علاج را نیست

245

پاکستان اتنے سانحات سے گزرا ہے شائد کوئی دوسرا ملک اتنے سانحات سے نہیں گزرا ہو گا، مگر بقول عمران اس قوم کی قوت برداشت بہت زیادہ ہے، مجھے نہیں معلوم کہ عمران کس قوم کی بات کررہے ہیں، عمران کو قوم کے اجزائے ترکیبی پر غور کر لینا چاہیے تھی، یہ لوگ جن کو قوم کہا جاتا ہے یہ تو قوم رسولؐ ہاشمی کے معیار پر کبھی پورے نہیں اترے، پاکستانی کبھی ایک قوم کبھی تھے ہی نہیں اور اٹھارویں ترمیم کے بعد تو پاکستان میں چار پاکستان ہیں اور ان کو صوبائیت نے بانٹ رکھا ہے یہ چار صوبے کبھی کسی ایک لیڈر اور ایک پروگرام پر متفق ہو ہی نہیں سکتے، یہ تقسیم مفادات کی بنیاد پر ہے پنجاب کا لیڈر سندھ کو قبول نہیں ہو گا اور سندھ کا پنجاب کو گو کہ پنجاب اور کے پی کے اچھی خاصی آبادی سندھ میں منتقل ہو چکی ہے اور صوبائیت کی بنیاد پر یہ افراد سیاسی جماعتوں میں شامل ہو کر اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں، ایسے میں کہاں کی قوم اور کیسی قوم، عمران جس قوت برداشت کا ذکر کرتے ہیں وہ دراصل لاتعلقی ہے ایک صوبے کی دوسرے صوبے سے جو بڑھتے بڑھتے بے حسی بن چکی ہے انہی بنیادوں پر مشرقی پاکستان کو بھی بانٹنے کی کوشش کی گئی تھی اور بہت سی اسلامی جماعتیں مشرقی پاکستان میں سیاست میں سرگرم عمل ہو گئی تھیں مگر بنگال کی بیداری پورے ہندوستان کے لئے ایک مثال رہی مشرقی پاکستان کے لوگوں نے فوج کی ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا، فوج کو مایوسی ہوئی تو مشرقی پاکستان کو مجبور کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش بنا لیں سقوطِ ڈھاکہ پر کچھ دکھاوے کا ملال اور یہ لوگ مشرقی پاکستان کاسانحہ بھول گئے، مولانا ابو الکلام آزاد نے اس کی پیش گوئی بہت پہلے کر دی تھی مگر کسی نے دراڑیں بھرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ پاکستان کی رگوں میں ان دراڑوں کو اور وسیع کرنے کے لئے مذہب کو استعمال کیا جس کی ابتدا مودودی نے ۱۹۵۴ میں کی اور ان فسادات میں دو سو احمدی قتل ہوئے، یہ بھی تو سانحہ ہی تھا جب اس پر اب ختم نبوت کے نام جشن منایا جاتا ہے تو مری میں تو مرنے والوں کی تعداد46 ہی ہے گو حکومتی ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا کی وائرل ویڈیوز کے حوالے سے 23ہی بتارہے ہیں۔
پاکستان میں قوم تو کوئی نہ تھی نہ ہے ساٹھ سال سے فوج نے ملک کے عوام کو قومیتیوں میں بانٹ رکھا ہے اور ہر سال حکومت کے سر پر بندوق رکھ گئی، مری جیسے سانحات تو ہوتے ہی رہے مگر عوام لاتعلق ہی رہے ایبٹ آباد کا سانحہ کس کو یاد رہ گیا جو امداد ڈالروں کی شکل میں آئی وہ جیبوں میں گئی اور ایبٹ آباد کے لوگ آج بھی بے یارو مددگار، سیاست آہستہ آہستہ دو خاندانوں اور اشرافیہ کے دو سو خاندانوں تک محدود ہے جن کے درمیان رسہ کشی جاری ہے Nation buildingکا کام نہ ہو سکا اور نہ ہو سکے گا، HUMAN DEVELOPEMENT ایک اور issueہے جس کا کسی کو خیال نہیں آیا اور ملک اندھیروں میں چلا گیا، ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ عمران فوج کا ایک مہرہ ہے اور یہ جو ہر روز کئی کئی اجلاس کی صدارت کی خبریں آتی ہیں یہ تمام MEDIA CONSUMPTIONکے لئے ہوتی ہیں جن پر ہر روز ٹی وی کئی کئی گھنٹے صرف کرتے ہیں یہ بھی عوام کے ذہنوں میں میٹھا زہر ہے جو انڈیلا جاتا ہے جس کے بعد ان کو اچھی نیند آجاتی ہے ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ میڈیا اینکرز ان کے مسیحا ہیں اور ان کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، میڈیا اینکرز کے PROMOSدیکھ لیجئے ایک سے ایک بقراط مگر یہ جو برسوں سے لیکچر جھاڑنے کے عادی ہیں سادی سی انگلش پڑھنے سے بھی عاری ہیں بین الاقوامی سیاست کو سمجھنا ن کے بس کا روگ نہیں ہے، بے تحاشا شواہد موجود ہیں کہ یہ سب کرپٹ لوگ ہیں جو میڈیا ہائوسز کی پالیسی کے پابند ہیں اور اچھا مشاہرے پر یہ اپنا ایمان تبدیل کر لیتے ہیں، ان میں سے بہت سے فوج کی ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں وہ جو ہیں ناآفتاب اقبال جو کل تک کہتے تھے کہ سوشل میڈیا کی ولدیت کیا ہے آج وہ آج سوشل میڈیا کی ولدیت قبول کر چکے ہیں اور اب الیکٹرانک میڈیا بڑی خبریں سوشل میڈیا سے ہی اٹھاتا ہے مری سانحے کی تمام ویڈیوز ہی وائرل ہوئیں اور انہوں نے ہی حکومت کو آئینہ دکھایا ورنہ سٹریم میڈیا اس سانحے پر چپ سادھ لیتا مجھے نہیں معلوم کہ جسٹس وجیہہ الدین پر مقدمہ کرنے کی جو خبر آئی تھی اس پر میڈیا پر فالو اپ آیا یا نہیں اور وہ شبر زیدی نے کہا تھا کہ ملک دیوالیہ ہو چکا اس پر میڈیا پر کوئی مباحث ہوئے ہوں۔
یہ تو ثابت ہو چکا کہ عمران حکومت کی نہ کوئی رٹ ہے اور نہ ہی ملک میں کوئی نظام، جمہوریت منتخب نمائندے پارلیمنٹ سینیٹ نہ سیاست، اگر ملک میں کچھ ہے تو وہ فوج، مولوی، دوبڑے خاندان اور اشرافیہ جن کو تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر ملتا ہے اور انہی پر ملک کا سارا ٹیکس خرچ ہوجاتا ہے ملک IMFکے ڈی فالٹ کے قریب ہے اگر ایسا ہوا تو سیاست کے سارے PARA TROOPERSاپنا بیگ اٹھا کر چلے جائینگے اور ملک کے ننگے بھوکے لوگوں کو جماعت اسلامی کے سپرد کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان میں کوئی بڑا انسانی المیہ چاہتی ہے تاکہ دنیا امداد لے کر دوڑ پڑے مری میں محکمہ موسمیات کی وارننگز تھیں لیکن حکومت نے آنکھیں بند کر لیں وہ شائد کسی بڑے سانحے کے منتظر تھے چلیں یہ تو ۴۶ جانیں لے کر ٹل گیا اور فواد کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی سانحے کو عوام اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ یاد نہیں رکھتے تو ان کو اطمینان ہے کہ لوگ تین دن ماتم کر کے یہ سانحہ بھول جائینگے مگر حکومت نے ڈالرز جمع کرنے کے لئے منصوبہ بندی شائد کر لی ہے افغانستان میں اگر بھوک نے انسانی المیے کو جنم دیا تو بھوکے وحشی افغانی پاکستان میں داخل ہونگے اور پھر ان مہاجرین کے نام پر امداد جمع ہو سکتی ہے اور اسلامی اخوت کے نام پر یہ افغانی پاکستان میں تحلیل ہو جائیں گے اور پشتون سیاسی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پنجاب سیاست کا تسلط ختم ہو جائیگا، اگر ایسا ہوا تو بقول مراد علی شاہ سندھ کو اس دبائو سے نکلنے کے لئے کچھ سوچنا ہو گا کیونکہ اس مہاجرت کے اثرات سندھ پر بھی پڑینگے یہ سب عالمی ایجنڈا ہی لگتاہے جس میں فوج معاونت کر رہی ہے اور عمان ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور فوج کو معلوم ہے کہ اللہ اور رسول ؐ کے نام پر لپیٹ کر ہر زہر دیا جا سکتا ہے اور اس کام کے لئے دینی جماعتیں ہمہ وقت تیار، سانحہ مری جیسے سانحات ہوتے رہیں گے اس کی وہج یہ ہے کہ پاکستان کو ابتری سے بچانے کا کوئی ارادہ ہے نہیں اس کوئی اور تباہ حالی کی طرف جانا ہے پاکستان عالمی برادری تنہا تو ہو چکا ہے یہ کوئی خود کار عمل تو تھا نہیں یہ تو دیدہ و دانستہ ہی ہوا ہے تو ماتم کون کرے اور کیوں کرے؟