جھوٹ پر سزا ؟

163

پاکستان میں اوپر سے نیچے تک ماشا اللہ اس قدر جھوٹ بولا جاتا ہے کہ جھوٹ کو اقتدار اور کرپشن کا مائی باپ مانا جاتا ہے۔حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بولنےکے لئے خوشامد کے میٹھے زہر سے نجات حاصل کرنی ہو گی۔ایک دن حجاج بن یوسف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تفریح کے لئے نکلا ،راستے میں اسے ایک بوڑھا شخص ملا۔حجاج نے اس سے پوچھا کہاں سے آرہے ہو ؟ بوڑھا بولا ’فلاں شہر سے ‘۔حجاج نے پوچھا ’تمہارا اپنے نئے حاکم حجاج کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بوڑھابرہم ہوتے ہوئے بولا ’ اس خبیث کا کیاپوچھتے ہو،سر زمین عراق پر اس سے برا حکمران اس سے قبل کوئی نہیں آیا ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو غارت کرے اور اسے بھی غارت کرے جس نے اس کو والی بنایا ہے‘ حجاج نے کہا ’ تمہیں معلوم ہے میں کون ہوں ؟ بوڑھے نے نفی میں سر ہلایا۔حجاج نے کہا ’میں ہی حجاج ہوں‘۔بوڑھے نے لرزتے ہوئے کہا’آپ پر قربان جائوں ،میں فلاں بن فلاں ہوں اور مجھے ہفتے میںدو دن دورہ پڑتا ہے جس کے دوران میری زبان سے کیا نکلتا ہے خود مجھے بھی معلوم نہیں ہوتا اور آج میرے دورے کا دوسرا دن ہے۔حجاج کو بڈھے کی حاضر دماغی پر ہنسی آگئی۔پاکستان میں بھی وہی عقل مند ہے جو موقع کی مناسبت سے پینترا بدل جائے،قلم جھول جائیں،زبان لڑ کھڑا جائے، خوشامدانہ ’’دورے‘‘ پڑنے لگیں۔پہلے حجاج جیسے جابر حاکم بھی اپنی رعایا سے اپنی رائے سننا چاہتے تھے اور آج شریف حاکم بھی اپنے بارے میں صرف تعریف سننا چاہتے ہیں،عقل مندوں کودورے تو پڑیں گے۔مفاد پرست بڑے فنکار لوگ ہوتے ہیں،بلا کے بلیک میلرز ہیں، ان کی حکومتوں سے مطلوب مفادات سے عام شہری لا علم ہوتے ہیں۔حکومت کی خوشامد کرنے والے تو پکے مفاد پرست ہوتے ہیں۔ نیا اعلان ارشاد ہوا ہے کہ جھوٹی خبروں پر 5 سال سزا ہو گی۔ جھوٹے وعدوں پر 5 سال اقتدار جائز ہے ؟ کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام سے بولے گئے تمام جھوٹ پر کتنے برس سزا بنتی ہے ؟ بادشاہ سلامت کی نجی زندگی پر افواہ اڑائی جائے تو چھوٹی خبر پر پانچ برس قید کا قانون بنانے کا حکم صادر فرما دیا۔نیک کام کی شروعات اپنی ذات سے کرکے عملی نمونہ پیش کریں۔عمران خان کی حکومت کے 100 دن میں 50 لاکھ گھر ایک کروڑ نوکریاں نیا پاکستان ، سرمائے کی ریل پیل ، باہر سے لوگ پاکستان سرمایہ کاری کرنے آئیں گے ، آئی ایم ایف کو طلاق ،نظام تعلیم۔ انصاف اور صحت امیر غریب کے لئے یکساں ، نواز اور زرداری جیل میں لوٹا ہوا مال ملکی خزانے میں ، ماڈل ٹائون کے قاتل کیفر کردار تک ،فحاشی ختم ، ریاست مدینہ ، سحر انگیز تبدیلی ، وزیر آعظم ہائوس کو یوینورسٹی ، عافیہ صدیقی کی رہائی ، آزادی کشمیر ، کرپشن کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ 5 سال کے اقتدار کے لئے اتنے جھوٹ ؟۔اقتدار میں جو آیا اس ملک کے لئے آزمائش ثابت ہوا۔ دنیا میں پاکستان واحد بد نصیب ملک ہے جس کو اس کے اپنے ’’اپنا‘‘ ماننے کے لیئے تیار نہیں۔ لوٹ مار، چور بازاری، دھوکہ دہی اور ضمیر فروشی کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ اس دوڑ میں کوئی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ جب دیکھتا ہے کہ یہاں سب گھات لگائے بیٹھے ہیں تو ’’میں کیوں پیچھے رہ جائوں ‘‘ کی دلیل اسے ’’بے شرم‘‘ بنا دیتی ہے۔ بد عنوانی کا پیمانہ چھوٹا ہو یا بڑا، خود کو قائل کرنے کے لئے ہر شخص نے اپنے ضمیر میں ایک ٹیپ نصب کر رکھی ہے جو ہر موقع اور مقام پر بجنے لگتی ہے ’’پاکستان کو بچانے کا صرف میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا، جب سب کھا رہے ہیں، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہے ہیں، بیرون ملک اثاثے چھپا رہے ہیں، پاکستان کی تکہ بوٹی بنا رہے ہیں، نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں تو پھر میں کیوں شرافت کی چادر اوڑھ کر بیٹھ جائوں ؟ ’’میں پیچھے کیوں رہ جائوں‘‘۔۔۔ضمیر کو دلائل کی گھٹی دے کر سلا دیا جاتا ہے۔ اس چار دن کی زندگی کے لیئے لوگ جی بھی رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ موت اور بعد از موت کی نا ختم ہونے والی زندگی کے بارے میں نہ کسی کو خوف ہے اور نہ فکر، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر شعبہ اور ادارہ ’’بد چلن اور بد کردار‘‘ ہو چکا ہے۔عمرہ و حج کے نام پر فراڈ ٹریول ایجنسیاں کھول رکھی ہیں۔ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی جاری ہے۔ تعلیمی اداروں میں بد عنوانی ہو رہی ہے۔ سکیورٹی اداروں میں بھی دو نمبر بھرتیاں اور ترقیاں کی جا تی ہیں۔ نجی اداروں میں دھوکہ دہی کا کھیل جاری ہے۔ سیاست اور میڈیا نے تو ’’انھّی‘‘ مچا رکھی ہے۔ سب اپنے سگے ہیں،ملک کے سگے قبروں میں جا سوئے اور جو چند ایک ایماندار نسلیں موجود ہیں، انہیں بھی ملک سے زیادہ اپنی عزت کی فکر ہے۔اکثر ایماندار لوگ بزدل ہوتے ہیں، ورنہ پاکستان میں لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ ’’اس ملک میں بے ایمانی کے بغیر گزارا نہیں ،اس ملک میں شریف خاندان تو رہ سکتا ہے، شریف آدمی نہیں رہ سکتا! ضمیر پر مستقل ٹیپ نصب ہے کہ ’’آج حکومت ہے کل نہیں، ہاتھ آیا موقع کیوں جانے دیں، پہلوں نے شرم نہیں کی تو ہم شرم کیوں کریں، کیا ہم نے ہی اس ملک کو بچانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، اس عوام کا کیا ہے،کل ہمارے ساتھ تھی، کل کسی اور کو ووٹ دے گی، اقتدار کا فائدہ اٹھائو،کھائو اور کھلائو،آج کے بنائے تعلقات کل کام آئیں گے۔ حکمرانوں کے ضمیر میں نصب اس ٹیپ کی بازگشت نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اب ہر طرف سے یہی گونج سنائی دیتی ہے کہ ’’جب سب لوٹ رہے ہیں تو پھرمیں کیوں پیچھے رہ جائوں‘‘۔اگر خاکم بدہن پاکستان نہ رہا تو مسلمانوں کے لیئے یہ دنیا جہنم بنا دی جائے گی۔ پاکستان کی بقا ء میں مسلمانوں کی بقا ء ہے،اسی لیئے تو پاکستان کو راکھ بنادینا چاہتے ہیں۔