’’بڑے بے آبرو ہو کر ہرکوچے سے وہ نکلے‘‘

77

اس ملک میں کرپشن کو بے نقاب کرنا جان جوکھوں کاکام ہے۔ بعض چینلز پر اینکروں کی ٹیم یہ کام کرتی ہے لیکن یہ لوگ بے شمار خطرات اور دھمکیوں کے حصار میں رہتے ہیں۔ اس شعبے میں خواتین بھی ہیں۔ ایک خاتون کو زہر دینے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ یہ لوگ فائرنگ کی زد میں بھی آتے ہیں مگر بعض لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ ان میں ایک نام بہت نمایاں ہے وہ ’’سرعام‘‘ کی ٹیم کے سربراہ اقرار الحسن کا ہے۔ یہ بہادر انسان کرپشن کے کرتا دھرتائوں کے گڑھ میں بڑی دیدہ دلیری سے گھس جاتا ہے دیکھنے والے بھی خائف رہتے ہیں کہ اس کا بچنا ایک معجزہ ہو گا۔ کون سا ایسا شعبہ ہے جس کی بدعنوانیوں کو ان کی ٹیم نے بے نقاب نہیں کیا۔ اکثر پولیس بھی ان کا ساتھ دینے میں گھبراتی ہے۔
14فروری کو حسن صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایک آئی بی کے افسر کو رشوت لیتے ہوئے پکڑا تھا۔ ان کی ٹیم جائے واردات کی تمام ویڈیو بھی بنا لیتی ہے جس پر انکار کی گنجائش نہیں رہتی۔ ان کے کیمرے توڑ دئیے جاتے ہیں مارپیٹ بھی کی جاتی ہے لیکن جب اقرار الحسن اس رشوت خور افسر کی شکایت معہ ثبوتوں کے لے کر ان کے افسران بالا کے روبرو حاضر ہوئے تو انہوں نے جو ان کا اور انکی ٹیم کا حشر کیا وہ بڑا شرم ناک، عبرت ناک اور مجرمانہ ہے۔ آئی بی کے پانچ افسران کو معطل کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جب معاملہ ٹھنڈا ہو جائے تو ان افسران کی معطلی بھی ختم ہو جائے اور دوسروں لوگ جو کرپشن کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں وہ اپنے مشن سے دست بردار ہو جائیں کیونکہ ان کے ساتھ مجرمان سے بھی زیادہ بدترین سلوک کیا گیا۔ ان کی توہین تو ایک طرف رہی انہیں برہنہ کیا گیا اور نازک اعضا پر بجلی کے جھٹکے دئیے گئے۔ کیا یہ قابل علاج ہے؟؟ ان کی مردانگی کو بھی چھین لیا گیا۔ اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو اس پر سخت اقدام لینا چاہیے ورنہ برائیوں سے معاشرے کو پاک کرنے کا جذبہ ختم ہو جائے گا کیا عدالتیں کوئی صحیح اقدام اٹھائیں گی؟ یا اب جرائم کو کھلی چھٹی مل جائے گی؟
حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلانے کا بڑا شور اور غلغلہ اپوزیشن مچارہی ہے۔ پھولن دیوی اپنی شہادت کی انگلی ہلا ہلا کر دھمکیاں دے رہی ہے۔ ’’لندن نہیں بھاگنے دیں گے(جیسے تمہارے پیارے بھگوڑے ابو بھاگ گئے) پائی پائی کا حساب دینا پڑے گا‘‘۔ حساب کسے دینا ہے اور کون لے گا پہلے تو تم لوگ کوڑی کوڑی دھیلے دھیلے کا حساب دو۔ پھر تم کس منہ سے حساب مانگ رہی ہو۔ تم تو سر سے پاؤں تک کرپشن میں اپنے خاندان سمیت ڈوبی ہوئی ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ پہلے تم اپنی حیثیت کا تعین کرو۔ اللہ کی شان چور اچکے، ڈاکو، ڈکیت، صادقوں سے حساب مانگ رہے ہیں۔ اب تو پوری قوم تم اور تمہارے خاندان سے حساب مانگے گی۔ جن کا پیسہ تم نے لوٹا ہے اور نسلوں تک انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ ’’ظالموں جواب دو، ظلم کا حساب دو‘‘
ن لیگی جوکر جنہیں گریبان سے پکڑکر سڑکوں پر گھسیٹنے والا تھا آج انہیں کے گھٹنے پکڑے سرنگوں ہے جن لوگوں نے اپنے ادوار حکومت میں دھوکے دئیے، جھوٹے وعدے کئے انہیں کے در پر گداگری کرنے پہنچے اور اپنے مطالبات کا کشکول بڑھا دیا۔ چودھری برادران کی مزاج پرسی کو پہنچے۔ دونوں بھائی صوفوں کی سائیڈ والی گدے دار آرام دہ کرسیوں پر براجمان تھے۔ یہ دونوں شوباز کے دائیں بائیں بیٹھے تھے بیچ میں ایک عام سی کرسی پر شوباز بمشکل اپنی تشریف ٹکائے سکڑ سمٹ کر بیٹھا تھا۔ خوفزدہ تھا کہ ذرا بھی جنبش کی تو لڑھک جائے گا۔ دونوں برادران نے بڑی روکھی پھیکی باتیں کیں۔ چودھری شجاعت نے کہا ہو گا میاں صاحب روٹی شوٹی کھائو عیش کرو یعنی عدم اعتماد وغیرہ کے چکر میں مت پڑو۔ یہ تمہارے بس کا کام نہیں اور پھر مونس الٰہی نے اس پی ڈی ایم کے غبارے میں سوئی نہیں بلکہ سوا گھونپ دیا۔ مولوی صاحب بھی منہ تکتے رہ گئے۔ ویسے بھی چودھری برادران نے کوئی خاص پذیرائی نہیں کی تھی۔ چائے پانی کا بھی کوئی انتظام دکھائی نہیں دیا۔ ’’بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘ مگر ان کے پاس عزت تھی ہی کب بے عزتی خراب ہو گئی۔ آج عوام بخوبی ان کے کرتوتوں سے واقف ہو چکی ہے۔
جون ایلیا کہتے ہیں’’سیاست ایک ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جو چالاکی، عیاری، فریب دہی اور دروغ گوئی سے تعلق رکھتا ہو۔ ایسا سمجھنا ’’سیاست‘‘ کے ساتھ بے حد افسوس ناک ناانصافی ہے۔ سیاست یا ملک داری (حکومت) حکمت سے تعلق رکھتی ہے اور حکمت کی دو قسمیں ہیں ،حکمت نظری، حکمت عملی، منطق، ریاضیات، طب، علم ہیت، طبیعات اور دوسرے علوم سے تعلق رکھتی ہے۔ حکمت عملی کی تین قسمیں ہیں تہذیب، اخلاق، تدبیرمنزل یعنی امور خانہ داری کی تنظیم اور سیاست (یعنی حکومت یا ملک دار) اس کامطب ہے سیاست حکمت عملی کی سب سے برتر قسم ہے۔ سیاست دانوں یا حکمرانوں کی اکثریت جس طرز سیاست پر عمل پیرا ہے کیا اس کا حکمت سے دور کا بھی واسطہ ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ سیاست یا ملک داری چلانے کے لئے لوگوں کا معاشرے کے حکیم ترین اور دانشمند لوگوں کے حلقے سے تعلق ہونا چاہیے۔
تو آج کل کے سیاستدان دانش مند تو کیا نیم حکیم بھی نہیں ہاں خطرہ ٔجان ضرور ہیں۔ اس سیاستدان ٹولے نے عوام کے اعتماد کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ عوام کے اعتماد کو پارہ پارہ کیا ہے۔ عوام نے ان سے امیدیں وابستہ کیں اور سیاستدان انہیں مستقل مایوس کرتے چلے آرہے ہیں۔ کیا حکمرانوں، سیاستدانوں کا گروہ اس صورت حال کو حکمت پسندی، دانشمندی، انسان دوستی کو پیش نظر رکھے گا!
وقت آخر کب تک سنبھلنے، سوچنے، سمجھنے کا موقع دے گا، دل سے ایک صدا بلند ہورہی ہے ’’ہے کوئی جو اس ڈوبتی کشتی کو پار لگا دے، کیا ان چوروں، بھگوڑوں، لٹیروں کے دلوں میں خوف خدا جاگے گا، کیا لوٹی ہوئی دولت واپس آسکے گی یا یہ کوئی خواب ہے دیوانے کا‘‘