواتین کو حیا مارچ یا خواتین کے حقیقی مسائل پر آرا پیش کرنے کی ترغیب دی جائے۔وغیرہ وغیرہ۔
سب سے پہلے تو تمام یوم خواتین منانے والوں کو جا ننا چاہیے کہ اس سال عالمی یوم خواتین کے لیے ایک مرکزی موضوع دیا گیا ہے اور وہ ہے ـ’’ جانبداری کو ختم کیجیئے‘‘ (Break the bias)۔ یعنی عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک جس میں انہیں مردوں کے برابر حقوق نہیں دیے جاتے، ایسے رویئے ختم کرنے ہوں گے۔ اس سال عورتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ خواتین کی کامیابیوں اور کارناموں سے لوگوں کو آگاہ کریں، عورتوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک پر آ گاہی دیں اور جنسی مساوات کے لیے قدم اٹھائیں۔بین الاقوامی یوم خواتین کی طرف سے اس دن کی تقریبات کے لیے کتبے بھی بنائے گئے ہیں، جو دنیا میں کسی بھی معاشرے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں کیونکہ تمام دنیا میں عورتوں برابر کے حقوق نہیں دیئے جاتے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، جن میں پاکستان شامل ہے۔
مولانا مذہبی امور نے غالباً قران مجید میں یہ دیکھ لیا ہو گا کہ اللہ تعالی ٰکے حجاب کے بارے میں کیا احکامات ہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ خواتین اس دن کو یوم حجاب کے فروغ کے لیے منائیں۔ بڑی اچھی سوچ ہے لیکن اس میں ایک قباحت بھی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے خود ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ حجاب اسلامی شریعیہ کے مطابق لازمی ہے۔اگرچہ کچھ لوگ اختلاف کریں گے کہ رسول اللہ کے زمانے میں عورتیں ایسا حجاب نہیں پہنتی تھیں، انہیں صرف اپنا سینہ چھپانے کے لیے کہا گیا تھا وہ بھی جب وہ گھر سے باہر جائیں اور کافروں کے سامنے۔یہ غلط ہے تو میں معافی چاہتا ہوں، لیکن بھارتی اعلیٰ عدالت نے بھی کہا ہے کہ پہلے معلوم کیا جائے کہ حجاب کرنا اسلامی شریعیہ میں حکم ہے یا نہیں؟ ناچیز کی رائے میں یہ بھی بتانا چاہیے کہ قران کی تعلیمات کے مطابق وہ حجاب کیسا ہونا چاہیے۔
مسئلہ حجاب کا نہیں، حقوق نسواں کا ہے۔آج کی دنیا میں، عورتیں چاہتی ہیں کہ انہیں اپنی مرضی کا لباس، پیشہ، رہن سہن، کی آزادی ہو۔ مثلاً ابھی ایک بھارتی ٹی وی کی وڈیو دیکھی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی عورتیں اب لڑاکا جنگی جہاز اڑانے کے قابل ہو گئی ہیں کہ وہ مردوں کے ساتھ ساتھ حالت جنگ میں ایسے طیارے اڑاسکیں گی۔یعنی یہ ایک ایسا پیشہ تھا جس میں صرف مردوں کی اجارہ داری تھی۔ ویسے تو ڈاکٹر، انجینئر، استاد، بینکوں میں افسر، سرکاری محکموں میں اعلیٰ افسر، اور اب تو ماشا اللہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں بھی ایک خاتون کو جج بننے کا اعزاز مل چکا ہے۔چند عورتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کوئی بھی کام کر سکتی ہیں جو عموماً مرد کرتے آئے ہیں۔یہ تو پاکستان کی بات ہے۔ ورنہ سویٹ یونین میں عورتیں بسیں اور ٹرک بھی چلاتی تھیں، فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھیں، سائینٹسٹ، انجینئرز، ماہرین اقتصادیات، معمار سب کچھ تھیں اور آج بھی یہ سب کرتی ہیں۔ ان لوگوں نے یورپ کی طرح کبھی عورتوں کو کسی بھی پیشے میں داخل ہونے سے نہیں روکا۔ یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک میں زیادہ ہے جہاں عورتوںسے بھیڑ بکریوں کی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس میں ذہنی پسماندہ علاقے ، جہاں تعلیم کی کمی ہے اور لڑکیاں تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں، مثلاً افغانستان، پاکستان، نیپال، اور افریقہ کے کچھ ممالک شامل ہیں۔
پاکستان میں نہ صرف معاشرہ مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہے بلکہ اس سے زیادہ خالص جاگیر دارانہ اور زمیندارانہ مزاج کا بھی۔ اس روش میں بلوچستان سب سے آ گے ہے ۔وہاں قبائلی رسم و رواج نے لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھا۔ اس کے بعد سندھ، خیبر پختون خواہ ہیں۔ پنجاب میں جنوبی پنجاب کا بھی یہی حال ہے۔
ہمارے مذہبی رہنما چونکہ جاگیر داروں اور زمین داروں اور سرداروں کا دیا کھاتے ہیں اور انہی کی مرضی چلاتے ہیں، وہ اسلام کے احکامات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں جو مردوں اور عورتوں کی تعلیم کے بارے میں ہیں۔عوام جو زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ ہیں، وہ ان مذہبی رہنمائوں کی تعلیمات پر عمل کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں، ان کو یہ سوچنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی ان کی قابلیت ایسی ہے کہ وہ اصل حقیقت جان سکیں اور یہ کہ ان ملائوں کی ہر بات قابل پیروی نہیں ہوتی۔ہمارے مذہبی رہنما اپنی سیاست کے مردہ تن میں جان ڈالنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیںکہ ہر ممکن مذہبی تنازعہ پر عوام کو بھڑکائیں اور ہزاروں کا مجمع اکھٹا کر کے وہیں عدالت ، وہیں فیصلہ اور وہیں سزا دلوا دیں۔
جہاں تک پردے کا تعلق ہے وہ مردوں اور عورتوں کے لیے برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور عورتوں کو اپنے بنائو سنگھار چھپانے کا۔مردوں اور عوتوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے سامنے نگاہیں جھکا کر رکھیں۔مرد عورتوں کو مت گھوریں۔ لیکن کیا کبھی ہمارے مذہبی قائدین نے مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے پر بھی اتنی تنبیہ کی ہے جتنی کہ عورتوں کو حجاب پر کی جاتی ہے؟ ہمارے مرد عورتوں کو ایسے گھورتے ہیں کہ کچا ہی چبا جائیں گے۔اسی لیے بہت سی عورتیں مکمل حجاب کو ترجیح دیتی ہیں۔
مولانا قادری، وزیر مذہبی امور نے ایک بات ٹھیک کی ہے کہ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے مارچ میں اپنے حقیقی مسائل پر توجہ مزکور کریں۔یہ بہت ضروری ہے۔ جب چند خواتین حد سے بڑھ جاتی ہیں اور مغربی اقدار کو اپنے پر لاگو کر کے ایسے سلوگن لے آتی ہیں جو اسلامی معاشرے سے لگا نہیں کھاتے، تو وہ اپنے اصلی مسائل پر سے بھی توجہ ہٹھا دیتی ہیں۔اور عورتوں کے حقوق کی بات کرنے کا ایک قیمتی موقع ضائع ہو جاتا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا میں بیٹھے کچھ صحافی عورتوں کے مطالبات کو حقیر بنانے اور تمسخر اڑانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، اور اس تمسخر کی فضا میں ضروری اور اہم معاملات بھی بہتے پانی میںخس و خاشاک کی طرح بے وقعت اوربے معنی بن کے دریا بردہو جاتے ہیں۔خواتین کو اب تک یہ سمجھ جانا چاہیے کہ ان کے مسائل بہت سنجیدہ اور توجہ طلب ہیں اور ایسے پوسٹر اور کتبے نہیں بنانے چاہئیں جو باعث تمسخر بنیں۔ورنہ ہر سال کی طرح ایڈوکیسی کا یہ موقع پھر ضائع ہو سکتا ہے۔
اب ذرا عورتوں کے اصل مسائل پر کچھ بات ہو جائے۔ سب سے اول، پاکستان میں، لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے، جس کی بڑی وجہ سکولوں کا نہ ہونا یا آبادی سے دور ہونا ہے، اور اس کے بعد کچھ والدین میں لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھنا۔ اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان میں (2017-2018) میں صرف 48 فیصد لڑکیاں خواندہ تھیں جب کے اسی عمر کے لڑکے اسی فیصد خواندہ تھے۔یہ تناسب پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے بچوں کا ہے۔ اسی چارٹ کے مطابق کے پی، سندھ اور پنجاب میں خواندہ لڑکیوں کی شرح بالترتیب 75 ,60,53 فیصدتھی۔ اگر زیادہ تفصیلات چاہیئں تو حکومت پاکستان کی شائع کردہ رپورٹ برائے( 2017-2018) جو جنوری 2021 میں طبع ہوئی، سے رجوع کریں۔اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سکول جانے کی عمر کے کل کتنے بچے سکول میں نہیں ہیں۔
تعلیم کے بعد خواتین کی صحت کے مسائل ہیں۔ مجھے اعدادو شمار بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب ہیں، خاص طور پر بچوں کی پیدائش سے متعلق۔ ہر سال ہزاروں مائیں بچے کی ولادت سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔زیادہ تر اس لیے کہ ان کی زچگی میں ان کی دیکھ بھال نہیں ہوتی اور بچے کی پیدائش گھر پر ہوتی ہے۔
کتنی عورتیں مناسب ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے دھویں میں کھانا پکاتی ہیں اور آنکھیں خراب کر لیتی ہیں۔کتنی جگہ پینے کا پانی پائپ سے نہیں ملتا، اور دور سے لانا پڑتا ہے جو عورتیں ہی لاتی ہیں۔
ابھی تک کئی دیہاتی علاقوں میں محفوظ رفع حاجت کا انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے خصوصاً عورتوں اور بچیوں کو تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔
یو این وومن، جو کہ یو این کا عورتوں سے متعلق ادارہ ہے (پہلے UNIFEM کہلاتا تھا ) اس کے اعدادو شمار کے مطابق، اوسطاً تقریباً ایک چوتھائی عورتوں کو زندگی میں انکے ا پنے مجازی خدا نے جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ صرف گذشتہ ۱۲ ماہ میں 14.5% عورتیں اپنے شوہر کے ظلم و ستم کا نشانہ بنیں۔ اور ابھی تک بچیوں کی شادی کا رواج زندہ ہے ۔ اکیس فیصد بچیوں کی شادی کی گئی۔
پاکستان جنسی مساوات کے زمرے میں دنیا میں کہیں پیچھے ہے۔ یعنی ایسی قوموں کی فہرست میں جن کو جنسی امتیاز کے پیمانے پر پرکھا گیا ، پاکستان کا نمبر 143 بتایا گیا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میںاس سلوک کی ہولناک مثالیں ملک میں دیکھنے کو ملیں اور ہر دوسرے تیسرے دن ملتی رہتی ہیں۔ الجزیرہ کی نامہ نگار خاتون ندا کرمانی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی، پاکستان میں لوگوں نے کتبے اٹھا کر ایک سابق سفارتکار کی ۲۷ سالہ بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل اور عورتوںپر وحشیانہ تشدد کے خلاف سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ نور مقدم کو، ملک کے دارلحکومت میں، نہایت اذیت ناک تشدد کر کے اس کا سر تن سے جدا کر کے مارا گیا تھا۔ پاکستان کے یوم آزادی پر عائشہ اکرم کو جو صرف ٹک ٹاک کے لیے ویڈو بنانا چاہتی تھی اسے لاہور کے مینار پاکستان کے زیر سایہ چار سو کے مجمع نے نوچا ، گھسیٹا، اور ہراساں کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کے خلاف تشد د انتہا پر پہنچ چکا ہے۔کچھ لوگ تو اسے انتہا سے بڑھے ہوئے تشدد کے ماحول کو ’’عورت کشی ‘‘کا نام دیتے ہیں ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ (2017-2018) کے پاکستان عمرانی اور صحت کے قومی جائزہ کی رپورٹ کے مطابق 15-49 سالہ عورتوں سے جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ 28 فیصد نے کہا کہ انکے شوہر نے کبھی نہ کبھی ان کو زد و کوب کیا تھا۔ البتہ جب یہی سوال پانچ سال پہلے اسی قسم کے جائزے میں کیا گیا تھا تو ایسی عورتوں کی شرح قدرے زیادہ تھی یعنی 32 فیصد۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ معاشرے میں اس قابل شرم حرکت کو چھپایا جاتا ہے اس لیے یہ دونوں اعداد و شمار پوری تصویر نہیں دکھاتے۔چونکہ شہری علاقوں کی مقیم پڑھی لکھی خواتین جب اس قسم کے واقعات سے دو چار ہوتی ہیں تو وہ بول پڑتی ہیں۔جیسے 1999 کا واقعہ ہے کہ سائمہ سرور نامی خاتون اپنے ظالم شوہر سے چھٹکارا چاہتی تھی تو گھر والوں نے اے اپنی عزت کا مسئلہ بنا کر اس کو اس کو وکیل کے دفتر میں قتل کروا دیا تھا۔ان کے علاوہ مختاراں مائی کا اجتماعی زنا اور قندیل بلوچ کے قتل تو مشتے از خروارے ہیں۔
عورتوں کے مسائل اکثر سوشل میڈیا پر بر سر عام آتے ہیں، جو بات سرکاری سطح پر پسند نہیں کی جاتی۔یوم خواتین کے موقع پر جو مارچ کیے جاتے ہیں ان میں بہت سے مسائل پر توجہ دلائی جاتی ہے جیسے کہ عورتوں کے معاوضے میں تفاوت، عورتوں کو صحت کی سہولیات کی کمی اور گھریلوں تشد د وغیرہ۔ان مارچز سے کچھ نہ کچھ آ گہی پھیل رہی ہے۔کچھ قوانین بھی بن رہے ہیں اگرچہ ان پر عمل درآمد ایک اور مسئلہ ہے!!!!