امریکہ کی ٹو فرنٹ وار!

206

جنوری میں تائیوان کی صدر Tsai Ing Wen نے ایک تقریب میں کہا کہ یوکرین پر روس کے ممکنہ حملے کا چین اور تائیوان تنازعے کیساتھ گہرا تعلق ہے اس خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ کسی عالمی طاقت کا ہمسایہ ہونا کوئی آسان بات نہیں اس تذبذب اور خلفشار کو صرف تائیوان اور یوکرین ہی سمجھ سکتے ہیں
چین 1949 کی خانہ جنگی کے اختتام پر تائیوان کو چھوڑ کر جا چکا تھا مگر اسنے ہمیشہ اسے اپنا جزو لاینفک سمجھا ہے امریکہ نے 1949 میں تائیوان کو تسلیم کر لیا تھا مگر 1979 میں جب صدر رچرڈ نکسن اور سیکرٹری آف سٹیٹ ہینری کسنجر نے پاکستان کے سفارتی رابطوں کی مدد سے چین کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات استوار کرنیکی خواہش کا اظہار کیا تو انہیں تائیوان کو تسلیم کرنیکے فیصلے کو تبدیل کرنا پڑا چین کسی بھی ایسے ملک سے تعلقات قائم نہیں کرتا جس نے تائیوان کو تسلیم کر رکھا ہو اسوقت صرف تیرہ ممالک نے چین کے اس حصے کو ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہو اہے چین کے وضع کردہ اس اصول کو One China Principle کہا جاتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ چین اور تائیوان ایک ہی ریاست ہیں اس اصول کو تسلیم کرنے کے باوجود امریکہ سینکڑوں ملین ڈالر کا اسلحہ تائیوان کو فروخت کرتا ہے اور دونوں ممالک ہر سال اربوں ڈالر کی تجارت بھی کرتے ہیںواشنگٹن کے اس تعاون کیوجہ سے تائیوان اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ وہ اپنی الگ حیثیت منوانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چین اسے ایسا نہیں کرنے دیگا اس پیچیدہ صورتحال میں یہ ابہام موجود ہے کہ اگر چین نے تائیوان کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی تو امریکہ کیا کریگا امریکہ نے آج تک یہ نہیں کہا کہ وہ تائیوان کی آزادانہ صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی فوج بھیجے گا یا نہیں اس Strategic Ambiguityیا تزویراتی ابہام کی پالیسی کیوجہ سے امریکہ اور چین نے سفارتی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوے ہیں
اب یوکرائن پر امریکہ روس کشمکش کے بعد یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا بیجنگ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوے تائیوان کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش تو نہیں کریگا اسوقت امریکہ یورپی ممالک کو متحد رکھنے اور روس کو ایک بھرپور جواب دینے کی مشکل میں اس حد تک الجھا ہوا ہے کہ اسکے پاس کسی دوسرے عالمی تنازعے کی طرف توجہ دینے کا وقت نہیں ہے شمالی کوریا نے جنوری میںبیلسٹک میزائلوںکے سات تجربے کئے مگر امریکہ نے صرف ایک آدھ بیان کے علاوہ اسے کوئی جواب نہیں دیا اس سے پہلے شمالی کوریا کی ایسی ہٹ دھرمی کے جواب میں امریکہ جنوبی کوریا کیساتھ ملکر جنگی مشقیں شروع کر دیتا تھا دو ہفتے پہلے چین نے تائیوان کی ائیر ڈیفنس زون میں 39 جہازوں کا ایک دستہ بھیجا امریکہ نے اسکا بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا اسکے بعد امریکی میڈیا میں بائیڈن انتظامیہ پر سخت تنقید ہوئی کہ وہ خارجہ پالیسی کے ایک ہی مسئلے میں اسقدر الجھی ہوئی ہے کہ اسکے پاس کسی بھی دوسری طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ہے میڈیا کے اس شور کو ختم کرنے کیلئے سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے ایشیا پیسیفک کے ممالک کا دورہ کیا جنوبی کوریا‘ جاپان‘ فجی اور آسٹریلیا جا کر سیکرٹری بلنکن نے انہیں یقین دلایا کہ امریکہ اس خطے میں اپنی دفاعی اور تجارتی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور وہ ان ممالک میںوسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
تائیوان اور یوکرین کے حالات میں مماثلت اتنی زیادہ نہیں مگر ایشیا پیسیفک کے ممالک نے تزویراتی حساب کتاب شروع کر دیا ہے وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کی تائیوان پر پیشقدمی کی صورت میںواشنگٹن بیجنگ کے خلاف عسکری کاروائی کریگا یا صرف اقتصادی پابندیاں لگانے پر اکتفا کریگا امریکہ کے دفاعی ماہرین کے مطابق چین یوکرین کی صورتحال کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھتا ہے کہ امریکہ نے اسوقت اپنی توجہ اور وسائل اس حد تک روس کا مقابلہ کرنے کیلئے وقف کئے ہوے ہیں کہ اسے کسی بھی دوسری جنگ میں الجھنے کی فرصت نہیں ہے امریکہ کی اس ممکنہ ٹو فرنٹ وار میں چین اگر تائیوان کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش نہیں کرتا تو اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں اس سوال کا جائزہ اگلے کالم میں لیا جائیگا ۔