ہم مذہبی انتہا پسندی کو کب تک برداشت کریں گے؟

203

پاکستان میں جب کوئی ایسا واقع ہوتا ہے جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، اور خون خرابہ ہوتا ہے ، جیسے کے سیالکوٹ میں ہو اور اب میاں چنوں میں، تو ہمارے مذہب کے رکھوالے، جنہیں کچھ لوگ مذہب کے ٹھیکدار بھی کہتے ہیں، ان کی بانچھیں کھل جاتی ہیں۔ کہ پاکستانی عوام میں مذہب کے نام پر اچھا بُرا سب کرنے کے صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے، اس کے لیے وہ انجام سے بے پرواہ ہر کام کرنے پر تیار ہوتے ہیں، خواہ وہ کتنا ہی گھناونا ہو اور ہمارے پیارے مذہب کی تعلیمات سے کتنا ہی لا تعلق کیوں نہ ہو۔ یہ ملا، یہ مفتی، یہ مولانا، یہ امام، اور یہ مساجد کے رکھوالے اور منتظمین، یہ مشایخ، یہ سب کے سب دلوں میں پھولے نہیں سماتے کہ مسلمانوں کی مذہب کے نام پر بھڑک جانے والی غیرت زندہ سلامت ہے۔اس لیے جب کوئی ایسا واقع ہونے لگتا ہے تو و ہ بالکل لا تعلق ہو جاتے ہیں، اور دور سے بیٹھے تماشا دیکھتے ہیں۔ ان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ جو ہوا وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا کہ نہیں۔
ان تماش بینوں میں سیاسی ادکار بھی اتنے ہی شامل ہیںجتنے کے عملی سیاست میں حصہ نہ لینے والے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مذہبی طبقہ کی ملک میں اور کوئی حیثیت ہی نہیں ہے تا آنکہ وہ کسی مذہبی مسئلہ پر نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ اور ان کی بد قسمتی سے ایسے مذہبی مسئلے روز نہیں پیدا ہوتے۔اس لیے وہ ایسے موقعوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اب آپ سیالکوٹ والے سانحہ کو ہی دیکھیں۔ اس ہولناک واقعہ پر کیا علمائے دین نے کوئی فتویٰ دیا کہ اسلامی تعلیمات کے نقطۂ نظر سے وہاں جو جو کچھ ہوا وہ ناجائز تھا۔ یہ عوام الناس کا کام نہیں تھا کہ وہ خود ہی عدالت بنتے، اور خود ہی سزا سناتے اور خود اس سزا پر عمل درآمد کرتے۔عوام کا ہجوم جب خود ہی فیصلہ کر لے، بغیر حقائق کی چھان بین کیے،بغیر ملزم کی گواہی سنے اس ملزم کو مار مارکر اس کو وحشیانہ طریقے سے ایسے قتل کر دے جیسا کہ قرون وسطیٰ میں بھی شاید نہیں ہوتا ہوگا اور یقینا آنحضرت کے دور میں ایسی کوئی مثال نہیں ہو گی۔وہ اس لیے کہ اسلام میں انصاف کا طریق کار ہے۔ اس میں ملزم کو اپنی صفائی کا موقع دیا جاتا ہے اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں فیصلہ سنایا جاتا ہے خواہ وہ ملزم کے حق میں ہو یا اس کو سزا دینے سے متعلق۔ سنا گیا ہے کہ صرف سنگساری کی سزا میں عوام شریک ہوتے تھے اور وہ بھی دور سے کھڑے پتھر مارتے تھے۔ ورنہ جلاد کا کام تھا سزا پر عمل درآمد کروانا۔ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے ملزموں کو ایسی سزا ئیں جو سیالکوٹ میں اور میاں چنوں کے واقعہ میں دی گئیں، ان کی مثال آ نحضرت کے زمانے میں تونہیں ملتی۔ یہ صرف ہمارے پیارے پاکستان کے ملاؤں کی لگائی گئی آگ ہے جو مذہبی رہنما جیسے کہ جماعت الدعویٰ کے قائد حافظ سعید جیسوںنے بھڑکائی۔ممکن ہے کہ اسی آگ کی بدولت ، ممتاز قادری نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا ہو ، اگرچہ یہ ایک انفرادی فعل تھا۔ اس سے پہلے اور بعد میں بھی کئی واقعات اورذمہ وار وں کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ لیکن اجتمائی سزا کا تصور دور حاضر میں تو کیا ہی نہیں جا سکتا۔
البتہ ہند و پاکستان کے لوگ دنیا سے مختلف ہیں جو مذہب کے نام پر اجتماعی زیادتی کرتے ہیں۔ بلکہ اس معاملہ میں پاکستانی ملا اور ہندو پروہت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔آج سوشل میڈیا پر ایک بھارتی لڑکی کی فریاد سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کسی ایسی ہی فریاد پر محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کر دیا تھا۔ لیکن آج وہ والا محمد بن قاسم کہاں ہے؟ غالباً سعودی عرب میں کہیں بیٹھا سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھائو دیکھ رہا ہو گا؟ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہو چکی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جب تک مسلمان جاگیں گے لاکھوں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے قتل ہو چکے ہونگے۔پاکستان کے جو شیلے ناموس رسالت پر جان چھڑکنے والوں کو چاہیے کہ اپنے طیش کو قابو میں رکھیں۔ابھی ان کا مقابلہ بھارتی کافروں سے ہونے والا ہے۔ یہی جوش و جذبہ وہاں کام آئے گا۔
پاکستانی مسلمان عوام کا یہ غیر انسانی اور غیر اسلامی رویہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے معاشرتی علوم کے پروفیسر اس موضوع پر تحقیق کروا کر کچھ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے مذہب کو کتنا پہچانتے ہیں اور اس کی اقدار کو کہاں تک سمجھتے ہیں؟ کیا ان کو اس بات کا ادراک ہے کہ کسی بھی شخص پر ایسے الزام لگا کر اس کو تشدد کر کے مار ڈالنا کیا اسلامی شرعیہ کا حکم ہے؟ یا صرف مولوی صاحب کا کہنا کافی ہے؟ کیا ایسا کر کے ہم ثواب حاصل کرتے ہیں یا گناہ کرتے ہیں؟ کیا ہم مولوی صاحب کی ہر بات مانتے ہیں یا صرف ان باتوں کو جو ہمیں روایات سے ملتی ہیں؟ پاکستان میں تو انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی بھی موجود ہے۔ لیکن کیا اس یونیورسٹی میں ایسی تحقیق کروائی جاتی ہے جس کا مسلمانوں کی روز مرہ کی زندگی سے واسطہ ہو؟ کبھی سنا نہیں کہ اس یونیورسٹی کے کسی طالب علم نے ایسی کوئی تحقیق کی ہو جس دور حاضر کے کسی مسئلہ پر روشنی پڑتی ہو۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو حقیقی دنیا اور اس کے مسائل سے دور ہی رکھا جاتا ہے۔ مثلاًجو تحقیق ہوتی بھی ہے تو اس کے نتائج کا اطلاق روز مرہ کی زندگی سے شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اگر مذہب کے نام پر بنائی گئی یونیورسٹی میںبھی ایسی کوئی تحقیق نہ کی گئی ہو جس سے عوام الناس کو براہ راست کوئی فائدہ پہنچے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
جب سے ہمارے وزیر اعظم نے ایک مذہبی خاتون کے ساتھ شادی کی ہے، اس کے بعد ہاتھ میں ہر وقت تسبیح رکھنا شروع کر دی ہے، اور ایک انتہا پسند مذہبی جماعت کے ساتھ صلح کر کے اس کو دنگا فساد سے روک دیا ہے یہ شبہات بڑھ رہے ہیں کہ عمران خان ملائیت کے بارے میں ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ غالباً کرسی کا تقاضا ہے کہ ہر وزیر اعظم انتہا پسند مذہبی گروہوں کو کو مراعات دیتا آیا ہے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرتا آیا ہے جو کتنے بھی رجعت پسندانہ ہوں۔اس میں بھٹو کیا، نواز شریف کیا اور فوجی حکمران کیا، سب ہی نے ملائیت کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کسی بھی مذہبی مسئلہ پر ملا کی چودھراہٹ مسلم ہے۔ اس کا اندازہ ایوب خان کی حکومت گرانے میں ملا ؤں نے فیملی پلاننگ کے خلاف ایسی مہم بازی کی تھی جس سے ایوب خان کی حکومت کی چولیں ہل گئی تھیں اور ہر آنے والی حکومت نے ملائیت کے ساتھ appeasement (مصالحت) کی حکمت عملی اپنا ئے رکھی ہے، اور عمران خان ان سے مختلف نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے خود بھی ایک مذہبی لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
عمران خان نے سیالکوٹ اور اب میاں چنوں میں ہونے والے وحشیانہ واقعات کی مذمت ضرور کی ہے، لیکن کم از کم اخباری اطلاعات سے پتہ نہیں چلتا کہ وہ مجرموں کو سزا دلوانے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ اتنا تو ظاہر ہے کہ ان دونوں واقعات پر جتنی بھی مذہبی جماعتیں ہیں انہوں نے کم و بیش خاموشی بر قرار رکھی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کا کردار بہت اہم رہا ہے، اس کو بنانے میں بھی اور بگاڑنے میں بھی۔جب قائد اعظم پاکستان بنانے کی کشمکش میں مصروف تھے تو ہندوستان کے جید علماء اور ان کی جماعتوں نے، جن میں مولانا مودودی، مولانا ابولکلام آزاد، اور جمعیت علمائے ہند سر فہرست تھے جنہوں نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی۔ البتہ جب ریفرنڈم ہوا تو سنا گیا ہے کہ سرحد میں اور کچھ مقامات میں مقامی مذہبی قائدین نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈلوائے۔البتہ سرحد کے مجاہدین نے جو کردار کشمیر پر پہلی جنگ میں ادا کیا وہ قابل تعریف تھا۔ غالبا ً یہی وجہ تھی کہ پاکستانی فوج نے اس شراکت داری کو بنائے رکھا اور مختلف مذہبی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات بنائے رکھے۔ کہتے ہیں کہ حافظ سعید کی جماعت کو بھی فوجی حمایت حاصل تھی۔ اسی لیے حافظ سعید کو بھارت کے حوالہ نہیں کیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب باتیں بھارتی نشر و اشاعت کا شاخسانہ ہوں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی مذہبی ٹولے جنہوں نے اپنے ہی ملک پر دہشت گردی کی جیسے کہ سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک نفاذ شرعیت محمد، لشکر جھنگوی، سپاہ محمد پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، لشکر طیبہ، جیش محمد مجاہدین تنظیم اور رابطہ ٹرسٹ،۔ یہ جماعتیں سرکاری طور پر ناجائز اور غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں، اس عمل میں بین الاقوامی دبائو بھی شامل ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو جس تھالی میں کھاتے تھے اسی میں چھید کرتے تھے۔امریکنوں کا کہنا تھا پاکستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔بالآخر امریکی اور بین الاقوامی دبائو میں آ کر پاکستانی فوج نے پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کے خلاف مہم جوئی کی اور اس سے بڑی حد تک ان کا خاتمہ ہوا اگرچہ ابھی بھی بھارت اور بیرونی طاقتوں کی اعانت سے دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جوبلا شبہ مذہبی گروہوں کے ارکان سر زدکرتے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہمارے مذہبی گروہوں کی اعانت نہیں تو کم از کم آشیر باد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے مطابق وہ پاکستان کو اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں جہاں شرعیہ کا نظام نافذ ہو۔ چنانچہ اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہماری مذہبی جماعتیں کبھی بھی دہشت گردی کے واقعات پر مذمت نہیں کرتیں۔اس لیے کہ دہشت گرد وہی کر رہے ہیں جو یہ جماعتیں چاہتی ہیں۔یہ بھی قابل غور ہے کہ تمام اسلامی ممالک میں صرف پاکستان ان دہشت گردوں کا نشانہ بنتا ہے اور اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بھی ہے۔ان انتہا پسندوں کی رال اس طاقت پر قبضہ کرنے پر ٹپکتی ہے۔
عمران خان کی تسبیح اور مذہبی جنونیوں سے ہمدردانہ تعلقات سے امریکہ کو خوف آ تا ہے۔ لیکن امریکہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان کتنا بھی اسلا م پسند کیوں نہ ہو، وہ اسرائیل پر ایٹم بمب نہیں گرائے گا اور نہ ہی دہشت گردوں کو ایسا ہتھیار بیچے گا۔عمران خان ایسے کاموں کے خطرناک نتائج سے با خبر ہے اور وہ انتہا پسند مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ابھی جو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری ہے اس کی وجہ ڈیموکریٹک پارٹی ہے جو ہمیشہ سے بھارت کی طرفدار رہی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اس پارٹی کے دن گنے جا چکے ہیں اور ریپبلیکن پارٹی کے آنے کے آثار نظر آ رہے ہیں، جن سے ہمارے تعلقات بہتر ہونے کی امید ہو جائے گی۔
جب تک حکومت ملک میں نیم خواندہ اور نیم ملا کے سیاسی اثر و رسوخ میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئے گی ، پاکستان میں سیالکوٹ اور میاں چنوں جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ اگر حکومت پاکستان کی سلامتی اور بقا میں دلچسپی لینا چاہتی ہے تو اسے ان حالا ت پر نہایت سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا ہو گی اور دیر پا حل نکالنے ہوںگے۔ اگر حکومت ان حالات کو ایسے ہی چلنے دیگی تو آنے والے دنوںمیں انتہا پسندوں کی حکومت بننے کا امکان بالکل خارج از ممکنات نہیںکیا جا سکتا۔