یاد آرہا ہے تیرا پیار!!

186

کچھ لوگ دنیا میں آ کر بہت بڑے بڑے کام کرتے ہیں، کسی میدان میں اپنے ہنر کے ذریعے ایسا نام پیدا کرتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ ان کو یاد رکھتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس سے بہت بڑا کام کرتے ہیں وہ اپنی ’’فیلڈ‘‘ کو آگے بڑھاتے ہیں وہ اپنے ہنر کو آگے بڑھانے کے لئے نہ صرف دن رات سخت محنت کرتے ہیں بلکہ اس کی شکل ہی بدل دیتے ہیں اس کو نئی راہ مل جاتی ہے۔ وہ اپنی فیلڈ کی Generationبدل دیتے ہیں، ایسے ہی ایک شخص، ایک آرٹسٹ ، ایک میوزک ڈائریکٹر تھے ’’بھپی لہری‘‘
بھپی لہری کا اصل نام لوکیش لاہڑی تھا، وہ کلکتہ شہر میں ایک بنگالی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد اور والدہ دونوں ہی کلاسیکی موسیقی سے واقفیت رکھتے تھے اور ان کا تعلق مشہور گائیک خاندان ’’لہری موہن فیملی‘‘ سے تھا۔
بھپی لہری کو بچپن سے ہی موسیقی سکھانے پر توجہ دی گئی لیکن انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سے زیادہ امریکن میوزک کا شوق تھا اور وہ اس لئے کہ وہ اپنے دور کے مشہور سنگر ELVIS PRESLYکو اپنا آئیڈل مانتے تھے، وہ ان کے گانے کے سٹائل سے لے کر ڈریسنگ کے انداز کو بھی بے حد پسند کرتے ہیں، ایلوس کی طرح شرٹ کے بٹن کھولنا، گولڈ کی بڑی بڑی Chanisپہناسب انہوں نے ایلوس کے سٹائل سے متاثر ہو کر اپنایا تھا۔
بھپی لہری کو موسیقی سے نہ صرف بے حد لگائو تھا بلکہ انہیں اس کی اچھی سمجھ بوجھ بھی تھی اسی لئے وہ انیس(19)سال کی عمر میں ہی ممبئی قسمت آزمانے آگئے اور قسمت واقعی ان کی زوروں کی تھی کیونکہ اکیس (21)سال کی عمر میں ہی انہیں میوزک ڈائریکٹر کا کام مل گیا۔ 1973ء میں ننھا شکاری سے انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، فلم کے نغمے اور موسیقی کو پسند کیا گیا لیکن اصلی شہرت اور پذیرائی انہیں طاہر حسین کی فلم زخمی سے ملی جو کہ 1975میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کی نہ صرف موسیقی انہوں نے دی تھی بلکہ ایک گانا بھی اپنی آواز میں گایا تھا۔ اسی فلم میں انہوں نے اس وقت کے دو بہت بڑے گلوکاروں رفیع اور کشور کمار سے ایک گانا بھی گوایا تھا جس کا نام تھا NOTING IS IMOSIIBLE۔
اسی فلم میں یعنی زخمی میں آشا جی اور کشور کمار کا گانا’’جلتا ہے جیا میرا‘‘ اور لتا جیا کا گانا ’’ابھی ابھی تھی دشمنی‘‘ اور ’’آئو تمہیں چاند پر لے جائوں‘‘ بہت ہٹ ہوئے او رآج تک مشہور ہیں۔ اسی فلم میں موسیقی دینے کے بعد بھپی لہری کا نام فلم انڈسٹری میں مشہور ہو گیا۔
1976ء میں فلم ’’چلتے چلتے‘‘ کے گانے بے حد پسند کئے گئے اور بھپی لہری کو بہترین میوزک ڈائریکٹرز کی صف میں شامل کیا جانے لگا، اسی فلم میں سلکھشتا پنڈت کے ساتھ انہوں نے ایک دو گانے گائے جس میں بطور سنگر بھی انہیں بہت داد ملی۔
آپ کی خاطر، دل سے ملے دل، لہو کے دو رنگ، ہتھیا سب ہی فلموں میں ایک سے بڑھ کر ایک گانے تھے، بھپی لہری نے خوبصورت غزلیں بھی کمپوز کی ہیں جیسے ’’کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے‘‘ یا پھر آواز دی ہاں ‘‘یہ غزل فلمی اعتبارسے ریکارڈ کی گئی تھی جو کہ 1985میں ریلیز ہوئی تھی۔
1980ء میں جتیندر کو Danciors Heroکہا جاتا تھااور ان پر پکچرائز تقریباً سب ہی گانے کشور کمار نےگائے ہوئے تھے یہ نغمے بے حد مشہور ہوئے یہ تمام بھپی لہری کے کمپوز کئے ہوئے تھے۔
فلمیں جیسے جسٹس چودھری، جانی دوست، موالی، خبیث، تحفہ، بلیدان، ہوشیار، سنگاسن، سہاگن، مجال، تماشا، سونے پہ سوہاگہ اور دھرم ادھیکاری شامل ہیں۔ یہ سب کی سب بھپی لہری کی میوزک ڈائرکشن میں تھیں۔ بھپی لہری نے بہت سے ریکارڈ بنائے جن میںایک یہ بھی ہے کہ لگاتار بارہ سپرہٹ سلور جوبلی فلموں میں ان کی موسیقی تھی اور ان تمام فلموں میں جیتندر نے بطور ہیرو کام کیا۔ یہ تمام فلمیں1983-85کے بیچ ریلیز ہوئیں۔ ان کے 180گانے 33فلموں کیلئے صرف ایک سال یعنی 1986میں کمپوز کئے گئے۔بھپی لہری کے کام کے اعتراف میں ان کا نام گنیز آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
بھپی لہری ایلوس پریسلے سے اتنے متاثر تھے کہ بال، شرٹ کے بٹن، سونے کی Chanis سب وہی signature lookتھا، اس lookکو کوئی نہیں بھول سکتا لیکن ایک اور بات جو بھلائی نہیں جا سکتی کبھی وہ یہ ہے کہ بھپی لہری نے بالی وڈ کو youthیعنی کہ ’’نوجوانی‘‘ دی۔گانے پہلے بھی بہت اچھے بنتے تھے لیکن ان میں کہیں نہ کہیں کلاسیکی موسیقی کی جھلک ہوتی تھی۔ گلوکار بھی ایک ہی پیٹرن پر گاتے تھے، کبھی بھی بالی وڈ کے میوزک کا مقابلہ پاپ میوزک سے نہیں کر سکتے تھے۔
بھپی لہری نے صرف پانچ الفاظ سے اسے ہمیشہ کیلئے بدل دیا اور وہ پانچ لفظ تھے I am a dsco dancer،صرف اس ایک گانے سے بالی وڈ میں پاپ میوزک لائٹ نمبرز آگئے۔ ان کو لوگ بالی وڈ کا موسیقی کا نیا باب مانتے ہیں۔ اس سے پہلے گانے عام لوگوں کیلئے بنتے تھے، فیملیز کیلئے بنتے تھے لیکن یہ گانا صرف یوتھ کیلئے تھا انہی کو Targetکیا گیا تھا یعنی نوجوانوں کو۔اس فلم کے ریلیز ہونے پر اس کے ہیرو بھی بہت بڑے سٹار بن گئے لیکن بھپی لہری کوایک الگ ہی مقام ملا۔
جو موسیقی بھپی لہری نے بنائی ایسی دھنیں بالی وڈ میں کوئی نہیں بنارہا تھا۔ جیسے ’’کوئی یہاں ارے ناچے ناچے‘‘ یا پھر ’’یا ربنا چین کہاں رے‘‘ یہ میوزک نوجوانوں کیلئے تھے اور یہی بھپی لہری کی پہچان بنا۔بھپی لہری نے بہت کام کیا لیکن ان کو ہمیشہ ’’ڈسکو ڈانسر‘‘ کیلئے ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ سب سے اچھا گانا تھا بلکہ اس لئے کیونکہ اس سے بالی وڈ میوزک کو نئی راہ ملی جس کے بعد فلمیں بھی بدلیں اور فلم بینوں کی سوچ بھی، اگر بھپی لہری نہ ہوتے تو بالی وڈ کی میوزک اتنے آگے نہ پہنچ پاتی شاید جتنی آج ہے۔