سیاسی مفادات میں گھری تحریک عدم اعتماد!!

181

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جب سے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے ملکی سیاست میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے، آپس کی ملاقاتیں اور رابطے پہلے سے زیادہ تیزی اور جوش خروش کے ساتھ ہو رہے ہیں، پیٹ پھاڑ کر قوم کی دولت واپس قوم کو لوٹانے کا دعویٰ کرنے والے اب انہیں بھر پیٹ کھانا کھلانے اور تحریک عدم اعتماد کی بھرپور منصوبہ بندی کرنے کے لیے اپنے یہاں بلا رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کب پیش کی جائے گی ابھی اس کا فیصلہ ہوناباقی ہے، یہ تحریک کامیاب بھی ہو سکے گی یا نہیں یہ مرحلہ تو بہت بعد کا ہے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ تحریک عدم اعتماد پیش بھی ہو سکے گی یا نہیں۔ بالفرض تحریک کامیاب ہوگئی عمران خان کو گھر بھیج دیا گیا تو کیا ملکی سیاست میں عدم استحکام نہیں آئے گا اور اس کے نتیجے میں جو بھی وزیر اعظم بنے گا کیا وہ ملک میں مہنگائی کے سیلاب کو روک سکے گا جس کے اسباب زیادہ تر ملکی کے بجائے بین الاقوامی ہوتے ہیں اور پھر کورونا کی نئی شکلیں سامنے آگئیں تو کیا ہوگا، اس ایک ڈیڑھ سال کے عرصے کے لیے اپوزیشن جس کو بھی لائے گی وہ اگر ناکام ہو گیا تو یہ پوری اپوزیشن کی ناکامی ہو گی اور اس درمیان میں عمران خان ڈرائی کلین ہو چکے ہوں گے اور 2023 کے انتخابات میں وہ دوتہائی اکثریت سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ کیوں لائی جارہی ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس بات کا جائزہ بھی لے لیا جائے کہ ہر سیاسی جماعت بالخصوص حزب اختلاف کی جماعتوں کے وہ کون سے مفادات ہیں جو اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ آئندہ عام انتخابات میں کیا منصوبہ بندی رکھتے ہیں، ان سب جماعتوں کا الگ الگ جائزہ لینے کی ضرورت ہے سب سے پہلے جمعیت علمائے اسلام کی بات کرتے ہیں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن اس حکومت کے پہلے دن سے شدید مخالف ہیں اور یہ مخالفت حقیقی مخالفت ہے دیگر تمام سیاسی رہنمائوں کی بہ نسبت مولانا اب تک حقیقی اپوزیشن لیڈر کا رول ادا کرتے رہے ہیں کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو عمران خان سے خدا واسطے کا بیر ہے اور مولانا کے رویوں میں ذاتی مخاصمت کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں مولانا کو تحریک انصاف نے جو سیاسی جھٹکا دیا ہے اس کی چوٹ بڑی گہری ہے اور مولانا نے اس شکست کو اپنے دل پر لے لیا ہے، حالانکہ پرویز مشرف کے زمانے میں وزیر اعظم کے انتخاب میں مشرف کے امیدوار جمالی کے مقابلے میں عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو ووٹ دیا تھا اس کے علاوہ ایک اور موقع پر وہ شاید سی پیک کے حوالے سے تھا جب دونوں جماعتوں کا موقف یکساں تھا بہر حال اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی طرح مولانا کے اوپر کرپشن کا کوئی اتنا بڑا الزام نہیں ہے اور نہ ہی کبھی عمران خان نے مولانا پر کوئی الزام لگایا ہے کچھ صحافی حضرات زمینوں وغیرہ کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں۔ بس یوں سمجھ لیں عمران خان کے خلاف لانگ مارچ ہو تحریک عدم اعتماد ہو یا استعفے دینے کا مسئلہ ہو مولانا ہر حوالے سے پر جوش ہیں کہ وہ کے پی کے میں اپنی شکست کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مولانا کے بعد مسلم لیگ ن اس تحریک عدم اعتماد کے لیے اتنی پر جوش کیوں ہے۔ ان کا مسئلہ کرپشن کا ہے عمران خان کہتے ہیں کہ ان شریفوں نے جو قوم کی دولت لوٹی ہے وہ واپس کر دیں دوسرا مسئلہ نواز شریف کی بیماری کا ہے جس کو ن لیگ اپنی سیاست کے لیے استعمال کررہی ہے، ویسے تو حقیقتاً نواز شریف بیمار تو ہیں لیکن اگلے انتخابات میں خود پانچویں بار وزیر اعظم بننے کی خواہش دل کے کسی کونے میں رکھتے ہیں، اس کے لیے وہ تاحیات پابندی کی رکاوٹ ہٹانے کے لیے عدلیہ کو نہیں بلکہ کچھ دیگر ناراض دوستوں کو منانے کی کوشش کررہے ہیں معروف صحافی ہارون رشید نے بتایا فی الحال تو نواز شریف کو مایوسی ہوئی ہے لیکن وہ اپنی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ن لیگ کا دوسرا آپشن پھر مریم نواز ہیں اب رہا معاملہ شہباز شریف کا، تاثر تو یہی دینے کی کوشش کی جارہی ہے اگلے وزیر اعظم شہباز شریف ہوں گے، دوسری طرف سرکاری حلقے پر امید ہیں کہ 28فروری کو ان پر فرد جرم عائد کردی جائے گی آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے شاید ایسا ہوچکا ہو، یہ بات تو قانون کا علم جاننے والے ہی جانتے ہوں گے کہ کیا کرپشن کے کیس میں تاحیات نااہلی کی سزا ہو سکتی ہے اگر ایسا ہوا تو مریم صفدر کے لیے راستے صاف ہو جائیں گے۔
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد 2023 کے الیکشن تک کے لیے عارضی سیٹ اپ کیا ہوگا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ن لیگ اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتی وہ پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں کو موقع دینا چاہے گی تاکہ پورے ملک میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے اس لیے کہ جب عمران خان کو اس طرح ہٹایا جائے گا تو وہ سیاسی طور پر مظلوم بن جائیں گے کہ ایک ایماندار آدمی جو خلوص دل سے قوم کی غربت دور کرنے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس پاکستانی عوام کو دلانے کی کوششو ں میں تھا اس کا دامن بھی صاف تھا ان بے ایمانوں کے ٹولوں نے اسے کام نہیں کرنے دیا، اس طرح کے اور بہت سارے ایسے نکات ہیں جن کی وجہ سے عمران خان بہت آسانی سے اگلا معرکہ سر کرلیں گے ن لیگ ان چیزوں کو سمجھتی ہے اس لیے وہ عارضی سیٹ اپ میں شامل نہیں ہوگی بلکہ ملک میں اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم بنانے کی مہم میں لگ جائے گی۔
اس تحریک عدم اعتماد سے پیپلز پارٹی کو کیا فائدہ ہوگا اس کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ عارضی سیٹ اپ کیا بن رہا ہے سننے میں آرہا ہے کہ پی پی پی کے پرویز اشرف کو عبوری وزیر اعظم بنایا جارہا ہے، اگر پنجاب میں بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم آئی تو وہ آسانی سے کامیاب ہو جائے گی تحریک لانے والے سیاستدان ق لیگ کے پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں اور آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی یہ پیشکش برقرار ہے گی چودھری برادران بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے سیاستدان ہیں وہ ن لیگ کی سابقہ بے وفائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہی اپنے لیے کوئی فیصلہ کریں گے کہ نواز شریف پر اعتماد کیا جائے یا عمران خان پر۔
زرداری صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دو چیزوں کے لیے سنجیدہ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں پہلی تو یہ کہ پنجاب میں اپنی سیاسی بنیادوں کو مستحکم کریں دوسرے یہ کہ بلاول زرداری کو آئندہ کے لیے وزیر اعظم بنایا جائے، عارضی سیٹ اپ میں پی پی پی کا وزیر اعلیٰ ہوگا تو اس کے ذریعے سے وہ پنجاب کے الیکٹیبلز کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے اور چاہیں گے کہ صوبہ پنجاب سے اتنی نشستیں مل جائیں کہ سندھ اور بلوچستان کے اپنے ارکان کو ملا کر مرکز میں آسانی سے حکومت بنالیں۔ یہ ہیں تمام سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مفادات کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو آئندہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک آلہ بنانا چاہتے ہیں۔