اب تو جاتے ہیں ماسکو کی طرف!

203

جب تک یہ سطور آپ کے نظر نواز ہوں وزیرِ اعظم عمران خان روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ چکے ہونگے۔ پاکستان کیلئے عمران خان کی یہ ماسکو یاترا کتنی اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ روس اور اس کے مخالف محاذ آرا مغربی ممالک کے درمیان یوکرین کے مسئلہ پر جو کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر ہے اس کے باوجود وزیرِ اعظم پاکستان نے اس دورے کو التوا میں ڈالنا پسند نہیں کیا۔ نہ ہی روس کے صدر پیوتن کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ ہوا کہ وہ یہ پسند کرینگے کہ عمران اپنے دورے کو التوا میں ڈال دیں یا اسے منسوخ کردیں۔ دونوں ، میزبان اور مہمان ، کی جانب سے تو اس دورے پر کسی تشویش یا تحفظ کا اظہار نہیں ہوا لیکن ہمارے اپنے حلقوں میں، خاص طور پر خود ساختہ دانشوروں اور حالاتِ حاضرہ پر خود کو ماہر سمجھنے والے حلقے البتہ عمران کے اس پس منظر میں دورہء ماسکو پر بہت بغلیں بجا رہے ہیں اور گلا پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہیں کہ حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر عمران کو اس وقت ماسکو نہیں جانا چاہئے تھا۔
ہمارے بقراط یہ ہرزہ سرائی صرف اپنے تئیں نہیں کررہے بلکہ ان کے مغربی مربی اور سرپرست ان کے منہ میں لقمہ دے دیکر ان سے یہ کہلوا رہے ہیں اور وہ جو اپنے ضمیر کا سودا کرنے میں اور اسے منہ مانگے داموں بیچنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے اس پرانے قول پہ آنکھ بند کرکے عمل کر رہے ہیں کہ جس کا کھائے اسی کا گائے۔ روس اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ ایسے حادثات سے پر ہے جن کے تحت پاکستان نے بطورِ خاص بارہا ان مواقع کو گنوایا جب وہ اتنے بڑے ملک اور ایک عالمی طاقت کے ساتھ اپنے معاملات اور معمولات کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرسکتا تھا۔ یہ جو تاریخی ہیت، پاکستان اور روس کے تعلقات کی، یہ دلچسپ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اعتبار سے دردناک بھی۔ اس کی ابتدا ٔ وہاں سے ہوئی جب پاکستان بننے کے کچھ ہی عرصہ بات پاکستان کی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اس وقت کی دو بڑی عالمی طاقتوں، یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین
(روس کا اس دور کا نام جب روس اور اس کے ارد گرد کے ایک درجن ممالک ایک اتحاد یا یونین میں پروئے ہوئے تھے) کے درمیان کس طاقت کو اولیت یا فوقیت دے، امریکہ کی جانب جھکے یا روس کی ترازو میں اپنے باٹ دال دے ؟ یاد رہے کہ پاکستان بننے کے بعد کا ابتدائی دور پاکستان کی قیادت کیلئے ایک انتہائی کٹھن دور تھا۔ بھارت کی پاکستان دشمن قیادت ہر ممکن کوشش کررہی تھی کہ پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے اور اس مذموم کوشش میں کامیاب ہونے کیلئے اس کا حربہ یہ تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کے تحت جو وسائل، جیسے نقد رقم اور دفاعی اسلحہ جات وغیرہ، پاکستان کو ملنے چاہئے تھے اور پاکستان کا جن پر قانونی حق تھا ان سے پاکستان کو محروم رکھا جائے۔ بھارتی حکومت نقد پیسے پر اور ہتھیاروں پر بھی ناگ بن کر بیٹھ گئی تھی اور گاندھی جی کو اپنے سیاسی شاگردوں کی ہٹ دھرمی کو نرم کرنے کیلئے مرن برت رکھنا پڑا تھا تب کہیں جاکے نہرو سرکار نے پاکستان کے حصے کی رقم میں سے کچھ آزاد کیا تھا۔ دفاعی اسلحہ اور ہتھیاروں کے ضمن میں تو ان کی شرارت ناانصافی کی تمام حدود پار کرگئی تھی جو ایک شیطانی حربہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں۔
اس پس منظر میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کا یہ فیصلہ سو فیصد درست اور صائب تھا کہ دونوں طاقتوں کی طرف سے جب انہیں دورے کی دعوت ملی تو انہوں نے امریکہ جانے کو باوجوہ ترجیح دی جو وقت اور حالات کا تقاضہ بھی تھا۔ لیاقت علی خان کا فیصلہ زمینی حقائق کی بنیاد پر درست یوں تھا کہ پاکستان کو اس کٹھن اور جان لیوا دوراہے پر اقتصادی امداد کی بھی ضرورت تھی اور دفاعی اسلحہ کی ضرورت تو اس سے بھی زیادہ تھی اسلئے کہ بھارت کشمیر پر قبضہ جماکر بیٹھ گیا تھا اور پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا تھا۔ لیاقت علی خان کے سیاسی حریفوں نے، جو پاکستان دشمن پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کے سابقہ اراکین اور گماشتے تھے اور سب کے سب فرنگی سرکار کے کاسہ لیس جاگیردار تھے، ان کے امریکہ کو فوقیت دینے کی شد و مد سے مخالفت کی تھی اور انہیں پاکستان دشمنوں کے بغل بچے ہیں جو آج عمران کے بدترین مخالف اور حریف ہیں اور اس تنقید میں پیش پیش ہیں کہ ان کا دورہء روس اس مرحلے پر جب یوکرین کا تنازعہ عروج پر ہے نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیاقت علی خان کا امریکہ کا اس مرحلے پر دورہ کرنا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ واشنگٹن کی طرف کردینا درست ثابت ہوا اور امریکہ نے اس دور میں پاکستان کی اقتصادی اور دفاعی، دونوں شعبوں میں مدد کی لیکن ستر برس سے زیادہ عرصہ پر محیط پاکستان اور امریکہ تعلقات کی تاریخ اس صداقت پر بھی گواہ ہے کہ امریکہ نے تعلقا ت میں صرف اور صرف اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھا، ہر موقع اور مقام پر جب اسے پاکستان کی ضرورت تھی پاکستان کو استعمال کیا لیکن جیسے ہی کام نکل گیا تو امریکہ نے پاکستان سے یوں آنکھیں پھیر لیں جیسے کبھی کی جان پہچان ہی نہ ہو۔ سچائی یہی ہے کہ امریکہ نے دو طر فہ معاملات اور تعلقات میں پاکستان کو کبھی برابری کا درجہ نہیں دیا، عزت اور احترام کا مقام نہیں دیا بلکہ اس کا رویہ اور سلوک پاکستان کیلئے اس کلینکس کا سا رہا جسے استعمال کرتے ہی پھینک دیا جاتا ہے۔ اس بے رخی اور حقارت کے سلوک کا بہترین آئینہ تو گزشتہ چار دہائیوں کے افغانستان کے ضمن کے پاک امریکہ تعلقات ہیں۔ دنیا کا ہر غیرجانبدار اور غیر متعصب مبصر اور پنڈت اس پر گواہی دیگا کہ پاکستان کی امداد اور بھرپور تعاون کے بغیر ناممکن تھا کہ امریکہ کی مدد سے روسی تسلط کے خلاف جد و جہد کرنے والے حریت پسند افغان مجاہدین روس کو اپنی سرزمین سے عبرتناک شکست دیکر نکالنے میں کامیاب ہوسکتے۔ جیسے ہی افغان جہاد ختم ہوا امریکہ نے اپنا بوریا بستر لپیٹا اور یہ جا اور وہ جا۔ پاکستان فریاد کرتا رہا کہ افغانستان میں خلاءپیدا کرکے جانا انتہائی نامناسب تھا لیکن پاکستان کی ایک نہ سنی گئی اور جب انتشار کے نتیجہ میں طالبان برسرِ اقتدار آگئے تو اس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا۔ وہی مجاہدین جو روس کے خلاف مجاہد اور ہیرو تھے یکدم زیرو ہوگئے اور دہشت گرد قرار پائے اور پاکستان سے پھر یہ مطالبہ ہوا کہ وہ ان دہشت گردوں سے نمٹے۔ اب گزشتہ برس جب امریکہ کو اسی طرح افغانستان سے بے نیل و مرام نکلنا پڑا جیسے تین دہائی پہلے روس ناکام و نامراد نکلا تھا تو اب امریکہ کی توجہ اس خطہ سے جس میں پاکستان اور افغانستان ہیں یکدم کم ہوگئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بے پناہ سرد مہری ہے جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے تیرہ چودہ مہینوں کے دور صدارت میں صدر بائیڈن نے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو ایک بار بھی فون کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ان سے ملاقات کرنا تو دور رہا جبکہ پاکستان کے کھلے دشمن نریندر مودی کو وہ اپنا مہمان بھی بنا چکے ہیں اور ان سے بغل گیر ہونے میں اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔
پھر ستم بالائے ستم یہ کہ امریکہ کی ہر ممکن کوشش یہ رہی ہے کہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی مدد سے وہ پاکستان چین راہداری کے منصوبے کو ناکام بنادے۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ کوشش ناکام رہی ہے اسلئے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس کا بھرپور احساس ہے کہ پاکستان کا اصل اور مخلص دوست کون ہے اور دوستی کی آڑ میں دشمنی پر کون تلا ہوا ہے۔ روس کے صدرپیوتن انکل سام کے برعکس مدبرانہ پالیسی پر گامزن ہیں اور پاکستان کیلئے ان کا رویہ دوستانہ اور ہمدردی کا ہے۔ یہ درست ہے کہ روس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ ان مفادات کو پروان چڑھنا بھی چاہتا ہے لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک نیا موڑ اور ایک نیا رخ دینے کے عمل میں روس کی قیادت کا رویہ برابری کے سلوک کا ہے نہ کہ امریکہ بہادر کی طرح متکبرانہ۔ پھر پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کو، اور عمران کو، اس کا بین ادراک ہے کہ خارجہ پالیسی میں نہ کوئی ہمیشہ دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ازلی دشمن۔ ملک کے مفادات ازلی اور ابدی ہیں اور اس کسوٹی پر پرکھنے سے ایک عام آدمی ، ایک عام پاکستانی ، یہ فیصلہ دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کریگا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی ماحول میں پاکستان کیلئے یہ ناگزیر ہے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے اور روس کے تعاون سے ان اقتصادی شعبوں میں آگے بڑھے جن میں روس کو دسترس حاصل ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا واحد اسٹیل ملز روس کے تعاون سے ہی قائم کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے بد دیانت لیڈروں نے اس اسٹیل ملز کو وبال جان بنادیا اور وہ برسوں سے ریاست کیلئے ایک سفید ہاتھی بنا ہوا ہے لیکن یہ ہماری کوتاہیوں اور ناکامیوں کا ثمرہ ہے جس کیلئے روس یا کوئی اور ملک ذمہ دار نہیں ہے۔ موجودہ جغرافیائی اور دفاعی حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوست، چین اور نئے دوست ، روس کی مدد سے نہ صرف افغانستان کو اس کے سنگین حالات سے نکلنے میں مدد دے بلکہ اس خطے میں جہاں پاکستان، افغانستان، چین اور روس ہیں امن اور سلامتی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔ امریکہ پر پاکستان بھروسہ نہیں کرسکتا اور اگر بھروسہ کرنے کی حماقت کرے گا تو اس کا انجام ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔ امریکہ بھارت کی توسیع پسندی کو کھلم کھلا ہوا دینے میں دلچسپی رکھتا ہے اور بھارت کی فسطائی مودی سرکار کی سرپرستی کررہا ہے۔ ان حالات میں امریکہ پر دارو مدار رکھنا خود کشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔ سو اس پس منظر میں عمران خان کا دورہء روس اتنا ہی درست ہے جتنا آج سے ستر بہتر برس پہلے لیاقت علی خان کا دورہء امریکہ تھا۔ اس وقت کے معروضی حالات میں وہ فیصلہ صائب تھا اور آج کے حالات میں عمران کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کہ روس سے تعلقات بڑھائے جائیں۔ عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں کہ امریکہ کی گیدڑ بھبھکیوں کو خاطر میں لائے بغیر انہوں نے دورہء روس کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تمام انڈے اب روس یا چین کی جھولی میں رکھنے والا ہے۔ پاکستان ان بڑی طاقتوں کی باہمی چپلقش میں فریق بننا نہیں چاہتا کیونکہ پاکستان کو اپنے تجربہ سے یہ سبق ملا ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیاں ہی پامال ہوتی ہیںاور پسی جاتی ہیں۔ پاکستان عمران کی قیادت میں آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن ہے جس میں رہنما ستارا صرف اور صرف پاکستان کی ریاست اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اب جو بھی عمران کے اس فیصلے سے مطمئن اور خوش ہے وہ پاکستان کا ہمدرد اور دوست ہے اور جو اس کا مخالف ہے تو وہ پاکستان اور اس کے عوام کا دشمن ہے۔