تحریک عدم اعتماد کی نمبر گیم — نقصان صرف پاکستان اور پاکستانی عوام کا ہو گا

179

حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ کے بعد پاکستانی عوام کو عمران خان کی صورت میں پہلی بار ایک ایسا ایماندار – دبنگ – جرأت مند – عوام کا درد رکھنے والا اور پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا حکمران نصیب ہوا ہے جو نہ تو خود کرپٹ اور بے ایمان ہے اور نہ کسی کو پاکستان لوٹ کر کرپشن اور بے ایمانی کرنے کی اجازت دیتا ہے – یہ عمران خان ہی تو ہے جس نے پاکستان کی عزت اور وقار کو دْنیا بھر میں پھر سے چوٹی پر پہنچا دیا ہے اور ہم جیسے سمندر پار رہنے والے پردیسی بھی اب سینہ ٹھوک کر کہتے ہیں کہ ہم ایک خودمختار آذاد مملکت پاکستان کے شہری ہیں دیار غیر میں ہمیں عزت اور وقار کا یہ تحفہ عمران خان ہی نے ہی تو دیا ہے لیکن پاکستان کو چالیس سالوں سے لوٹنے والے بدکردار – بے ایمان اور کرپٹ سیاسی جماعتوں اور اْن کی تنخواہوں پر پلنے والے صحافیوں کی لوٹ مار بند ہوئی ہوئی ہے اس لئیے وہ بھی دن رات عمران خان کی حکومت کے بارے میں جھوٹے تبصرے کرتے رہتے ہیں – دْنیا کے تمام لیڈر عمران خان کی سادگی – ایمانداری اور بے باکی کی وجہ سے عزت کرتے ہیں – امریکہ البتہ عمران خان کی جرأت مندی کی سزا دینے پر آخری حدوں تک جانے کے لئیے تیار ہو چکا ہے لہٰذا امریکی سفیر اور امریکی قونصل جنرل اپوزیشن کے لیڈران سے ملاقاتیں کر کے عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو لانے اور کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اس سے پہلے امریکی سفیر نے میڈیا کے ایک سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی وہیں سے یہ سارا منصوبہ شروع ہوا تھا اس کے بعد اس میڈیا والے نے زرداری – شہباز شریف – مولانا فضلو سمیت اہم سیاستدانوں سے ملاقاتیں کر کے اْنہیں تحریک عدم اعتماد لانے پر راضی کیا تھا یہی وجہ ہے کہ پْتری بلاولی کا بھی لانگ مارچ جاری ہیں اور ڈیزل بھی آنکھیں دکھا رہا ہے اور بھگوڑا مجرم نواز شریف بھی خزانے کے منہ کھول کر تال بجارہا ہے
پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا شور مچا ہوا ہے۔ دونوں طرف سے دعوے ہورہے ہیں کہ ہمارا نمبر گیم پورا ہے۔ پی ٹی آئی سربراہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہوم ورک مکمل ہے اپوزیشن شوق پورا کرلے اندازہ ہوجائے گا۔ تمام اتحادی ساتھ ہیں، پی ٹی آئی کے سربراہ کو ان کے اتحادی اور پارٹی ارکان نے یقین دلایا ہے کہ ہم کہیں نہیں جارہےآپ مطمئن رہیں۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف اورآصف زرداری سے رابطہ کیا ہے اور اظہار اطمینان کیا ہے۔ اگلا مرحلہ تحریک عدم اعتماد کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلانا ہے جس کے لیے اپوزیشن نے تیاری کرلی ہے۔ آج کل میں اس کی درخواست دے دی جائے گی۔ اور اس کے بعد نمبر گیم کا امتحان ہوگا۔ دونوں طرف کے اطمینان کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کوئی قوت حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یقین دلا رہی ہے کہ گھبرانا نہیں تم ہی کامیاب ہو گے۔ چنانچہ دونوں مطمئن ہیں۔ یہ پارٹیاں اور یہ ارکان پارلیمنٹ بہت سے ایسے مواقع سے گزر چکے ہیں جب ان کی پارٹی کے ساتھ دھوکا ہوجاتا ہے۔ کبھی 9 ارکان اجلاس سے غائب ہوجاتے ہیں اور کبھی نہایت سینئر ارکان بیلٹ پر غلط نشان لگادیتے ہیں۔ یہ لوگ کس کے کہنے پر ایسا کرتے ہیں۔ اسی قوت کے اشارے اور حکم پر یہ کرتے ہیں اور نمبر گیم خراب ہوجاتا ہے نمبر گیم کا دعویٰ کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ نمبر گیم وہ نہیں کھیل رہے یہ نمبر کوئی اور کھیل رہا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے اور جو ہار جاتا ہے وہ کبھی خلائی مخلوق پر الزام لگاتا ہے اور کبھی اپنے اتحادیوں کے دھوکے کا رونا روتا ہے لیکن یہ سب مل کر نمبر گیم کھیلنے والی طاقت کے ہاتھ نہیں روکتے کیوں کہ ایک گروہ عارضی طور پر یا فی الوقت کامیاب قرار پاتا ے اور جب اس کے ساتھ نمبر گیم ہوجائے تو وہ الزامات لگانے لگتا ہے۔ لہٰذا نمبر گیم کے دعوے موجود، اجلاس سر پرہے بلاول کا جلوس اسلام آباد کی طرف رواں دواں اورآصف زرداری مسلم لیگ (ن) کے رابطے مضبوط ہیں لیکن اگر پھر بھی اپوزیشن کو شکست ہوگئی تو کیا ہوگا۔ اس تحریک عدم اعتماد کے دو ہی نتائج ہونے ہیں ایک گروہ کامیاب اور دوسرا ناکام ہوتا ہے۔ لیکن اس سارے گیم کا سب سے بڑا نقصان صرف عوام کو ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام نے 2018ء میں جو ووٹ دیے تھے وہ نمبر گیم کے لیے نہیں دیے تھے۔ دراصل اس وقت بھی عوام کا نمبر گیم خراب تھا۔ عام متوسط گھرانے کا (جواب مفقود ہوتا جارہا ہے ) بجٹ مہینے کی 22 تاریخ تک ختم ہوجاتا تھا اسےآخری ہفتہ ادھار مانگ کر یا کوئی دوسرا کام کرکے گزاراکرنا ہوتا تھا لیکن پی ٹی آئی حکومت کے دور میں عوام کا نمبر گیم بری طرح خراب ہوگیا ہے۔ ایک طرف تو متوسط طبقہ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک امیر طبقہ رہ گیا ایک غریب ہے۔ غریب طبقے میں وہ متوسط طبقہ بھی شامل ہے جس کا بجٹ 22تاریخ کو ختم ہوجاتا تھا۔ اب یہ طبقہ غریب ہوگیا ہے کیوں کہ اسے دوسرا کام تو کجا اپنا کام بھی نہیں مل رہا۔ لہٰذا بہت سوں کا بجٹ کو لیپس (تباہ) ہوگیا اب وہ مہینے بھر میں جو کچھ کماتے ہیں ادھار وغیرہ چکا کر دس تاریخ تک خالی ہاتھ بیٹھے ہوتے ہیں جو مناسب کمالیا کرتے تھے ان کی نوکری ختم ہوگئی وہ ڈیلیوری بوائے بن گئے ہیں یا دکان پر سیلز مین۔ عوام کا نمبر گیم تو ہرآنے والے بجٹ میں بگڑتاہے۔ سال بھر بار بار بگاڑا جاتا ہے ، پٹرول، بجلی، گیس، مہنگائی یہ سب عام آدمی ہی کو مارتے ہیں۔ اس کا نمبر گیم تباہ ہوجاتا ہے۔ اسمبلی میں اگر اپوزیشن کا نمبر گیم پورا ہوگیا حکومت چلی گئی تو کیا ہوگا۔ جن کی وجہ سے خرابیاں پیدا ہوئیں وہی آجائیں گے۔ اس حکومت سے کچھ لوگ ٹوٹیں گے اور وہاں چلے جائیں گے۔ اس کا الٹ بھی ہوسکتا ہے یہ تماشا تو برسوں سے چل رہا ہے۔ جن لوگوں کو عوام کا نمبر گیم بہتر بنانا تھا عوام کو مطمئن کرنا تھا وہ عوام کا بیڑا غرق کرکے عوام کی فلاح کے لیے جلوس نکال رہے ہیں، مارچ کررہے ہیں، کسی کا بھی نمبر گیم کامیاب ہوجائے ہاریں گے تو عوام ہی۔ مسئلہ صرف تحریک عدم اعتماد نہیں ہے بلکہ نمبر گیم اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں پہلے ہی سے جاری ہیں۔ صرف اس تجزیاتی رپورٹ سے اندازہ لگالیں کہ لوگوں کی مایوسی کا نمبر بھی بڑھتا جارہا ہے۔ مارچ 2021 میں 33 فیصد لوگ مہنگائی کو اہم مسئلہ سمجھتے تھے لیکن مارچ 2022میں یہ تعداد 44فیصد ہوگئی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ عوام میں مایوسی اور خدشات بڑھ رہے ہیں سروے کے مطابق 86فیصد پاکستانی ملازمت پیشہ لوگوں کو اس سال اپنی ملازمت چھن جانے کا خدشہ ہے ، گویا مایوسی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ حکومت پر مطمئن ہے بین الاقوامی تعلقات پر مطمئن ہے اور نمبر گیم پر بھی مطمئن ہے لیکن کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ لوگوں کی مایوسی اور پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔