وومن مارچ والی مخلوق!

109

شوہر میں اگر رب جیسی صفات موجود ہوں تو بیوی کا دل سجدہ ریز رہتا ہے۔ شوہر ظالم یاہر جائی ہو تو بیوی نفرت کرنے لگتی ہے۔ یہی معاملہ مرد کے ساتھ بھی ہے۔ بیوی اسے وفا حیا اور محبت دیتی ہے اور شوہر اس پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتا ہے۔ اور یہ سب طور طریقے اللہ اپنی الہامی کتابوں میں بتا چکا ہے۔ یہ عورت اور مرد کی جہالت ہے کہ وہ اپنی مذہبی کتابوں کو پس پشت ڈال کر انسانوں کی من گھڑت ترکیبیں اور ٹوٹکے آزمانے سڑکوں پر خوار ہوتے پھر یں۔اور آج نوبت سڑکوں پر مقابلہ بازی تک پہنچ گئی ہے۔ عورت مارچ والیاں امریکہ کی جیل سے عافیہ صدیقی کو رہائی دلائیں گی؟سانحہ ماڈل‘ ٹائون سانحہ ساہیوال کی عورتوں کا خون بہا دلائیں گی؟قیام پاکستان سے پہلے روشن خیال طبقہ بھی عورتوں کو تعلیم دلانے کے حق میں نہیں تھا جب کسی نے ان سے ان کی مخالفت کی وجہ دریافت کی تو سر سیداحمدخان نے کہا میاں سلطنت تو ہاتھ سے نکل گئی کیا چاہتے ہو کہ عورتیں بھی ہاتھوں سے نکل جائیں۔ سرسید واقعی دور اندیش تھے۔ اب جو مردوں کو شکایت ہے کہ عورتیں خود سر ہو گئی ہیں، پلٹ کر جواب دیتی ہیں، مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہیں تو اب یہ سب باتیں اچھی ہوں یا بری لیکن اس کی ذمہ داری تعلیم ہی کے سر جاتی ہے۔ تعلیم کو اسلامی و اخلاقی اقدار سے الگ کر دیا جائے تو پھر اسی قسم کی عورتیں نمودار ہوتی ہیں جو سڑکوں پر برہنہ بینرز اٹھائے گھوم رہی ہیں۔ہندوستان میں شیخ عبداللہ نے جب لڑکیوں کا کالج قائم کیا تو کوئی بھی ’’غیرت مند‘‘ مرد اپنی بچیوں کو اس میں داخل کرانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ شیخ عبداللہ بھی اپنے ہٹ کے پکے تھے انہوں نے اپنی تین بچیوں کو کالج میں داخل کرا دیا۔ جس میں سے ایک بچی نے تعلیم سے فارغ ہو کر آزاد خیالی کا وہ چراغ جلایا جس کے بطن سے ترقی پسند تحریک نے اردو ادب میں جنم لیا۔عورتوں میں تعلیم، تہذیب اور شعور کو پروان چڑھانے میں دو نام مولوی ممتاز علی اور محمدی بیگم کے آتے ہیں۔ ’’انارکلی‘‘ ڈرامہ والے امتیاز علی تاج کے والدین، مولوی ممتاز علی بھی سرسید کے اسیر تھے اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم وہ بہادر خاتون تھیں جنہوں نے عورتوں کے لیے ایک شاندار رسالہ ’’تہذیب ِنسواں‘‘ نکالا تھا جس میں اس زمانے کی پڑھی لکھی خواتین افسانے اور مضامین لکھا کرتی تھیں۔ عورت اور مرد کے تعلقات دو گونہ اصول پر قائم ہو جائیں تو زندگی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ مرد عورت سے محبت کرے اور عورت مرد کی اطاعت۔ سارا جھگڑا یہی ہے کہ عورت مرد کی اطاعت سے نکلنا چاہتی ہے اور مرد عورت پر حکومت کا خواہاں رہتا ہے۔ اسی تعلق کو ازسرنو استوار کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے فقط ایک دن عورتوں کے لیے مخصوص کیا ہے۔ پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضح مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی دو بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں۔ ایک عام گھریلوخاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’
اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں‘‘۔میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا’’تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے۔ مسند احمد۔اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مزید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے۔ جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا۔ ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا۔ عورتوں کا عالمی دن 1909 سے منایا جارہا ہے لیکن یہ عالمی دن دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو منانے کا فیصلہ 1913ء میں کیا گیا۔ 1908ء میں پندرہ سو عورتیں مختصر اوقاتِ کار، بہتر اجرت اور ووٹنگ کے حق کے مطالبات منوانے کے لیے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کرنے نکلیں۔ان پر بیدبرسائے گئے اور ان میں سے بہت سی عورتوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ 1909ء میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظور کی اور پہلی بار اسی سال اٹھائیس فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا۔ اسی سال اس دن کے لیے 8مارچ کی تاریخ مخصوص کر دی گئی اور تب ہی سے دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں عورت مارچ یا وومن ڈے وہ عورت منا رہی ہے جو اصل عورت ہی نہیں بلکہ گوروں کے فنڈز پر چند کرائے کی عورتیں فرنگیوںکی مزدوری پر فائز کر دی گئی ہیں۔