عمران خان کا دورہ روس، اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے، پیوٹن کی تقریر نے تہلکہ مچا دیا

242

دنیا اس وقت عالمی جنگ کے بہت قریب ہے۔ روس اور یوکرائن کے حالات نے پوری دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ روسی صدر نے بہت ہی تند و تیز اور جارحانہ تقریر کر دی ہے۔ روس نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ یہ علاقے ڈومیسٹک اور لوہاسنک ہیں۔ روسی پارلیمنٹ نے صدر پیوٹن کے اقدام کی تائید کرتے ہوئے ان دو علاقوں میں فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ۔ روسی فوجیں بہت تیزی سے ان علاقوں میں پہنچ گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ پہلے سے اس کے لئے تیار تھیں۔ سب سے اہم بات شام ان دو ریاستوں کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ نے سخت ردعمل کا اعلان کیا۔ برطانیہ نے روس کے پانچ بینکوں پر پابندی لگا دی اور ان کے اثاثے منجمد کر دئیے۔ ساتھ ساتھ یوکرائن کی عملی مدد کرنے کااعلان کر دیا۔ جرمنی نے روس کے ساتھ اپنا گیس کا معاہدہ روک دیا ہے۔ یورپی یونین کے سیکرٹری جنرل نے سخت الفاظ میں دھمکی دے ڈالی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس قبضہ کو مسترد کردیا اور یوکرائن کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔ امریکہ ابھی تک حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی بڑے اقدام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ہر طرف کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ مستقبل کی صف بندی ہورہی ہے کہ روس کا کیا کیا جائے،اس وقت روس کے اردگرد کے ملکوں کا کردار بہت اہم ہو گیا ہے۔ امریکہ روس سے ہزاروں میل بہت دور بیٹھا ہوا ہے۔ یورپ روس سے گیس ضرور لیتا ہے لیکن ان پر روس کا دبائو کوئی نہیں ہے امریکہ اور یورپی یونین یوکرین کی سرزمین پر جنگ لڑنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ان کا کوئی فوجی نہ مرے اگر مرے تو روسی ہی دونوں طرف سے مریں۔ وہ افغانستان کی طرح اپنی فوجیں بھیج کر اپنے لوگوں اور فوجیوں کو نہیں مروانا چاہتے۔ بیس سال سے زیادہ افغانستان میں رہ کر اور ہزاروں فوجیوں کو مروا کر یورپ اور امریکہ کو کچھ نہیں ملا۔ ناکام ہو کر طالبان کو حکومت دے کر ہی وہ واپس گئے۔ اربوں ڈالر خرچ ہوئے 40ملکوں کی فوج کو بش لایا لیکن ٹرمپ اور جوبائیڈن دونوں نے واپس جانے کو ہی غنیمنت جانا۔ چاہے ان پر جتنی تنقید کی جائے وقت ثابت کرے گا انہوں نے اپنے ملک کے مفاد میں بہترین فیصلہ کیا۔ پیوٹن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے یوکرائن کے صدر نے بھی اپنے عوام سے خطاب کیا اور دنیا کو روس کو کہا کہ ہمارے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ہم اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔ ہر حال میں اس قبضہ کو مسترد کرتے ہیں۔ دنیا اچانک پیوٹن کی تقریر سے اور دو علاقوں کو الگ الگ ملک تسلیم کرنے اور فوج بھیجنے سے بہت زیادہ دبائو میں آگئی ہے۔ آنے والے دن دنیا کے امن اور سکون کا فیصلہ کریں گے۔ دنیا کے حالات آئندہ کیا رخ اختیار کریں گے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کیا یورپی یونین اور امریکہ صرف زبانی جمع خرچ کر کے رک جائیں گے یا یوکرائن کی فوج کو اسلحہ سپلائی کر کے روس سے لڑوا کر تباہ کروا دیں گے یا خود بھی اپنی فوجیں یوکرائن بھجیں گے۔ پھر سوال یہ پیدا ہو گا روس کے ساتھ کون کون سے ملک کھڑے ہوں گے اور دنیا کی طاقت کا توازن کس طرح قائم رہے گا کیا بیجنگ اولمپکس ہوپائیں گے یا نہیں۔
اس سب خطرناک صورت حال میں عمران خان روس کا دورہ کررہے ہوں گے جب تک یہ مضمون آپ تک پہنچے گا عمران خان پاکستان واپس آچکے ہیں گے یہ دورہ کافی پہلے سے طے تھا۔ تقریباً 23سال بعد کسی وزیراعظم کا دورہ روس ہورہا ہے۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو 1974ء میں روس گئے تھے۔ اس وقت متحدہ روس تھا۔ اس کے بعد نواز شریف نے 1999ء میں روس کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران پرویز مشرف اور آصف علی زرداری بحیثیت صدر روس کا دورہ کر چکے ہیں اب یہ عمران خان کا دورہ بہت اہم ہے پیوٹن کی اس تقریر ہونے سے پہلے عمران خان کے دورہ کو پوری دنیا میں بہت اہمیت دی جارہی تھی مغربی میڈیا تبصرہ کررہا تھا کہ پاکستان امریکی کیمپ میں رہتا ہے یا پوری طرح کمیونسٹ بلاک میں چلا جائے گا۔ چین کے ساتھ پہلے ہی پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس کا مظاہرہ ابھی وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین میں ہوا۔ چین گوادار پورٹ اور سی پیک روٹ بنارہا ہے۔ دوسرے چین دفاعی شعبہ میں پاکستان کی ہر طرح سے مدد کررہا ہے۔ کشمیر کی آزادی میں آئندہ چین بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ چین نے بھی بھارت کو گلے سے پکڑا ہوا ہے۔ خبریں یہ آرہی ہیں کہ روس کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھانے میں مدد کرے گا۔ یہ تقریباً دو ارب ڈالر کا منصوبہ ہو گا پھر کراچی اسٹیل مل روس نے ہی بھٹو کے زمانہ میں شروع کی تھی جو اب بند پڑی ہے اس کو بھی دوبارہ پروڈکشن میں لانے کی بات ہورہی تھی۔ عمران خان کے امریکہ کو Absolutely notکہنے کے بعد پاکستان امریکہ سے بہت دور ہو گیا ہے۔ اب پاکستان کا مفاد اپنے ہمسایوں روس اور چین سے دوستی رکھنے میں ہے۔ دیکھیں اس خطہ میں ٹینشن کے بعد بھی عمران خان روس سے کیا کیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور حالات بین الاقوامی طور پر کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔