اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی۔۔۔

235

کہاوت ہے کہ کسی شخص کا کردار اور اس کی تربیت دیکھنی ہو تو اسے کھانے کی میز پہ بٹھادو اور پھر دیکھو کہ وہ کھانا کس طرح کھاتا ہے۔ سن تہذیب یو بد تہذیبی دسترخوان پہ نظر آجاتی ہے۔
اسی طرح کسی قوم کے کردار اور تشخص کو پرکھنا ہو اور اس کی تہذیب کا مشاہدہ کرنا ہو تو دیکھو کہ اس کی سڑکوں پہ ٹریفک کس طرح چلتا ہے۔ اب میں آپ سے کیا کہوں کہ آپ خود اس کے شاہد اور گواہ ہیں کہ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کی سڑکوں پر ہر روز کیا قیامت بپا ہوتی ہے اور تہذیب سے عاری کیا کیا مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کا ایک ذاتی نقصان تو مجھ گنہگار کے حق میں یہ ہے کہ اب جب بھی پاکستان لوٹ کر جاتا ہوں تو وہاں گاڑی چلانے کی جسارت نہیں کرتا کہ اس بڑھاپے میں وہ سرکس کی مہارت کہاں سے لاؤں جس کے بغیر وہاں کی سڑکوں پہ گذارا نہیں ہوتا۔
لیکن کسی قوم کے کردار اور اس کی تہذیب کو جانچنے کی ایک اور بھی مسلمہ کسوٹی ہے اور وہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ ابتلا اور آزمائش میں کیا کرتی ہے، کیسے اپنے میں وہ اعتدال باقی رکھتی ہے یا نہیں جس کے بغیر کوئی قوم مہذب ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ دوسرے آسان لفظوں میں جب وقت کڑا ہو اور کسی آفت، کسی بلائے ناگہانی کا سامنا ہو تو قوم کس طرح اس سے نبرد آزما ہوتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں تہذیب ہے،انسانیت ہے یا وہ آزمائش کی گھڑی میں تہذیب اور قانون کی پاسداری کو بالائے طاق رکھ کے ان جانوروں کی طرح سے ہوجاتی ہے جو جنگل میں پیدا ہونے والی کسی بھی ہلچل سے بوکھلا کے ادھر ادھر بھاگنے لگتے ہیں اور طاقتور کمزور کے حقوق کو اپنے پیروں تلے روندنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیتا، کسی رکاوٹ کو اپنے پیروں کی زنجیر نہیں بننے دیتا۔
جمعہ، سات جنوری کو ملکہء کوہسار کہلانے والی پر فضا مری میں جو سانحہ ہوا، جو المیہ بیتا، اس کا ماجرا دلگداز ہے۔ اللہ خیر کرے کہ سالِ نو کا پہلا جمعہ تھا جس میں اتنا بڑا حادثہ ہوگیا اور جس کے نتیجہ میں برف کے طوفان میں گھر کر بائیس پاکستانی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ان بائیس میں دس مرد، دو خواتین اور دس بچے شامل ہیں۔ ناگہانی موت تو ایک فرد کی بھی ہو تو ایک حادثہ، ایک افسوسناک واقعہ ہوتا ہے لیکن بائیس قیمتی جانوں کا ضیاع، جس میں دس معصوم جانیں بھی شامل ہوں، ایک سانحہ، ایک المیہ ہے، ایسا المیہ جس پر پاکستانی قوم خون کے آنسو بہائے تو بھی کم ہے۔
لیکن مری کا یہ سانحہ اپنے اندر کے مضمرات سے یوں لگتا ہے جیسے ایک پوری تاریخ رقم کرگیا ہو اور اس تاریخ میں سب سے نمایاں پہلو اس کردار کا ہے جو سانحہ کے رونما ہونے کے بعد دیکھنے میں آیا اور اسی لئے ہم نے کالم کا آغاز ہی ا سے کیا تھا کہ کسی قوم کا کردار کس کس طرح دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔
برف کا طوفان ایک آسمانی یا سماوی آفت کے زمرہ میں آتا ہے اور ظاہر ہے کہ قدرتی آفات پر انسان کا کوئی بس نہیں چلتا لیکن قدرت نے انسان کو علم دیا ہے، عقل دی ہے تاکہ وہ مظاہر قدرت کو دیکھتے ہوئے ان سے علم اور تجربہ حاصل کرے۔ آفات، آسمانی پرانسان کا قابو نہیں ہوتا، یہ اپنی جگہ درست سہی لیکن عقل انسانی اب اپنی ارتقا اور علم کے بل بوتے پر اس قابل ہے کہ وہ ان آفات کے رونما ہونے سے پہلے ہی یہ اندازہ لگا سکے کہ آفت کب اور کہاں رونما ہوگی۔ پاکستان میں بھی موسم کی پیشن گوئی کرنے والے ادارے ہیں جو فعال ہیں اور اپنی استعداد کی بنا پر یہ پیش گوئی کرسکتے ہیں، اور کرتے ہیں کہ فلاں جگہ پر، فلاں شہر یا پہاڑی علاقہ میں فلاں دن کیسا موسم رہے گا۔ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ مری، ملکہء کوہسار تو ہے لیکن جاڑے کے موسم میں وہاں برف پڑتی ہے اور اکثر توقع سے کہیں زیادہ برفباری ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی ہماری دنیا گزشتہ کئی دہائیوں سے موسموں کی تبدیلی سے دو چار ہے، دنیا بھر میں ایک مہم چلی ہوئی ہے کہ دنیا کا موسم بدل رہا ہے اور ہمیں اس طبعی طور پہ بدلتی ہوئی دنیا اور موسموں کے تغیرات سے جنم لینے والی تبدیلیوں کیلئے نہ صرف آمادہ اور تیار ہونا چاہیے بلکہ ایسے بندوبست بھی کرنے چاہئیں جن سے موسمی تغیرات سے کم سے کم تباہی اور بربادی ہو۔
مری میں نئے سال کے پہلے ہفتہ شدید برفباری کے امکانات کی پیشن گوئی محکمہء موسمیات کرچکا تھا۔ یہ بھی بتا چکا تھا کہ کہ جمعہ کے دن غیر معمولی برفباری کا امکان تھا لیکن اس کے باوجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم ایک لاکھ افراد نے مری کا رخ کیا تاکہ وہاں برفباری دیکھ سکیں اور اس سے لطف اندوز ہوسکیں۔
جو حضرات مری جاچکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس پہاڑی شہر کی وسعت کتنی ہے، اس میں کتنے لوگوں کی جگی ہوسکتی ہے۔ ایک لاکھ تو اس بستی، اس شہر کی اوقات سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔ اس میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو اپنے اندر برداشت کرسکے۔ لیکن جہاں غلطی افراد کی حد تک یہ تھی کہ وہ موسم کا احوال جاننے کے باوجود وہاں جانے کیلئے کمربستہ تھے وہیں شہر کے منتظمین اور صوبہ پنجاب، جس کی حدود میں مری واقع ہے، کے اہلکاروں کو سوچنا چاہئے تھا کہ جس شہر میں تین ہزار گاڑیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہے وہاں سیاحوں کی تیس ہزار گاڑیاں کہاں اور کیسے سمائیں گی؟
حادثہ ہوجانے کے بعد واویلا کرنا ہماری قوم کی خصلت نمایاں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ الزام تراشی کا پسندیدہ قومی مشغلہ بھی زور شور سے شروع ہوچکا ہے۔ اس الزام تراشی کے موضوع پر تو بعد میں بات ہوگی پہلے اس کو دیکھ لیا جائے کہ غفلت اور جہالت کا مظاہرہ دونوں طرف سے ہوا، عوام کی جانب سے بھی اور حکومت کی طرف سے بھی۔ عوام کی جہالت یہ کہ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے اوکھلی میں سر دینا پسند کیا۔ یہ پاکستانی قوم کا کردار بن چکا ہے کہ حکومت اور حکومتی اداروں کی جانب سے جو اطلاع بھی فراہم ہو اس پر اعتبار نہ کرنا اور اسے مذاق اور تضحیک قرار دے دینا۔ ایک اعتبار سے یہ بے اعتباری، حکومت اور قوم کے درمیان تفہیم کا یہ کھلا فقدان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قوم نے اپنی حکومتوں اور اپنے لیڈروں کے ہاتھوں اتنے زخم کھائے ہیں، اتنی بار فریب کھائے ہیں کہ حکومت اور سرکاری اداروں پر اعتبار اب صفر کے برابر رہ گیا ہے جو بجائے خود ایک المیہ، ایک ٹریجیڈی ہے اور حکومتوں اور قیادت کے دعویداروں کیلئے ایک لمحہ فکریہء ہونا چاہئے۔
لیکن اس بے اعتباری کو عوام اپنے لئے ڈھال نہیں بنا سکتے اسلئے کہ حکومتوں اور لیڈروں کے انتخاب کی ذمہ داری تو عوام کی اپنی ہوتی ہے اور اگر وہ ایسے لیڈر منتخب کرتے ہیں جن کے قول پر انہیں اعتبار نہ ہو تو پھر سزا کے سب سے پہلے حقدار تو وہ خود ہیں۔
لیکن دلچسپ، بلکہ افسوسناک، حقیقت یہ بھی تو ہے کہ جس حکومت کے قول پر عوام کو اعتبار نہیں اسی حکومت سے کسی بھی مصیبت، کسی بھی دشواری میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہی حکومت اس مشکل کا مداوا بھی فراہم کریگی۔ اس سانحہ میں بھی یہی ہوا۔ لوگ جو برف کے طوفان میں گھر گئے تھے وہ بجائے اسکے کہ اپنی مدد آپ کرتے، اس برف کے انبار سے خود نکلنے کی کوشش کرتے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس انتظار میں اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہے کہ حکومتی امداد آئے گی اور انہیں نکال لیجائے گی۔
ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو اپنی گاڑیوں میں ہیٹر چلاکے بند بیٹھے رہے اور زہریلی گیس کے اخراج کے نتیجہ میں موت کی آغوش میں جا سوئے۔
ہمارے جاگیرداری کلچر کی یہ سب سے بڑی لعنت ہے کہ ہم اپنے ہر کام کیلئے حکومت یا چوہدری کی سرپرستی اور امداد کی طرف دیکھتے ہیں۔ہم اپنی حکومتوں کو ذلیل کرنے اور انہیں پست قرار دینے کیلئے ان کا موازنہ مغربی حکومتوں اور جمہوریتوں سے بلا تکان کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ان مغربی ممالک میں افراد اپنی حد تک کس خوش اسلوبی سے اپنے کام خود کرتے ہیں، اپنے فرائض خود نبھاتے ہیں اور اپنا کام کرنے میں نہ انہیں کوئی ہتک محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی وہ حکومت کو غفلت اور بے حسی کا ملزم قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ بہت عام بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا کوڑا اور کچرا گھر سے باہر نکال کر ٹی وی کیمرہ کے سامنے حکومت کو الزام دیتے ہیں کہ وہ کوڑا نہیں اٹھاتی لیکن خود اتنی زحمت نہیں گوارا کرتے کہ اس کچرے کو اٹھا کر کوڑے کے ڈبے میں ڈال دیں۔
ایک اور لعنت اسی جاگیرداری کلچر کی وہ جھوٹ اور فریب کی سیاست ہے جس کے بل بوتے پر پاکستانی حزبِ اختلاف کے کم ظرف اور کوتاہ نظر پیشہ ور سیاستدانوں نے مری کے اس المناک انسانی حادثہ میں بھی حکومتِ وقت پر دشنام کا بازار ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کھول دیا ہے۔ ہر بے ایمان سیاستداں، اور جن کا تعلق یا تو نواز لیگ سے ہے یا پیپلز پارٹی سے، خاص طور پہ وہ بے ضمیر اور بد دیانت جو اپنے دورِ اقتدار میں عوام کے حقوق پر بیدردی سے ڈاکے ڈالتے آئے ہیں، اب مری کی ہلاکتوں پر مگر مچھ کے آنسو بہارہا ہے اور عمران حکومت پر غفلت اور ناقص کارکردگی کا الزام عائد کررہا ہے۔ شہباز شریف جیسے نامی چور نے تو فوری یہ اعلان کردیا ہے کہ یہ حکومت اور اس کا وزیر اعظم اب حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں۔
اے سبحان اللہ۔ چھاج بولے سو بولے چھلنی کیا بولے جس میں بہتر چھید۔ یہ وہی شہباز، یعنی خود شریف ہے، جس کے خلاف تحقیقاتی ادارے اربوں روپے کی چوری کے فائل تیار کئے اس کے منتظر ہیں کہ اعلیٰ عدالتیں کب اس خائن اور بددیانت کا احتساب کرتی ہیں لیکن اس کی بے غیرتی کا جواب نہیں کہ وہ عمران پر خیانت کا الزام عائد کررہا ہے اور اس کے حاشیہ نشین، لفافہ جرنلسٹ، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس کے دعوے کی صداقت میں اخبارات کے صفحے سیاہ کررہے ہیں اور ادارئیے تحریر کئے جارہے ہیں کہ یہ سانحہ نہ ہوا ہوتا اگر حکومت نے اپنے فرائض درست نبھائے ہوتے۔
حکومت کی طرف سے غفلت ہوئی اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پنجاب کا نالائق اور بے حس وزیرِ اعلیٰ، عثمان بزدار، جس کا چہرہ دیکھ کر ایک پانچویں جماعت کا طالبعلم بھی یہ سوال کرتا ہے کہ عمران خان کو اس کاٹھ کے الو میں کیا صفت، کیا جوہر دکھائی دیتا ہے جو اپنے قریبی رفقاء کی آراء کے برخلاف اس نے اسے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا حاکم و مختار بنایا ہوا ہے؟ اس عثمان بزدار کو جب مری کے سانحہ کی اطلاع ملی تو وہ اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے لیکن انہیں اتنی توفیق نہیں ہوسکی کہ وہ اجلاس برطرف کردیتے اور فوری رخ کرتے مری کا جہاں قیامت صغریٰ بپا ہوگئی تھی۔ موصوف نے یہ بہت جانا کہ سانحہ پر اظہارِ افسوس کی نیت سے ایک عدد ٹویٹ داغ دیا اور سمجھے کہ ان کا فرض ادا ہوگیا۔
حکومت نے بعد از مرگ واویلا کرنا شروع کیا ہے لیکن شروعات وہی ہے جو ہر سابقہ حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔ ایک پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی ہے سانحہ کے اسباب و علل کا جائزہ لینے کیلئے اور برائے نام ایسی تجاویز پیش کرنے کیلئے کہ جن سے ایسے سانحات کو روکا جاسکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ تحقیقاتی کمیٹی کیا چمتکار دکھاتی ہے اور اس مداری کے ہیٹ میں سے کیسا خرگوش برآمد ہوتا ہے۔
لیکن اس پورے سانحہ میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہوئی وہ مری کے ہوٹل مالکان کا رویہ اور کردار ہے جو اس حادثہ کے بعد دیکھنے میں آیا۔ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ آفت زدہ، مصیبت کے مارے لوگ رات گذارنے اور سخت سردی میں سر چھپانے کی جگی کی تلاش میں ان ہوٹل مالکان کے پیر پڑرہے تھے لیکن ان سنگ دلوں میں انسانیت کی کوئی رمق نہیں تھی۔ وہ ایک کمرہ کا ایک رات کا کرایہ پچاس ہزارروپے مانگ رہے تھے۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ معصوم بچے بھوک اور سردی سے بلک رہے تھے، ان کی مائیں ہراساں تھیں کہ انہیں کہاں سلائیں لیکن ہوٹل مالکان کو تو صرف یہ فکر تھی کہ وہ اس آفتِ ناگہانی میں کسی بھی طرح لوگوں کی جیبیں خالی کرسکیں اور ایک رات میں اپنی تجوریاں بھر لیں۔
وہ جو ہم نے آغاز میں کہا تھا کہ قوم کا کردار ابتلا اور آفت میں ہی تو سب سے زیادہ آسانی سے پرکھا جاسکتا ہے تو پاکستانی قوم کا کردار اس ابتلا میں ہر سطح پر پرکھ لیا گیا۔ عوام اپنی جہالت اور لاپرواہی کے شکار ہوئے، پھر حکومت کی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کیلئے مصیبت بنا لیکن انتہا وہاں ہوئی جب زر اور سرمائے کے پجاریوں نے ان کی مشکل اور مصیبت کو اپنے لئے حصولِ زر کا وسیلہ بنایا اور انسانوں کا نہیں بلکہ بے رحم بھیڑیوں کا کردار ادا کیا۔ اور پھر سینہ تان کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری مملکت اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہے نا یہ ایسا مذاق جس پر رونے کو جی چاہتا ہے؟
————————————————————————————————————-