چاند پر شیشے کی پراسرار گولیاں دریافت

564

بیجنگ: چاند کے زمین مخالف حصے پر بھیجی گئی خودکار گاڑی ’’یُوٹُو 2‘‘ نے چاند کی مٹی میں شیشے کی نیم شفاف گولیاں دریافت کی ہیں جو زمین پر پائی جانے والی کوارٹز قلموں سے مماثلت رکھتی ہیں۔بتاتے چلیں کہ غیر معمولی حالات کے تحت عام ریت، کچھ اور معدنیات کے ساتھ مل کر شیشے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ماضی کی خلائی مہمات میں چاند پر شیشہ دریافت ہوچکا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ نیم شفاف گولیوں (کنچوں) جیسے شیشے کے ٹکڑے وہاں سے ملے ہیں۔زمین کے گرد چاند کچھ اس انداز سے گردش کرتا ہے کہ اس کا ایک رُخ ہمیشہ زمین کی طرف اور دوسرا زمین سے مخالف سمت رہتا ہے جسے ہم زمین سے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ کیفیت ’’ٹائیڈل لاک‘‘ کہلاتی ہے۔چاند کے زمین مخالف رُخ پر شیشے کی نیم شفاف گولیاں کس طرح بنی ہوں گی؟ اس سوال کا جواب فی الحال ماہرین کے پاس بھی نہیں۔البتہ، اس بارے میں چینی ماہرین کا مفروضہ ہے کہ شاید آج سے تقریباً چار ارب سال پہلے، جب چاند ’’نوجوان‘‘ تھا تو یہاں مسلسل آتش فشاں بھی لاوا اگل رہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں شہابِ ثاقب بھی چاند پر برس رہے تھے۔