قانون سازی!!

198

سیاسی تنقید اور ادبی تنقید میں فرق ہوتا ہے شاعر اور ادیب کی اپنی دنیا ہوتی ہے وہ سچائی، امن، محبت اور انسانیت کا داعی ہوتا ہے ایک حسین دنیا تراشتا ہے جو اس دنیا سے مختلف ہوتی ہے جس میں ہم رہتے ہیں، یہ خیالی دنیا نہیں ہوتی بلکہ موجودہ دنیا کو سنوارنے اور بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے اگر غور کریں تو جو محبت، امن، سچائی اور انسانیت کتابوں میں ہوتی ہے وہ آئیڈیل ہوتی ہے ویسی دنیا کسی ملک میں مشکل تو نہیں ہوتی مگر اتنا ضرور ہے کہ کتابوں میں جو لکھا گیا ہے وہ جب بھی زندگی میں نافذ ہوا تو بہتری ضرور آئی، سولہویں اور سترویں صدی کو نظریات کی صدی کہا جاتا ہے ان دو صدیوں میں ادیبوں اور شاعروں نے دنیا بدل دی، پورا سیاسی منظر نامہ بدل گیا، سیاست دانوں نے شیکسپیئر سے بہت کچھ سیکھا ان کی سوچ بدل گئی، آسکر وائلڈ کی تحریروں نے یورپ کا نظام بدل کر رکھ دیا، آج کہا جاتا ہے کہ دنیا کارل مارکس، ڈارون، ہیگل، فرائیڈ کے بغیر نہیں چل سکتی، سارتر اور رسل کو کیسے نظر انداز کر دیا جائے، الجزئیر کے معاملے پر جب سارتر کا حکومت سے اختلاف ہوا تو اخبارات نے سارتر کو غدار تک کہہ دیا مگر ڈیگال کو سارتر کی اہمیت اور اس کے وژن سے اتفاق تھا اس نے سارتر سے اتفاق کیا اور کہا کہ سارتر فرانس ہے۔ برنارڈ شا نے ایک جہاں کو متا ثر کیا قصہ مختصر کتاب کی اپنی دنیا ہوتی ہے اور جب کتاب کا کچھ حصہ زندگی پر نافذ ہو جاتا ہے تو زندگی خوبصورت ہو جاتی ہے، یہ سچ ہے کہ نوآبادیاتی نظام نے اپنے مفادات کی خاطر میکاولی کے نظریات کو اپنایا اس سے قبل ان خلدون کے نظریات سے بھی استفادہ کیا گیا جن میں رموز حکومت، حصولِ اقتدار ،استحکام، اقتدار اور دوام اقتدار کے گر سکھائے گئے تھے مگر اچھی کتابوں، شاعروں اور ادیبوں کے خوابوں کی جنگ الگ ہی ہے جہاں محبت، امن، انصاف، سچائی اور انسانیت ہے ان کتابوں میں باوقار مکالمہ بھی ہے اور مباحثہ بھی اگر کہیں تلخی ہے تو اس کا تریاق بھی ہے مجھے معلوم ہے کہ تخلیق کار کی دنیا تو کبھی زندگی میں اس طرح نافذ ہو گی جیسا تخلیق کار چاہتا ہے مگر شاعروں اور ادیبوں کے خوابوں کو جب بھی متشکل کیا جائے گادنیا خوب صورت ہو جائے گی۔
اب آئیے سیاسی تنقید کی جانب، سیاست کی سادہ سی تعریف یہی ہو سکتی ہے کہ سیاست کسی ملک کے شہری کی مادی زندگی کو بہتر بناتی ہے ریاستیں ملک کے وسائل پر قابض ہوتی ہیں ان وسائل کا کچھ حصہ جب شہری کے تصرف میں آجاتا ہے تو اس کی مادی زندگی میں خوشحالی آجاتی ہے اور اس کے مادی مسائل کم ہو جاتے ہیں ریاستیں یا حکومتیں شہریوں کے مسائل کم کرنے کے لئے تعلیم، صحت، امن و امان پر INVESTکرتی ہیں ترقیاتی منصوبہ سازی ہوتی ہے اور انڈسٹری کو فروغ دیا جاتا ہے اور شہریوں کو روزگار میسر آتا ہے، اس پورے PROCESSسے معاشرے میں ذہنی تبدیلی آتی ہے جس کو ہم سیاسی شعور بھی کہتے ہیں بدقسمتی سے ہندوستان کو نیا سیاسی نظام جس کو ہم جمہوریت کہتے ہیں دینے میں بہت عجلت ہوئی جس کے لئے ہندوستان کا سماج تیار نہ تھا مگر پھر بھی معاشرے میں برداشت تھی ہم کہتے ہیں کہ مغرب نے ہمارے سیاست دان کو کرپٹ کیا مگر سچ یہ ہے کہ سماج مذہب کے ہاتھوں میں یرغمال بناہوا تھا اور یہ اب بھی مذہب کے ہاتھوں میں یرغمال ہے اور اس کا سب سے بڑا اتحادی فیوڈل لارڈ ہے پاکستان میں اس اتحاد کو فوج کی سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان کے معتبر اہل قلم نے ہمیشہ اسی ٹرائیکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو ریاست اور حکومت کے لئے تکلیف کا باعث ہے قرارداد مقاصد اسی لئے لائی گئی تھی کہ ملک پر استعماری قوتیں حاوی رہیں اور مذہب کی گرفت باقی رہے۔ ایک تسلسل ہے جو باقی ہے ۱۹۵۶ کے آئین میں دینی حلقوں کا بڑا CONTRIBUTIONتھا ایوب خان بھی مذہب کی طرف مائل تھے بھٹو نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا کر آئین میں یہ شق شامل کر کے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا اور احمدی مسلمان نہیں ہیں رہی سہی کسر پوری کر دی، اس کے بعد مذہبی انتہا پسندی کی پیش قدمی جاری ہے جو عمران دور میں اپنے عروج پر ہے پہلے طریقہ یہ تھا کہ قوانین CAUSE AND EFFECTکی بنیاد پر بنائے جاتے تھے جب ملک میں کوئی سماجی برائی سر اٹھاتی تو اس کے سدباب کے لئے قوانین بنائے جاتے تھے اب حکومتوں نے پہلے ہی سوچ لیا ہوتا ہے کہ انہوںنے عوام کو کس شکنجمے میںجکڑنا ہے اس کے لئے حالات پیدا کئے جاتے ہیں پھر اپنی من پسند قانون سازی کی جاتی ہے ایوب خان سے لے کر عمران تک ساری کی ساری قانون سازی حکومتوں کے استحکام اور دوام کے گرد گھومتی ہے۔ عمران اخلاقی گراوٹ کا شکار رہے ہیں اور اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے فرمودات پر غور نہ کیا جائے ان کی زندگی میں وقار اور شائستگی کا دخل کم رہا ہے اب پیکا قوانین جو آرڈیننس کی صورت میں آئے ہیں وہ خود ان کی اہلیہ اور ان کے وزراء کی حفاظت کے لئے ہے عوام کی بہتری کے لئے پاکستان میں قانون سازی کبھی ہوئی ہی نہیں آئین میں لاکھ شہریوں کے انسانی حقوق کی بات لکھ دی جائے جب تک شہری کو وہ حقوق نہیں ملتے آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی ہے قرآن کا ترجمہ پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی، طلباء کو ناظرہ پڑھنا ہو گا، ٹوپی لگائی جائے، معیشت انڈے مرغی کٹے پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کے گرد گھومے گی، چلیں سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی کو مان لیتے ہیں مگر ریحام کی کتاب پر پابندی سمجھ نہیں آتی آخر فوج کے اشارے پر وہ کتاب بھی تو آئی تھی جس کا نام تھا پارلیمنٹ سے بازار حسن تک مگر پابندی لگی تو سبط حسن، عباس جلالپوری، ڈاکٹر مبارک علی اور ڈاکٹر منظور علی کی کتابوں پر ،شریعتی کی کتاب پڑھنا بھی مستحب نہیں، منٹو تو مرتد ہوا، فیض، جوش اور فراز بھی مردود ٹھہرے، مصطفی زیدی بھی اب ایسے میں LESLIE HAZLETONاور نوح ہراری کو کون پڑھے بات یہی کہ ملک کی اشرافیہ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ عوام کے گلے میں مذہب کا پٹہ رہے گا اور حکومت کچھ بھی کرے کسی کو تنقید کی اجازت نہیں ہو گی، ساری طاقت فوج کے پاس ہے اور اس کو معلوم ہے کہ ملک میں صوبائیت،لسانیت اور علاقائیت کو فروغ دے کر اس نے پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور یہ چار حصے کبھی متحد نہیں ہو سکتے اور پاکستان میں انقلاب کبھی نہیں آئیگا لہٰذا راوی نے چین ہی چین لکھا ہے ہم پھر یہ بات دہرارہے ہیں کہ اس ملک میں فوج کو تین وقت کی روٹی میسر ہے اور حکمرانی بھی، صورت حال بدلے گی نہیں، عمران اگر چلے گئے تو فوج کوئی اور لے آئے گی ایک حکمران لیہ یا چیچوں کی ملیاں سے اور قوم کو بتایا جائے گا کہ یہ اللہ رکھا ہے اور یہ تمہار مسیحا ہے۔